Main Icon

باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 935

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُوْلُ:اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَاَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَـرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْاَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَاَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَاَهْلًاخَيْرًامِّنْ اَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِّنْ زَوْجِهِ وَاَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَاَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ حَتّٰى تَمَنَّيْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَنَا ذٰلِكَ الْمَيِّتَ.

عن ابی عبد الرحمن عوف بن مالك رضی اللہ عنہ قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على جنازة فحفظت من دعائه وهو يقول:اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبـرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الابيض من الدنس وابدله دارا خيرا من داره واهلاخيرامن اهله وزوجا خيرا من زوجه وادخله الجنة واعذه من عذاب القبر ومن عذاب النار حتى تمنيت ان اكون انا ذلك الميت.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک میت کی نمازِ جنازہ پڑھی تو میں نے آپ کی دعا کو یاد کرلیا، آپ نے یوں دعا مانگی:”اےاللّٰہ! اس کی مغفرت فرما ،اس پر رحم فرما، اس کو عافیت دے،اسے معاف فرما ، اسے عزت والا مقام عطا فرما، اس کی قبر کشادہ فرما ، اسے پانی، برف اور اولے سے دھو دے اور اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف رکھا ہے، اسے اس کے دنیاوی گھر کے بدلے بہتر گھر عطا فرما ،اس کے اہل سے بہتر اہل اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عنایت فرما، اسے جنت میں داخل فرما اور اسے عذاب ِ قبر و عذاب جہنم سے پناہ دے۔“(حضرت عوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:یہ سن کر)میں نے خواہش کی کہ کاش میں ہی وہ میت ہوتا۔“

شرح حدیث

نمازِ جنازہ کی دعا بلند آواز سے پڑھنا:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضرت سَیِّدُنا عَوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک میت کی نمازِ جنازہ میں یہ دعا پڑھی تو میں نے یاد کرلی۔ آپ کے بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ میں نے خود حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے سن کر یہ دعا یاد کی، آپ کے حوالہ سے کسی اور سے سن کر یاد نہیں کی۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا نمازِ جنازہ میں بلند آواز سے دعا پڑھنا فقہ کے اس جزیہ کے منافی نہیں ہے کہ نمازِ جنازہ میں دعا آہستہ آواز میں پڑھنا مستحب ہے کیونکہ یہاں آپعَلَیْہِ السَّلَامکا بلند آواز سے دعا مانگنا صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو سکھانے کے لیے تھا نہ کہ کسی اور وجہ سے۔
¥دعائیہ کلمات کی وضاحت:
مذکورہ دعا میں میت کے لیے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی گئی ہے کہ اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!اسے پانی، برف اور اولے سے دھو دے اور اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف رکھا ہےاس کےتحت مرآۃ المناجیح میں ہے:”یہاں رب کی رحمت کوپانی،برف اور اولے کہا گیا کیونکہ ٹھنڈے پانی سے نہانے میں دل کو خوشی، دماغ کو فرحت،جسم کی صفائی اور راحت سب کچھ ہی حاصل ہوتی ہے، یعنی مولیٰ اسے دوزخ کی آگ میں تپاکر صاف نہ کرنا بلکہ معافی اور رحمت کے ٹھنڈے پانی سے(صاف کرنا)۔سفیدکپڑے کی صفائی دور سے محسوس ہوتی ہے اسی لیے سفیدکپڑے کی قید لگائی گئی۔“ اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ ”اسے اس کے دُنیاوی گھر کے بدلے بہتر گھر عطا فرما اور اس کے اہل سے بہتر اہل اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عنایت فرما“ یعنی ’’قیامت کے بعد اسے جنت میں گھر دے، غلمان، خدام دے اور حوریں اور دنیا کی بیوی جو وہاں حوروں سےبھی خوبصورت ہوگی اورجس میں دنیا کی سی ظاہر و باطن کوئی خرابی نہ ہوگی وہ اسے نصیب کر، لہٰذا اس دعا پر اعتراض نہیں کہ جنت میں دنیا کی عورتیں حوروں سےبھی اچھی ہوں گی پھر یہ الفاظ کیوں ارشاد فرمائے گئے۔“
حدیثِ پاک کے آخر میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عوف بن مالک
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ جب میں نے اس میت کے حق میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اتنی دعائیں سنی تو میرے دل میں خواہش ہوئی کہ کاش میں ہی یہ میت ہوتا ”تاکہ مجھےحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اتنی دعائیں نصیب ہوتیں۔معلوم ہوا کہ نبیصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے یہ دعا اتنی آواز سے پڑھی جو قریب کے مقتدیوں نے سن لی۔“مدنی گلدستہ’’دعا‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) میت کے لئے طویل دعا مانگی جائے۔
(2) نمازِ جنازہ میں آہستہ آواز کے ساتھ دعا پڑھنا مستحب ہےاورحضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا بلند آواز سے پڑھنا صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو سکھانے کے لیے تھا۔
(3) دنیا کی جو عورتیں جنت میں جائیں گی ان کا حسن جنت میں حوروں سے بھی زیادہ ہوگا اور ان میں کسی طرح کی ظاہری اور باطنی خرابی نہ ہوگی۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مسلمانوں کے نمازِ جنازہ میں شریک ہونے اور ان کے لیے زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 935