Main Icon

باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 938

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ:اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبُّهَا وَاَنْتَ خَلَقْتَهَا وَاَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْاِسْلَامِ وَاَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَهَا وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِسِرِّہَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ لَهُ فَاغْفِرْ لَهُ.

عن ابی ہريرة رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم في الصلاة على الجنازة:اللهم انت ربها وانت خلقتها وانت هديتها للاسلام وانت قبضت روحها وانت اعلم بسرہا وعلانيتها جئناك شفعاء له فاغفر له.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نمازِ جنازہ کی یہ دعا روایت کرتے ہیں:”اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبُّهَا وَاَنْتَ خَلَقْتَهَا وَاَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْاِسْلَامِ وَاَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَهَا وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِسِرِّھَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ لَهُ فَاغْفِرْ لَهُ‘‘یعنی اےاللّٰہ! تو اس کا رب ہے، تونے اسے پیدا کیا، تونے ہی اسے اسلام کی ہدایت دی ، تونے ہی اس کی روح قبض کی، تو اس کے باطن و ظاہر کو خوب جانتا ہےاور ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں، پس تو اسے بخش دے۔

شرح حدیث

اَلفاظِ دعا کے معانی:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمذکورہ دعائیہ کلمات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اےاللّٰہ(عَزَّ وَجَلَّ)! تو اس کا رب ہے۔“یعنی تونے اپنی نعمتوں کے ذریعے اس کی پرورش کی اور اسے عدم سے وجود میں لایا اور پھر غذا و نعمتوں سے اس کی نگہداشت کی۔”تونے اسے اسلام کی ہدایت دی۔“ یعنی تونے اسے اسلام تک پہنچایا کیونکہ اگر تو اسے ہدایت دینے کا ارادہ نہ فرماتا تو یہ کسی صورت ہدایت یافتہ نہ ہوتا۔”تونے اس کی روح قبض کی۔“ یعنی جن فرشتوں کو تونے روح نکالنے پر مامور کیا ہے انہوں نے اس کے جسم سے اس کی روح نکالی اور پھر فرشتے نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا۔”تو اس کے باطن و ظاہر کو خوب جانتا ہے“ یعنی اس نے زندگی میں اپنا جو بھی عقیدہ یا ارادہ پوشیدہ رکھاتھا تو اسے جانتا ہے اور وہ جو کچھ ظاہر کرتا تھا تو اس سے بھی باخبر ہے اور تو اس کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔”ہم تیرے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں تو اسے بخش دے۔“یعنی اس کے تمام گناہوں سے درگزر فرما۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اگرچہ روح قبض کرنا ملک الموت کا کام ہے مگر چونکہ وہ سب کچھ رب کے حکم سے کرتے ہیں اس لیےفعل کو رب کی طرف نسبت کیا گیا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام اور ایمان کے توسل سے دعاکرنا جائزہے۔“مدنی گلدستہ’’حدیث‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اسلام
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بہت بڑی نعمت ہے جو اس نے ہمیں عطا فرمائی ہے اگر وہ ہمیں اسلام کی طرف ہدایت دینے کا ارادہ نہ فرماتا تو ہم کسی صورت اسلام کو حاصل کرنے پر قدرت نہ رکھتے۔
(2) انسان لوگوں سے اپنا جو بھی عقیدہ یا ارادہ چھپا تا ہے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس سے باخبر ہے۔
(3) اسلام اور ایمان کے توسل سے دعا کرنا جائز ہے۔
(4)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے روح قبض کرنا ملک الموت کے ذمہ لگایا ہے مگر چونکہ وہ سب کچھ رب کے حکم سے کرتے ہیں اس لیے حدیث پاک میں روح قبض کرنے کی نسبتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف کی گئی ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہماری اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 938