Main Icon

اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 293

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِي مَسْعُوْدِ الْبَدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا اَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلٰی اَهْلِهِ نَفَقَةً يَحْتَسِبُهَا فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ. ( )

وعن ابي مسعود البدري رضي الله عنه عن النبی صلى الله عليه وسلم قال : اذا انفق الرجل علی اهله نفقة يحتسبها فهي له صدقة. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابو مَسعود بدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جب کوئی ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے تو وہ اُس کے لئے صدقہ ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

جنت کی بشارت:اِس حدیثِ پاک میں بھی اَہل وعیال پر خرچ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اِن پر بہ نیتِ ثواب

خرچ کرناصدقہ ہے۔ اِسی طرح دیگر کئی اَحادیثِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اَہل وعیال کی نگہداشت کی وجہ سے اٹھائی جانے والی پریشانی پر بھی اجرہے بلکہ جو مسلمان اہل وعیال کی کثرت اور مال کی کمی کے باوجوداچھی طرح نمازادا کرے اورمسلمانوں کی غیبت سے بچےتواُس کے لئے جنت میں رفاقتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بشارت ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’ جس کی نماز اچھی ہو ، اَہل وعیال زیادہ اور مال کم ہو اور وہ کسی مسلمانوں کی غیبت نہ کرے تو جنت میں میرے ساتھ ایسے ہو گا جیسے یہ دو انگلیاں۔ ‘‘( )(یہ کہہ کرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا ۔ )
اَہل وعیال پر خرچ کرنے کی ترتیب:واضح رہے کہ شریعتِ مُطہرہ نے حقوق کی ادائیگی کی بہت تاکید فرمائی ہے اور ساتھ ساتھ حسبِ حال اِس بات کی رہنمائی بھی فرمائی ہے کہ کس ترتیب سے گھر والوں پر خرچ کیا جائے۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صدقہ کرنے کاحکم دیا تو ایک شخص نے عرض کی : ’’میرے پاس دِینارہے۔ ‘‘فرمایا : ’’اپنے اوپر خرچ کر۔ ‘‘عرض کی : ’’ اوربھی ہے۔ ‘‘ فرمایا : ’’اپنی اولاد پر خرچ کر۔ ‘‘عرض کی : ’’اور بھی ہے۔ ‘‘ فرمایا : ’’اپنی زوجہ پرخرچ کر۔ ‘‘عرض کی : ’’اوربھی ہے۔ ‘‘ فرمایا : ’’اپنے خادم پر خرچ کر۔ ‘‘عرض کی : ’’اوربھی ہے۔ ‘‘فرمایا : ’’پھر تو خود بہتر جانتا ہے۔‘‘( )
مذکورہ حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ گھر والوں میں سے جو جتنا زیادہ قریبی ہے وہ اتنا ہی زیادہ اِس بات کا حقدار ہے کہ اُس پر مال خرچ کیا جائے۔
اَہل وعیال پر خرچ کرنا اَبدالوں والا عمل:’’اَبدال ‘‘ اَوْلِیَاءُاللہ کی اَقسام میں سے ایک اعلیٰ قسم ہے ، ہمارے اَسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک رِزقِ حلال کمانا اوراَہل وعیال پر خرچ کرنا اَبدالوں والاعمل ہے۔ چنانچہ مَنقول ہے کہ ایک شخص نے

کسی عالِم صاحب کے سامنے اپنے نیک اَعمال بیان کیے ، یہاں تک کہ حج و جہادوغیرہ کےمتعلق بھی بتایا۔ اُن عالِم صاحِب نے فرمایا : ’’اَبدالوں والے اَعمال کہاں ہیں ؟‘‘اُس نے پوچھا : ’’وہ کون سے اَعمال ہیں؟‘‘فرمایا : ’’حلال رِزق کمانا اور اپنے اَہل وعیال پر خرچ کرنا ۔ ‘‘( )
اَولاد کی دینی تربیت اور اُنہیں خوش کرنے کا اَجر:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! والدین پرجہاں اَولاد کا نفقہ وغیرہ دیناضروری ہے وہیں اُن کی اچھی تربیت بھی لازم ہے۔ اِس لئے بچپن ہی سےانہیں خوب شفقت ومحبت سےاَحکامِ شَرعِیَّہ سکھائیں۔ اُن کی جائز خواہشات پوری کریں ، اُن کی صحت کا خیال رکھیں ، اُنہیں ایسا بہترین دِینی ماحول فراہم کریں جہاں وہ بِلا خوف وجھجک ماں کی مامتا اور شفقتِ پدری کے سائے میں سنتوں کی تربیت پائیں تاکہ علم وعمل ، صِدق واِخلاص ، شفقت ورَحمت ، وفا و سخاوت ، شُجاعت وجُرأت اور دیگر اَوصافِ حَسَنَہ سے مُزَیَّن ہو کر معاشرے میں بہترین کردار ادا کریں۔ اِصلاحِ اُمَّت کا جذبہ اُن کے سینوں میں مُوجِزن ہو اور یوں وہ تِشنگانِ علم و عمل کی سیرابی کا ذریعہ بنیں ۔ بچوں سے پیارو محبت و شفقت سے پیش آنے والوں ، انہیں خوش رکھنے والوں کے لئے تو جنتی گھر کی بشارت ہے چنانچہ حضور نبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’بے شک! جنت میں ایک گھر ہے جسےاَلْفَرح کہا جاتا ہے۔ اِس میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو بچوں کو خوش کرتے ہیں۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
سیدنا امیر’’حمزہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرنا بھی صدقہ ہے ۔

(2)اپنے بچوں کے لئے رِزقِ حلال کمانا اور اُن پر خرچ کرنا اَبدالوں والا عمل شمار کیا گیاہے۔
(3)جس شخص میں عیال کی کثرت ، آمدنی کی قلت ، نماز کی اچھے طریقے سے ادائیگی اور مسلمانوں کی غیبت سے اِجتناب ، یہ چار باتیں جمع ہو جائیں اِس کے لئے جنت میں رَفاقتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم بشارت ہے ۔
(4)جو رِضائے اِلٰہی کے لئے اپنا مال خرچ کرنا چاہے تو اُسے چاہیے کہ پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا جائے پھر دیگر لوگوں پر۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رِزقِ حلال کمانے اور اپنے گھروالوں پر اچھی نیت سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں جنت میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 293