Main Icon

اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 292

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبي وَقَّاصِِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ في حَدِ يْثِهِ الطَّوِيْلِ الَّذِي قَدَّمْنَاهُ فِي اَوَّلِ الْكِتَابِ فِي بَابِ النِّيَةِ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : وَ اِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللهِ اِلَّا اُجِرْتَ بِهَا حَتّٰى مَا تَجْعَلُ فِيْ في امْرَاَتِكَ. ( )

عن سعد بن ابي وقاص رضي الله عنه في حد يثه الطويل الذي قدمناه في اول الكتاب في باب النية ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له : و انك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله الا اجرت بها حتى ما تجعل في في امراتك. ( )

حدیث ترجمہ

ریاض الصالحین کے نیت کے باب میں مذکور ایک طویل حدیث پاک میں حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِن سے ارشاد فرمایا : ’’تم رضائے اِلٰہی کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرو گے تمہیں اُس کااجر دیاجائے گا یہاں تک کہ جولقمہ تم اپنی زوجہ کو کھلاتے ہو اُس پر بھی اَجر دیا جائے گا۔ ‘‘

شرح حدیث

اِسلام اورعورت کی عزت وحُرمت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے اسلام نے عورت کو بحیثیت زوجہ کتنی عزت دی ہے کہ اُس کے ساتھ نرمی و شفقت سے پیش آنے اور اُسے لقمہ کھلانے پر بھی اجر وثواب دیا جاتا ہے۔ اِس حدیث میں ایسی قوموں اور ایسے لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو حقوقِ نسواں کی آڑ میں اِسلام جیسے پاک اور مہذب دِین پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اِسلام ہی نے عورت کو اُس کااصلی مقام ومرتبہ عطا فرمایا۔ مختلف رِشتوں کےاعتبارسےاُسے عزت وحرمت کے مختلف مَراتب عطا فرمائے۔ بیٹی وبہن ہونے کی صورت میں اُس سے پیار ومحبت اوراُس پر لطف کرم کی خاص تاکید فرمائی یہاں تک کہ اُس کی اچھی پرورش پر جہنم سے آزادی کا مژدۂ جانفِزا سنایا۔ زوجہ ہونے کی صورت میں اُس کے ساتھ حُسنِ معاشرت ، عفوو درگزر ، اِحسان وبھلائی اور پیار ومحبت کا عظیم درس دیا ۔ اُن کا لبا س ، قیام و طعام اور دیکھ بھال کی ذمہ داری مَردوں پر لازم فرمائی۔ یہاں تک کہ اُس کی دلجوئی اوراسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانے پربھی شوہر کے لئے اجر وثواب کی نوید سنائی۔ عورت کو بحیثیت ما ں جیسی عزت اِسلام نے دی ، دنیا کے کسی مذہب نے نہ دی ، فقط اِسلام نے ہی یہ بیان فرمایا کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے بلکہ ایک عام عورت کو بھی مسلمان ہو نے کے ناطےایسی عزت دی کہ اُس کی عفت وپارسائی کی حفاظت کا حکم دیا۔ اُس کی طرف میلی نظر ڈالنے والے کو لائق تعزیر ٹھہرایا۔ اُس کی جان ، مال ، عز ت وآبرو کی حفاظت کا حکم دیا ۔ الغرض عورت کو جتنی عزت اور حُرمت اِسلام نے عطا فرمائی کسی اور مذہب نے نہ دی۔حدیث سے ماخوذ چند اہم اُمور کا بیان:شارِحِ حدیث علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں : ’’حدیث مذکورمیں چند چیزوں کا بیان ہے : (1) نیک کاموں میں خرچ کرنا شریعت کو محبوب ہے ۔ (2)اَعمال کادارومدار نیتوں پر ہے۔ (3)اِنسان کواُس کے عمل کاثواب بمطابق نیت ملتاہے ۔ (4)رِضائے اِلٰہی کے لئے اہل وعیال پر خرچ کرنا بھی ثواب ہے۔ (5) مباح کام میں رضائے الٰہی کی نیت کر لی جائے تو وہ بھی نیکی بن جاتا ہے اور اُس پر

ثواب دیا جاتا ہے جیسا کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اِس فرمان سے واضح فرما دیا کہ “ جو لقمہ تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو اُس پر بھی اجر ہے ۔ “ (6)اِنسان کی زوجہ اُس کی دُنیوی مباح لذات وسُرور کا خاص ذریعہ ہے ۔ اُسے اپنے ہاتھ سے لقمے بوقتِ ملاعبت یا کسی خاص خوشی کے موقعے پر کھلائے جاتے ہیں تو یہ حالت طاعات اور اُمورِ آخرت سے دُور ہے ، اِس کے باوجود یہ لقمہ رضائے الٰہی کی نیت سے ثواب ہے تو دیگرمواقع جہاں رضائے الٰہی کے لئے خرچ کیاجائے گا وہاں بدرجہ اَولیٰ ثواب ہوگا۔ (7) اور یہ فرمانِ عالی اِس بات کوشامل ہے کہ جس کام کی اَصل اِباحت ہواور اُس میں رِ ضائے الٰہی کی نیت کر لی جائے تواُس پر بھی اجر ملتا ہے۔ مثلاًنیکیوں پر قوت حاصل کرنے کے لئے کھانا ، عبادت میں مزیدنشاط( چُستی) حاصل کرنے کے لئے سونا ، اپنی زوجہ اور لونڈی وغیرہ سے ملاپ کرنا تاکہ اُن کے حقوق کی ادائیگی ہو ، بدنگاہی اور بدکاری سے حفاظت رہے اور نیک اولا دحاصل ہو اور یہی اِس حدیثِ پاک کامعنی ہے کہ “ تمہارے لئے تمہاری بیوی میں بھی اجر ہے۔ “ ( )
بیوی کو کھلانا اُس کے حقوق میں سے ہے:واضح رہے کہ جس طرح شریعت مُطَہّرہ نے عورتوں پر مَردوں کے حقوق لازم کئے ہیں اِسی طرح مَردوں پر بھی عورتوں کے حقوق لازم ہیں ، جن میں سے یہ بھی ہے کہ جب خود کھائے تو اُسے بھی کھلائے ، جب پہنے تو اُسے بھی پہنائے ، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے کہ کسی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : ’’بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے ؟‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا : ’’جب کھائے تو اُسے بھی کھلائے ، لباس پہنے تو اُسے بھی پہنائے ، چہرے پر نہ مارے ، اُسے بُرا نہ کہےاور قطع تعلق بھی گھر کے اندر ہی کرے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’اِسلام‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اپنی حلال کی کمائی نیک کاموں میں خرچ کی جائے کہ ایسا کرنا شریعت کو محبوب ہے۔
(2)ہرکام میں رضائے الٰہی کی نیت کریں کہ بندے کواس کے عمل کاثواب نیت کے مطابق ملتاہے۔
(3)رِضائے اِلٰہی کے لئے اہل وعیال پر خرچ کرنا بھی باعثِ اجروثواب ہے۔
(4)مباح کام میں رِضائے الٰہی کی نیت کر لی جائے تو وہ بھی نیکی بن جاتا ہے اور اُس پر ثواب دیا جاتا ہے۔
(5)مَرد پر لازم ہے کہ اپنی زوجہ کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرے ، جب خود کھائے تو اُسے بھی کھلائے ، بلاضرورت نہ مارے ، نہ ہی قطع تعلق کرے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنے اور اُن کے حقوق کی صحیح طرح سے ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں دِین و دُنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے ۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 292