Main Icon

اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 296

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْهُ عَنِِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَ لْيَدُ الْعُلْيَاخَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلٰی وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ

وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنىً وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ. ( )

عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ا ليد العلياخير من اليد السفلی وابدا بمن تعول

وخير الصدقة ما كان عن ظهر غنى ومن يستعفف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ خرچ کی ابتدا اپنے اہل وعیال سے کرو ، بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی مالداری رہے ، جو سوال سے بچنا چاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بچالیتاہےاورجو بے نیازی چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بے نیاز کردیتاہے۔ ‘‘

شرح حدیث

پانچ اَہم اُمور کا بیان:حدیثِ پاک میں پانچ اہم باتیں بیان ہوئیں ہیں : (1) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ (2) جب بندہ مال خرچ کرنا چاہے تو پہلے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے۔ (3) بہترین صدقہ وہ جو ضرورت سے زائد مال میں سے دیا جائےاور اُس کے بعد بھی مالداری باقی رہے۔ (4) جو مانگنے سے بچنا چاہتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی مد دفرماتا ہے اور اُسے مانگنےسے محفوظ رکھتا ہے۔ (5) جو بے نیازی چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بے نیاز کر دیتا ہے ۔ ‘‘
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے مذکورہ پانچوں اُمور کی تفصیلی شرح دلیل الفالحین میں نقل فرمائی ہے ، جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے :
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا معنی:اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ سے کیا مراد ہے؟اِس میں محدثینِ کِرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اِختلاف ہے کیونکہ اِس بارے میں مختلف اَحادیث مَروی ہیں۔ شارِحِ حدیث علامہ اِبنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’اوپر والے ہاتھ سے خرچ کرنے والا ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ سے مانگنے والا ہاتھ مُراد ہے۔ یہی معنیٰ قابِلِ اِعتمادہیں اور یہی جمہور کامذہب ہے۔ اِس طرح کی جتنی اَحا دیثِ مبارکہ وارد ہوئی ہیں اِن سب کا حاصل یہ ہے کہ تمام ہاتھوں میں اعلیٰ ترین ہاتھ وہ ہے جو خرچ کرنے والا ہو ، پھر وہ جو مانگنے کے لئے نہ اُٹھے

اور پھر بغیر مانگے لینے والا۔ اور سب سے بُرا وہ ہاتھ ہے جو (بِلاضرورت ) مانگنے کے لئے اُٹھے اور( حق دار کو) دینے سے رُکے۔ ‘‘
صدقے کے بعد مالداری کا معنٰی:فرمایا گیا : “ بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی مالداری باقی رہے۔ “ یعنی جب اِنسان صدقہ وخیرات کرے تو اپنے پاس اتنا مال ضرور باقی رکھے جو اُسے اور اُس کے اَہل وعیال کو کافی ہو ۔ حضرتِ سَیِّدُناامام بغوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’مُراد یہ ہے کہ صدقہ دینے کے بعد بھی اتنا مال باقی رہے جس سے مَصائب میں کام چلایا جا سکے۔ ‘‘بعض نے کہا : ’’اِس کامعنی یہ ہےکہ جسے صدقہ دو اتنا دو کہ وہ مانگنے سے مستغنی ہو جائے۔ ‘‘ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’’اَفضل صدقہ وہ ہے جس کا سبب دینے والے کی مالداری ہو۔ ‘‘ علامہ قُرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ایسی چیز کا حاصل ہونا جس سے حاجت پوری ہو جائے غنا کہلاتا ہے ۔ مثلاً سخت بھوک کے وقت کھانا میسر ہونا ور بے لباسی کی حالت میں لباس مل جانا۔ ‘‘تمام مال صدقہ کرنے کا حکم:شارِحِ حدیث علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’تمام مال صدقہ کرنا اُس کے لئے مستحب ہے جس پر کسی قسم کا کوئی قرض نہ ہو ، نہ اَہل وعیال ہوں ، اگر ہوں تو ایسے نہ ہوں جو بھوک پیاس پر صبر نہ کر سکیں اور وہ خود بھی صابر ہو۔ جس میں یہ سب شرطیں نہ پائی جائیں تو اُسے سارا مال صدقہ کرنا مکروہ ہے۔ اِسی طرح وہ تمام اَشیاء جن کی اِنسان کو ضرورت ہواور اُن کے بغیر ہلاکت یا ضرر نقصان ہو تو ایسی اشیاء کا اِیثار کرنا جائز نہیں البتہ جب حقوقِ واجبہ پورے ہو جائیں تو صدقہ کرنا جائز ہے ۔ ‘‘سوال سے بچنے والے کواللہ عَزَّوَجَلَّکا بچانا:فرمایا گیا : “ جو سوال سےبچنا چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بچالیتا ہے۔ “ یعنی جو کسی سے کوئی چیز مانگنے سے بچتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے مال دے کر اُس کی حاجات پوری فرما دیتا ہے اور اُسے دوسروں سے بے نیاز کر دیتا ہے یا اُس کے دل کو قناعت سے بھر دیتا ہے۔ ‘‘
بے نیازی چاہنے والے کو بے نیازی دینا:فرمایا گیا : “ اور جو بے نیازی چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بے نیاز کر دیتاہے۔ “ یعنی جو لوگوں سے بے نیاز رہنا چاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے اتنا مال اور قناعت عطا فرماتا ہے کہ وہ مزید کا طلبگار نہیں رہتا ۔ جو اُس کے پاس ہے وہی کافی ہوجاتا ہے۔ پس دو کاکھانا تین کو کافی ہو جاتا ہے۔ اِنسان کی نفسانی خواہشات تو اُس کی مرضی پرمُنْحَصِر ہیں ، اگر وہ اپنے نفس کو آزاد چھوڑ دے تو آزاد ہوجاتاہےاور اُس کی خواہشات بڑھتی رہتی ہیں اور اگر اُس کی عادت چھڑا لی جائے تو باز آجاتا ہے ، اور قناعت کا عادی ہوجاتا ہے۔ ‘‘( )حدیث پاک سے ماخوذ چند اہم اُمور:فیوض الباری شرح بخاری میں شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سید محمود احمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی کی ذکر کردہ شرح کا خلاصہ پیش خدمت ہے :
(1) صدقہ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس طرح خرچ کرے کہ وہ خود اور اس کے اہل وعیال محتاج نہ ہوجائیں ، خرچ کی ابتدا اپنے اہل وعیال سے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کا نان ونفقہ واجب ہے ، بیوی بچے وغیرہ پہلے اُن کے اخراجات پورے کیے جائیں۔ عام طور پر لوگ یار دوستوں پر تو خوب خرچ کرتے ہیں اور بیوی بچوں کی پرواہ نہیں کرتے یہ بہت ہی غلط طریقہ ہے۔
(2)اِس حدیث پاک میں اِس طر ف اشارہ ہے کہ سوال کرنا یعنی مانگنا کوئی فضیلت کی بات نہیں ۔ ویسے بھی جو شخص کما کر کھا سکتا ہے اُس کو سوال کرناجائز نہیں ۔ جو صبرو ضبط سے کام لے گا اورسوال کرنے کے بجائے خود کمانے کی کوشش کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی کوشش وسعی میں برکت عطا فرمائے گا اور غیر کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آ نے دے گا۔
(3) آدمی کو پہلے اپنے اہل وعیال کے اخراجات وضروریات کو پورا کرنا چاہیے ، اس کے بعد دوسروں

کو دینا چاہیے کیونکہ بیوی بچوں کا نفقہ واجب ہے اور دوسروں کو صدقہ و خیرات دینا نفل ہے۔ ایک حدیث پاک میں فرمایا گیا : “ مجھے اُس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ! اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس شخص کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے رشتے دار محتاج ہوں اور وہ غیروں کو دے۔ ‘‘ایک اور حدیث میں فرمایا گیا : ’’ قسم ہے اُس کی جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے ! اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُس کی طرف نظر نہ فرمائے گا ۔ ‘‘اِن حدیثوں سے واضح ہوا کہ زکوٰۃ و خیرات وغیرہ میں اَفضل یہ ہے کہ اَوَّلاً اپنے عزیز و اَقرباء کو دی جائے۔ صدقات نافلہ کی رقم وغیرہ تو اپنے ہر عزیز اور رشتہ دار کو دے سکتے ہیں ۔ ماں باپ بھائی بہن اُصُول و فُرُوع سب کو دے سکتے ہیں۔ البتہ زکوۃ ، فطرانہ ا ور صدقات ِواجبہ اپنے اُصول یعنی جن کی یہ خود اَولاد ہے جیسے ماں باپ ، داد ، دادی ، نانا ، نانی وغیرہ اور فُروع یعنی جو اُس کی اولاد میں شامل ہیں جیسے بیٹا بیٹی ، پوتا پوتی ، نواسہ نواسی وغیرہ اِن کو نہیں دے سکتے ۔ ہاں نفل صدقات دے سکتے ہیں بلکہ انہیں دینا ہی بہتر وافضل ہے نیز زکوٰۃ ، فطرہ ا ور صدقاتِ واجبہ کی رُقُوم بھائی بہن اِن کی اولاد ، چچا ، پھوپھی اِن کی اولاد ، ماموں خالہ اور اِن کی اَولاد وغیرہ اگر محتاج ہوں ، صاحبِ نصاب نہ ہوں تو اِن سب کودے سکتے ہیں بلکہ اِنہیں دینا اَفضل و بہتر ہے ۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’نفلی صدقات ‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے کہیں بہتر ہے ، لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ بلا ضرورت کسی سے قرض وغیرہ بھی نہ لیا جائےنیزبلا ضرورت اپنی ذات کے لیے مانگنے والا اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔
(2)بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی بندے کی مالداری باقی رہے ، نفلی صدقات ، ضروریات

وواجبات کی ادائیگی کے بعد زائد مال سے دیے جائیں ۔
(3)سب سے پہلے اچھے سلوک اور خرچ کرنے کے حقدار قریبی رشتہ دار ہیں ، پہلے اُن کے ساتھ حسن سلوک کیا جائےاور اُن پر صدقہ وغیرہ خرچ کیا جائے پھر دیگر لوگوں پر۔
(4)جو کسی سے کچھ نہ مانگنے کی سچی پکی نیت کرلے اور کوشش بھی کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اُسے دوسروں کی محتاجی سے محفوظ رکھتاہےنیز غیب سے اُس کی مدد فرماتا ہے ۔
(5)صدقاتِ نافلہ کی رقم وغیرہ اپنے تمام رشتہ داروں کو دے سکتے ہیں۔
(6)صدقاتِ واجبہ ، زکٰوۃ اور فطرانہ وغیرہ اپنے اُصُول جیسے ماں باپ ، دادا دادی ، نانا نانی وغیرہ اور فُرُوع جیسے بیٹا بیٹی ، پوتا پوتی ، نواسہ نواسی وغیرہ کو نہیں دے سکتے۔
(7)زکٰوۃ ، فطرہ ا ور صدقات واجبہ کی رقوم بھائی بہن ان کی اولاد ، چچا ، پھوپھی ان کی اولاد ، ماموں خالہ اور اُن کی اولاد وغیرہ اگر محتاج ہوں ، صاحبِ نصاب نہ ہوں تو اِن سب کودے سکتے ہیں بلکہ اِنہیں دینا اَفضل و بہتر ہے۔
(8)اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسے شخص کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جو دوسروں پر سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مال ودولت لُٹائے لیکن اپنے قریبی ایسے رشتہ داروں کو نہ دے جو اُس کے مال کے زیادہ حقدار ہوں۔
(9)جو خود کما سکتا ہو اُسے دوسروں سے مانگنا اور بلاضرورت اپنی ذات کے لیے سوال کرناجائز نہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے رشتے داروں کے ساتھ نیکی وبھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ہمیں اپنی حلال کی کمائی راہ ِخدا میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 296