- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 290
اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 290
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي عَبْدِاللهِ ويُقَالُ لَهُ اَبُوْ عَبْدِالرَّحمٰنِِ ثَوبَانُ بْنُ بُجْدُد مَوْلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِيْنَارٌ
يُنْفقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ في سَبِيْلِ الله وَدِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى اَصْحَابهِ في سَبيلِ اللهِ. ( )
عن ابي عبدالله ويقال له ابو عبدالرحمن ثوبان بن بجدد مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : افضل دينار ينفقه الرجل دينار ينفقه على عياله ودينار
ينفقه على دابته في سبيل الله ودينار ينفقه على اصحابه في سبيل الله. ( )
حدیث ترجمہ
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام حضرت سیدنا ابو عبداللہ ، ثوبان بن بجدد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنہیں ابوعبد الرحمن بھی کہا جاتا ہے ، اِن سے روایت ہےکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بندہ جو دینار خرچ کرتاہے اُن میں افضل وہ ہے جسے اپنے عیال پر خرچ کرے اور وہ جسے اپنے راہِ خدا کے جانور پر خرچ کرےاور وہ جسے اپنے راہ ِخدا کے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ ‘‘
شرح حدیث
تین جگہوں پر خرچ کرنا افضل ہے:حدیثِ مذکور میں تین جگہ پراپنا مال خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے : (1) اپنے اہل و عیال پر (2) اپنے راہ ِ خدا کے جا نور پر (3) اپنے اُن ساتھیوں پر جو راہِ خدا کے مُسَافِر ہوں ۔ یقینا ًیہ تینوں جگہیں ایسی ہیں کہ جہاں حلال مال خرچ کرنے سے دِین و دُنیا کی بھلائیاں نصیب ہو تی ہیں ۔ اِن تین اَعمال میں خرچ کرنا موجبِ رَحمت وثواب ہے۔اَہل وعیال پر خرچ کرنا بڑی نیکی ہے:اہل وعیال پر خرچ کرنا بہت بڑی نیکی ہے ۔ یہ ہمارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے امانت ہیں اور امانت کی دیکھ بھال کرنا اوراسے ضائع ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ لہٰذا اپنے اہل وعیا ل کی حفاظت کرنا اور انہیں نقصان و مصیبت سے بچانا ہم پر لازم ہے بلکہ اہل وعیال پر خرچ کرنے سے صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔ چنانچہ ایک بار حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرتِ سَیِّدُناسعد بن ابی وقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشادفرمایا : “ جو بھی مال تو رِضائے الٰہی کے لئے خرچ کرے گا ، اُس پر تجھے اَجر دیا جائے گا حتّٰی کہ جو لقمہ تو اپنی بیوی کو کھلائے گااُس پر بھی تجھے اَجر دیا جائےگا ۔ “ ( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ترتیب کے اِعتبار سے اَفضلیت:حضرت سیدنا علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حدیثِ مذکور میں فضیلت بمطابق ترتیب ہے اوراُن پر خرچ کرنا دوسروں پر خرچ کرنے سے بہتر ہے ۔ یہ علامہ ابنِ مَلِک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول ہے حالانکہ حدیثِ مذکورمیں اِس بات پر دلالت نہیں کہ اِن تینوں میں افضیلت بمطابق ترتیب ہے۔ کیونکہ واو جمع کے لئے ہے نہ کہ ترتیب کے لئے البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں لہٰذا ترتیب سے افضیلت ثابت ہو سکتی ہے جب تک کوئی خاص کرنے والا قرینہ نہ پایا جائے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِۚ-(پ۲ ، البقرۃ : ۱۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان : بےشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں۔
اِس فرمانِ عالیشان میں چونکہ پہلے صفا کا ذکر ہےاِسی وجہ سے حدیثِ پاک میں صفا کے متعلق فرمایا کہ “ اس سے ابتدا کرو جسے رب تعالیٰ نے پہلے ذکر کیا(یعنی صفا سے مروہ کی جانب سعی کی ابتدا کی جائے گی)۔ “ ( )راہِ خدا کے جانور اور راہِ خدا کے ساتھی:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’جو گھوڑاجہاد کےلیے پالا ہو ، اُس پر خرچ کرنا بہتر ہے اور جو گھوڑا اپنی سواری وغیرہ کے لیے ہو ، وہ عیال میں داخل ہےیعنی بال بچے وغیرہ جن کی پرورش ہم پر لازم ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہاں دوستوں سے مراد سفر جہادیا سفر حج کے ساتھی ہیں۔ اُن پر خرچ کرنا دوہرا ثواب ہے ( یعنی ) ساتھی سے سلوک اور حاجی یا غازی کی اِمداد۔ خیال رہے کہ اِس حدیث سے یہ تو معلوم ہوا کہ یہ تین خرچ دوسرے خرچوں سے افضل ہیں ، مگر اِن تین میں سے کون دوسرے سے افضل ہے ، یہ پتا نہ لگا کیونکہ واؤ جمع کے لیے آتا ہے ترتیب نہیں چاہتا لہٰذا ان میں سے ایک دوسرے کی افضلیت موقع و محل کے لحاظ سے ہوگی ، اگر جہاد کی سخت ضرورت آپڑی ہے تو
غازیوں پر خرچ افضل اور گھر والے بہت ہی ضرورت مند ہوں تو اُن پر خرچ بہتر۔ ‘‘( )نیک کام میں خرچ کرنے کا ثواب:جو رِضائے الٰہی کے کسی بھی نیک کام میں بھی اپنا حلال مال خرچ کرے گا ثواب پائے گا بلکہ اچھی اچھی نیتوں کی برکت سے اُس کے چہرے کو چاند کی طرح روشن کر دیا جائے گا۔ چنانچہ پیارے آ قا ، مدینے والے مُصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : ’’جو کوئی سوال سے بچنے ، اَہل وعیال کی پرورش اور پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنے کے لئے رِزقِ حلال کمائے تو بروزِ قیامت اُس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ ‘‘( )کسب حلال میں مشقت پر اَجر:رِزقِ حلال کمانے میں جب مشقت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اُس پر صبر کرنا گناہوں کو مِٹاتا ہے۔ جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : “ گناہوں میں کچھ گناہ ایسے ہیں جنہیں حُصُولِ رِزق میں پہنچنے والا رَنج و غم ہی مٹا سکتا ہے ۔ “ ( )گھروالوں پر رحم کرنے کا اَجر:اپنے اہل وعیال پر نرمی کرنے والوں ، انہیں خوش رکھنے والوں اور اُن پر رحم کرنے والوں کے لئے بخشش کی بشارت ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : “ بروزِ قیامت میرےایک ایسے اُمّتی کو لایا جائے گا جس کے پاس ایک نیکی بھی نہ ہوگی جس کی وجہ سے اُس کے لئے جنت کی اُمیدکی جاسکے لیکن اِس کے باوجود اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر رحم کرے گا اور فرمائے گا : اِسے جنت میں لے جاؤ کیونکہ یہ اپنے گھر والوں پر رحم کیاکرتا تھا۔ “ ( )
ایک اور حدیث پاک میں ہے : “ جس نے اپنے گھر والوں کے دل میں خوشی داخل کی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس خوشی سے ایک ایسی مخلوق پیدا فرمائے گا ، جو اُس کے لئے قیامت کے دِن تک اِستغفار کرتی رہے گی ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’نبی کریم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول(1)اہل و عیال ، راہ ِخدا کےدوست اور راہِ خدا کے جانور ، مال خرچ کرنے کے بہترین مصارف ہیں ۔
(2)اہل وعیال اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بندےکے پاس امانت ہیں ، اُن کی حفاظت بندے پر لازم ہے۔
(3)حکیم یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ، اُس کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہو تی ہے ۔
(4) صدقہ خیرات کی ترغیب دلانا ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے۔
(5)جو مال بھی رضائے الٰہی کے لئے خرچ کیا جائے اُس پر اجر دیا جاتا ہے۔
(6)کسب حلال میں مشقت پر بھی اِس طرح اجر دیا جاتا ہے کہ اِس کے سبب گناہ مٹادیئے جاتے ہیں۔
(7)گھروالوں پر رحم کرنےاور اُن کے دل میں خوشی داخل کرنے پر بھی اجر دیا جاتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لئے حلال روزی کمانے اور اُسے نیک وجائز اُمور میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 290