Main Icon

باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 936

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ وَاَبِيْ قَتَادَةَ وَ اَبِيْ اِبْرَاهِيْمَ الْاَشْهَلِيِّ عَنْ اَبِيْهِ وَاَبُوْهُ صَحَابِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ عَنِ النَّبِیِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَقَالَ:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَصَغِيْرِنَا وَكَبِيْرِنَا وَذَكَرِنَا وَاُنْثَانَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا اللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَاَحْيِهِ عَلَى الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْاِيْمَانِ اللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ.

عن ابی ہريرة وابي قتادة و ابي ابراهيم الاشهلي عن ابيه وابوه صحابی رضی اللہ عنہم عن النبی صلى الله عليه وسلم انه صلى على جنازة فقال:اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وانثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من احييته منا فاحيه على الاسلام ومن توفيته منا فتوفه على الايمان اللهم لا تحرمنا اجره ولا تفتنا بعده.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ،حضرت سَیِّدُنا ابو قتادہ اور حضرت سَیِّدُنا ابراہیماَشْہَلِیاپنے والدماجد سے کہ جو صحابی ہیںرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْ،اِن سب سے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھی تو یوں دعا مانگی:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَصَغِيْرِنَا وَكَبِيْرِنَا وَذَكَرِنَا وَاُنْثَانَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا اللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَاَحْيِهِ عَلَى الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْاِيْمَانِ اللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُیعنی اےاللّٰہ(عَزَّ وَجَلَّ)! ہمارے زندوں اور مُردوں کو، ہمارے چھوٹوں اور بڑوں کو، ہمارے مَردوں اور عورتوں کو اور ہمارے حاضِر و غائِب کو بخش دے، اےاللّٰہ!تو ہم میں سے جسے بھی زندہ رکھے اُسے اسلام پر زندہ رکھ اور تو ہم میں سے جسے بھی موت دے اُسے ایمان پر موت دے، اےاللّٰہ!ہمیں اس کے ثواب سے محروم نہ کر اور ہمیں اس کے بعد فتنہ میں نہ ڈال۔

شرح حدیث

زندہ اور مُردہ ہر مسلمان کے لیے دعا:مذکورہ حدیثِ پاک میں نمازِ جنازہ میں پڑھی جانے والی دعا بیان کی گئی ہے۔ دعا میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ اےاللّٰہ! ہمارے زندوں اور مُردوں کو، ہمارے چھوٹوں اور بڑوں کو، ہمارے مَردوں اور عورتوں کو اور ہمارے حاضر و غائب کو بخش دے۔”ان چارکلمات کا مقصد دعا کو عام کرنا ہے یعنی صرف میت کے لیے ہی دعا نہ کرے بلکہ سارے زندوں مُردوں کے لیے دعا کرے۔“حدیث پاک میں چھوٹوں اور بڑوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا مانگی گئی ہے، اس سے ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بڑوں کے لیے ان کے گناہوں کی وجہ سے مغفرت کی دعا کرنا تو ٹھیک ہے مگر چھوٹوں کے لیے مغفرت کی دعا کیوں کی جارہی ہے؟ اُن کے تو گناہ ہی شمار نہیں ہوتے۔اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ چھوٹوں کے حق میں دعا بلندیٔ درجات کے لیے کی جارہی ہے نہ کہ ان کی بخشش کے لیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حدیث پاک میں چھوٹوں سے مراد جوان اور بڑوں سے مراد بوڑھے ہوں تو اس صورت میں اشکال وارد ہی نہیں ہوگا کیونکہ جوانوں کی خطائیں بھی لکھی جاتی ہیں لہٰذا ان کے حق میں دعا کرنا بالکل درست ہے۔دعا میں کہا گیا کہ ”اےاللّٰہ! ہمیں اس کے ثواب سے محروم نہ کر اور ہمیں اس کے بعد فتنہ میں نہ ڈال“یعنی ایمان کے ثواب سے محروم نہ کر اور ایمان کے بعدہمیں فتنہ میں نہ ڈال یا میت پرصبرکے اجر سے محروم نہ کر اور توفیق دے کہ ہم بے صبری کرکے فتنہ میں نہ پڑجائیں،چونکہ اسلام میں عقیدہ، کلمۂ شہادت اعمال سب شامل ہیں اس لیے زندگی اسلام پر مانگی گئی اور ایمان صرف عقائد کانام ہے اس لیے موت ایمان پر مانگی گئی کہ اس وقت اعمال نہیں ہوتے۔مدنی گلدستہ’’بخشش‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نمازِ جنازہ میں صرف میت کے لیے دعا نہ کرے بلکہ زندہ مُردہ سب مسلمانوں کے لیے دعا کرے۔
(2) نمازِ جنازہ کی دعا میں چھوٹوں کے حق میں مغفرت کی دعا بلندیٔ درجات کے لیے کی جاتی ہے۔
(3) جب کسی عزیز کا انتقال ہو جائے تو میت کے ساتھ ساتھ اپنے حق میں بھی دعا کرنی چاہیے کہ اے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! تو ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرما اور بے صبری کے فتنہ سے بچا۔
(4) ایمان صرف عقائد کانام ہے اس لیےدعاءِ جنازہ میں موت ایمان پر مانگی گئی کہ اس وقت اعمال نہیں ہوتے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پرفرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 936