Main Icon

اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 290

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي عَبْدِاللهِ ويُقَالُ لَهُ اَبُوْ عَبْدِالرَّحمٰنِِ ثَوبَانُ بْنُ بُجْدُد مَوْلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِيْنَارٌ

يُنْفقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ في سَبِيْلِ الله وَدِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى اَصْحَابهِ في سَبيلِ اللهِ. ( )

عن ابي عبدالله ويقال له ابو عبدالرحمن ثوبان بن بجدد مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : افضل دينار ينفقه الرجل دينار ينفقه على عياله ودينار

ينفقه على دابته في سبيل الله ودينار ينفقه على اصحابه في سبيل الله. ( )

حدیث ترجمہ

رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام حضرت سیدنا ابو عبداللہ ، ثوبان بن بجدد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنہیں ابوعبد الرحمن بھی کہا جاتا ہے ، اِن سے روایت ہےکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بندہ جو دینار خرچ کرتاہے اُن میں افضل وہ ہے جسے اپنے عیال پر خرچ کرے اور وہ جسے اپنے راہِ خدا کے جانور پر خرچ کرےاور وہ جسے اپنے راہ ِخدا کے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ ‘‘

شرح حدیث

تین جگہوں پر خرچ کرنا افضل ہے:حدیثِ مذکور میں تین جگہ پراپنا مال خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے : (1) اپنے اہل و عیال پر (2) اپنے راہ ِ خدا کے جا نور پر (3) اپنے اُن ساتھیوں پر جو راہِ خدا کے مُسَافِر ہوں ۔ یقینا ًیہ تینوں جگہیں ایسی ہیں کہ جہاں حلال مال خرچ کرنے سے دِین و دُنیا کی بھلائیاں نصیب ہو تی ہیں ۔ اِن تین اَعمال میں خرچ کرنا موجبِ رَحمت وثواب ہے۔اَہل وعیال پر خرچ کرنا بڑی نیکی ہے:اہل وعیال پر خرچ کرنا بہت بڑی نیکی ہے ۔ یہ ہمارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے امانت ہیں اور امانت کی دیکھ بھال کرنا اوراسے ضائع ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ لہٰذا اپنے اہل وعیا ل کی حفاظت کرنا اور انہیں نقصان و مصیبت سے بچانا ہم پر لازم ہے بلکہ اہل وعیال پر خرچ کرنے سے صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔ چنانچہ ایک بار حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرتِ سَیِّدُناسعد بن ابی وقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشادفرمایا : “ جو بھی مال تو رِضائے الٰہی کے لئے خرچ کرے گا ، اُس پر تجھے اَجر دیا جائے گا حتّٰی کہ جو لقمہ تو اپنی بیوی کو کھلائے گااُس پر بھی تجھے اَجر دیا جائےگا ۔ “ ( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ترتیب کے اِعتبار سے اَفضلیت:حضرت سیدنا علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حدیثِ مذکور میں فضیلت بمطابق ترتیب ہے اوراُن پر خرچ کرنا دوسروں پر خرچ کرنے سے بہتر ہے ۔ یہ علامہ ابنِ مَلِک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول ہے حالانکہ حدیثِ مذکورمیں اِس بات پر دلالت نہیں کہ اِن تینوں میں افضیلت بمطابق ترتیب ہے۔ کیونکہ واو جمع کے لئے ہے نہ کہ ترتیب کے لئے البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں لہٰذا ترتیب سے افضیلت ثابت ہو سکتی ہے جب تک کوئی خاص کرنے والا قرینہ نہ پایا جائے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِۚ-(پ۲ ، البقرۃ : ۱۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان : بےشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں۔
اِس فرمانِ عالیشان میں چونکہ پہلے صفا کا ذکر ہےاِسی وجہ سے حدیثِ پاک میں صفا کے متعلق فرمایا کہ “ اس سے ابتدا کرو جسے رب تعالیٰ نے پہلے ذکر کیا(یعنی صفا سے مروہ کی جانب سعی کی ابتدا کی جائے گی)۔ “ ( )
راہِ خدا کے جانور اور راہِ خدا کے ساتھی:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’جو گھوڑاجہاد کےلیے پالا ہو ، اُس پر خرچ کرنا بہتر ہے اور جو گھوڑا اپنی سواری وغیرہ کے لیے ہو ، وہ عیال میں داخل ہےیعنی بال بچے وغیرہ جن کی پرورش ہم پر لازم ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہاں دوستوں سے مراد سفر جہادیا سفر حج کے ساتھی ہیں۔ اُن پر خرچ کرنا دوہرا ثواب ہے ( یعنی ) ساتھی سے سلوک اور حاجی یا غازی کی اِمداد۔ خیال رہے کہ اِس حدیث سے یہ تو معلوم ہوا کہ یہ تین خرچ دوسرے خرچوں سے افضل ہیں ، مگر اِن تین میں سے کون دوسرے سے افضل ہے ، یہ پتا نہ لگا کیونکہ واؤ جمع کے لیے آتا ہے ترتیب نہیں چاہتا لہٰذا ان میں سے ایک دوسرے کی افضلیت موقع و محل کے لحاظ سے ہوگی ، اگر جہاد کی سخت ضرورت آپڑی ہے تو

غازیوں پر خرچ افضل اور گھر والے بہت ہی ضرورت مند ہوں تو اُن پر خرچ بہتر۔ ‘‘( )
نیک کام میں خرچ کرنے کا ثواب:جو رِضائے الٰہی کے کسی بھی نیک کام میں بھی اپنا حلال مال خرچ کرے گا ثواب پائے گا بلکہ اچھی اچھی نیتوں کی برکت سے اُس کے چہرے کو چاند کی طرح روشن کر دیا جائے گا۔ چنانچہ پیارے آ قا ، مدینے والے مُصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : ’’جو کوئی سوال سے بچنے ، اَہل وعیال کی پرورش اور پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنے کے لئے رِزقِ حلال کمائے تو بروزِ قیامت اُس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ ‘‘( )کسب حلال میں مشقت پر اَجر:رِزقِ حلال کمانے میں جب مشقت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اُس پر صبر کرنا گناہوں کو مِٹاتا ہے۔ جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : “ گناہوں میں کچھ گناہ ایسے ہیں جنہیں حُصُولِ رِزق میں پہنچنے والا رَنج و غم ہی مٹا سکتا ہے ۔ “ ( )گھروالوں پر رحم کرنے کا اَجر:اپنے اہل وعیال پر نرمی کرنے والوں ، انہیں خوش رکھنے والوں اور اُن پر رحم کرنے والوں کے لئے بخشش کی بشارت ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : “ بروزِ قیامت میرےایک ایسے اُمّتی کو لایا جائے گا جس کے پاس ایک نیکی بھی نہ ہوگی جس کی وجہ سے اُس کے لئے جنت کی اُمیدکی جاسکے لیکن اِس کے باوجود اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر رحم کرے گا اور فرمائے گا : اِسے جنت میں لے جاؤ کیونکہ یہ اپنے گھر والوں پر رحم کیاکرتا تھا۔ “ ( )

ایک اور حدیث پاک میں ہے : “ جس نے اپنے گھر والوں کے دل میں خوشی داخل کی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس خوشی سے ایک ایسی مخلوق پیدا فرمائے گا ، جو اُس کے لئے قیامت کے دِن تک اِستغفار کرتی رہے گی ۔ “ ( )
مدنی گلدستہ
’’نبی کریم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)اہل و عیال ، راہ ِخدا کےدوست اور راہِ خدا کے جانور ، مال خرچ کرنے کے بہترین مصارف ہیں ۔
(2)اہل وعیال اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بندےکے پاس امانت ہیں ، اُن کی حفاظت بندے پر لازم ہے۔
(3)حکیم یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ، اُس کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہو تی ہے ۔
(4) صدقہ خیرات کی ترغیب دلانا ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے۔
(5)جو مال بھی رضائے الٰہی کے لئے خرچ کیا جائے اُس پر اجر دیا جاتا ہے۔
(6)کسب حلال میں مشقت پر بھی اِس طرح اجر دیا جاتا ہے کہ اِس کے سبب گناہ مٹادیئے جاتے ہیں۔
(7)گھروالوں پر رحم کرنےاور اُن کے دل میں خوشی داخل کرنے پر بھی اجر دیا جاتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لئے حلال روزی کمانے اور اُسے نیک وجائز اُمور میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 290