Main Icon

باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 984

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِّنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ اَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرابَهُ وَنَوْمَهُ فَاِذَا قَضٰى اَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلْ اِلٰی اَهْلِهِ.

عن ابی هريرةرضی اللہ عنہ ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:السفر قطعة من العذاب يمنع احدكم طعامه وشرابه ونومه فاذا قضى احدكم نهمته من سفره فليعجل الی اهله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”سفرعذاب کا ٹکڑاہے، یہ تم میں سے کسی کو کھانے پینے اورسونے سے روک دیتا ہے پس جب تم میں سے کوئی اپنے سفر کے مقصد کو پورا کرلے تو جلد ہی اپنے اہل وعیال کے پاس لوٹ آئے۔‘‘

شرح حدیث

سفر عذاب کا ٹکڑا ہے:فیض القدیرمیں ہے:سفرعذاب کاٹکڑاہےکیونکہ دورانِ سفرعموماً مسافر کوبے آرامی،سردی گرمی، آندھی وطوفان،جان ومال کاخوف ،کھانے پینے میں کمی اور اہل و اَحباب سے دوری جیسی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اگرچہ دورانِ سفرضروریات زندگی بالکل معطّل نہیں ہوتیں مگر ان میں کمی ضرور ہو جاتی ہے ۔ اسی لئے مسافر کوحکم ہے کہ جب سفر کا مقصد پورا ہوجائے فوراً گھر لوٹ آئے تاکہ جمعہ و جماعت کی پابندی ہواور وہ حقوقِ واجبہ جواس کی غیرموجود گی میں ادا نہ ہوسکتے تھے ادا ہو سکیں ۔امامُ الحرمین عبد الملک بنعبداللّٰہجُوَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیسے پوچھا گیا کہ سفر کو عذاب کا ٹکڑا کیوں کہا گیا؟آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فوراً جواب دیا:’’اَحباب سے دوری کی وجہ سے۔‘‘مدینہ تو آخر مدینہ ہے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہاں عذاب سے مراد تکلیف دہ ہے نہ کہ سزا کیونکہ بعض سفر تو ثواب ہیں جیسے سفرِ جہاد،سفرِ حج،سفرِِ طلبِ علم وغیرہ مگر یہ سارے سفر تکلیف دہ ضرور ہیں۔عمومًا سفر میں انسان وقت پر کھانا، وقت پر سونا، وقت پر باجماعت نماز گھر کی طرح نہیں کرسکتا۔( اس لئے حکم دیا گیا کہ ) جس مقصد کے لیے گیا تھا وہ پورا ہوجائے(تو فوراً گھر لوٹ آئے )تاکہ نماز کی جماعتیں،حقوق کی ادائیگی اچھی طرح سے ہوسکے۔بعض علمائے کرام(رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَام)نے فرمایا کہ دنیاوی سفروں کے لیے یہ فرمان ہے(کہ سفر سے جلدگھر لوٹ آئے، مگر)سفرِحج و سفرِجہاد وغیرہ کا یہ حکم نہیں۔ مدینہ منورہ یا مکہ معظمہ میں جتنی حاضری نصیب ہوجائے بہتر ہے ۔ مدینہ تو آخر مدینہ ہے، وہ تو ہر مومن کا دیس ہے پردیس ہے ہی نہیں، جیسا سکونِ قلب اداءِ عبادات میں وہاں مُیَسَّر ہوتا ہے گھرمیں مُیَسَّرنہیں ہوتا۔اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسفرسے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:”سفر اگر ضرورت کی وجہ سے ہوتو بقدرِضرورت ہوگا اس کی کوئی حد مقرر نہیں۔تحقیق حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ضرورت پُوری ہوجانے کے بعد جلدی واپسی کاحکم دیا ہے اور(حدیث میں ہے) سفر عذاب کا ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی ایک کو اس کےکھانے پینے اور سونے سے روک دیتا ہےلہٰذا جب تم میں سے کوئی اپنی حاجت پُوری کرلے تو جلدی گھرلوٹے۔ لیکن اگر سفر بلاضرورت ہو اور بیوی کو ساتھ نہ لے کر جائے تو چارماہ سے زیادہ سفر میں نہ ٹھہرے۔ امیر المومنین عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اسی کاحکم فرمایا۔“مدنی گلدستہ’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) سفر عذاب کا ٹکڑا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے انسان کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔
(2) دورانِ سفرعموماً مسافر کوبے آرامی،سردی گرمی،آندھی وطوفان،جان ومال کاخوف،کھانے پینے میں کمی اور اہل و اَحباب سے دوری جیسی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
(3) مسافرکے لئے مستحب ہے کہ جیسےہی سفر کا مقصد پورا ہو فوراً وطن لوٹ آئے ۔
(4) سفر سے واپسی پر یہ نیت بھی کر لی جائے کہ جو حقوق میرے ذمہ ہیں جا کر انہیں ادا کروں گا جمعہ و جماعت کی سعادت حاصل کروں گا ۔
(5) مدینہ منورہ
زَادَ ھَا اللّٰہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماًہر مؤمن کا دیس ہے،جیساسکونِ قلب ادائے عبادات میں وہاں مُیَسَّر ہوتا ہے اپنے دیس میں میسر نہیں ہوتا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سفر میں اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد جلد ہی اہل وعیال کی طرف لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 984