Main Icon

اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 289

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَ يْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دِيْنَارٌ اَنْفَقْتَهُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَدِيْنَارٌاَنْفَقْتَهُ فِيْ رَقَبَةٍ وَدِيْنَارٌتَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِيْنَارٌاَنْفَقْتَهُ عَلَى اَهْلِكَ اَعْظَمُهَا اَجْرًاالَّذِي اَنْفَقْتَهُ عَلٰی اَهْلِكَ.( )

عن ابي هر يرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : دينار انفقته في سبيل الله ودينارانفقته في رقبة ودينارتصدقت به على مسكين ودينارانفقته على اهلك اعظمها اجراالذي انفقته علی اهلك.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک دیناروہ ہےجوتوراہِ خدامیں خرچ کرےاور ایک وہ ہے جس کے

ذریعے غلام آزادکرائے ، ایک وہ جسے تو مسکین پر صدقہ کرے اورایک وہ ہےجسے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے تو اِن میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ ہے جسے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے۔ ‘‘

شرح حدیث

چار جگہ مال خرچ کرنے کی فضیلت:حدیث مذکور میں چار جگہ پر مال خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی : (1)راہِ خدامیں خرچ کرنا (2) غلام آزاد کرانے کے لئے خرچ کرنا (3)مسکین پر خرچ کرنا اور(4) اہل وعیال پر خرچ کرنا۔ یقیناً یہ سب اُمور باعثِ فضیلت ہیں۔ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاہل خانہ پر خرچ کرنے کی افضلیت بطورِخبر بیان کرکے بہت ہی دلنشین اَنداز میں اِس کی ترغیب دلائی کیونکہ کسی نیک کام کی فضیلت بیان کرنا سامعین کے لئے باعثِ حرص وترغیب ہوتا ہےجیسا کہ خطرناک چیزوں کی معرفت اُن سے بچنے کاباعث بنتی ہے۔اہل وعیال پر خرچ کے افضل ہونے کی وجہ:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ راہِ خدا میں مال خرچ کرنا۔ یہاںﷲ∞تعالیٰ کی راہ سے مراد حج و جہاد وغیرہ و ہ مقامات ہیں جہاں کسی بندے کی رضا قطعاً مقصود نہ ہو۔ غلام آزاد کرانے میں خرچ کرنا۔ اِس میں مکاتب کی امداد ، غلام کی آزادی ، مقروض کو قرض سے آزاد کرانا ، کسی مصیبت میں پھنسے ہوئے کو اُس مصیبت سے نکالنا سب ہی داخل ہیں ، نہایت جامع کلمہ ہے ۔ گھر والوں پر خرچ اِن سب خیراتوں سے یا تو اِس لئے بہتر ہے کہ وہ خیراتیں نفل تھیں اور یہ خرچ فرض ہے۔ اکثر فرض نفل سے بہتر ہوتاہے یا اِس لیے کہ اِس خرچ دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ، اہلِ قرابت کے حق کی ادائیگی بھی اور دو نیکیاں ایک نیکی سے افضل ہیں۔ اِسی لیے بعض لوگ گیارھویں شریف وغیرہ کی شیرینی اکثر سیّدوں کو دیتے ہیں کہ یہ حضرات اولادِ رسول ہیں ، اِس میں خیرات بھی اور اولادِ رسول کے حق کی ادائیگی بھی ، اِن کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ ‘‘( )
اہل خانہ پر خرچ کرنے کے فضائل:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور کی شرح سے معلوم ہو اکہ اہل وعیال پر خرچ کرنا دوسروں پر خرچ کرنے سے افضل ہے کیونکہ اِس میں کئی نیکیاں جمع ہوجاتی ہیں اورجس عمل میں جتنی زیادہ نیکیاں ہوں وہ اتنا ہی زیادہ افضل ہوتا ہے ا ور بھی کئی اَحادیثِ مبارکہ سے یہ بات بخوبی معلوم ہو تی ہے کہ اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے رزقِ حلال کمانا بہت فضیلت والا عمل ہے بلکہ ایسا شخص راہِ خدا میں شمار کیا جاتا ہے اوراُس کا یہ عمل بروزِ قیامت سب اَعمال سے پہلے میزان میں رکھا جائے گا۔ اِس ضمن میں2اِیمان افروز اَحادیث ملاحظہ فرمائیے :
(1) ایک شخص تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب سے گزرا تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اُس کے پھرتیلے بدن کی مضبوطی اورچستی دیکھ کرعرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کاش! اس کا یہ حال اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہوتا۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اگر یہ اپنے چھوٹے بچوں کے لئے رِزق کی تلاش میں نکلا ہے تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر اپنے بوڑھے والدین کے لئے رِزق کی تلاش میں نکلا ہے تو بھی یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے۔ اگر اپنی پاک دامنی کے لئے رِزق کی تلاش میں نکلا ہے تب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگردکھاوے اور تفاخر کے لئے نکلا ہے تو یہ شیطان کی راہ میں ہے۔ ‘‘( )(2)فرمانِ مصطفے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : “ بندے کے میزان میں سب سے پہلے اُس کے اپنے گھروالوں پر خرچ کئے گئے مال کو رکھاجائےگا۔ “ ( )
کتنا کمانا فرض ہے؟’’آدمی پر کم از کم اتنا کمانا فرض ہے جو اُس کے لئے ، اُس کے اہل وعیال کے لئے ، ادائیگی قرض کے لئے اور انہیں کفایت کر سکے جن کا نفقہ اُس کے ذمہ واجب ہے ۔ ماں باپ محتاج وتنگ دست ہوں تو اُنہیں

بقدرِ کفایت کما کر دینا فرض ہے۔‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’بغداد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)دوسروں کے مقابلے میں اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنے کا ثواب زیادہ ہے ۔
(2)اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے حلال رِزق کمانے وا لا راہِ خدا میں شمارکیا جاتا ہے ۔
(3)بروزِ قیامت بندے کی جو چیز سب سے پہلے میزانِ عمل میں رکھی جائے گی وہ اہل خانہ پر خرچ کیا ہوا مال ہوگا۔
(4)والدین ، اہل وعیال یااپنی ضروریات کو پورا کرنےکے لئے حلال رِزق کمانا عبادت ہے ۔
(5)قرض دار کو قرضے سے نجات دِلانا ، مُصیبت زَدہ کی مصیبت دُور کرنا ، غلام آزاد کروانا یہ سب بہت اجر والے کام ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اہل خانہ اور دیگر مسلمانوں کے حقوق کی صحیح طرح سے ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں دنیا وآخرت میں اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 289