Main Icon

باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 937

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ:اِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَاَخْلِصُوْا لَهُ الدُّعَاءَ.

عن ابی ہريرة رضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول:اذا صليتم على الميت فاخلصوا له الدعاء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے:”جب تم میت پر نماز پڑھو تو اس کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرو۔“

شرح حدیث

نماز میں دعا کرنے کی اجازت:عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”جب تم میت کی نمازِ جنازہ پڑھو تو اس کے لیے اِخلاص اور حضور قلبی کے ساتھ دعا مانگو کیونکہ اس نماز کا مقصد میت کے لیے استغفار کرنا اور اس کی سفارش کرنا ہے اور اس سفارش کے قبول ہونے کی اُمید اسی وقت کی جاسکتی ہے کہ جب یہ دعا نہایت اخلاص کے ساتھ اور گڑ گڑا کر کی جائے۔حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اس ارشاد نے ان لوگوں کے قول کو بھی باطل کردیا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ دعا سے میت کو فائدہ نہیں ہوتا۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”اس حدیث کے دو معنیٰ ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ نمازِ جنازہ میں خالص دعا ہی کرو تلاوت قرآن نہ کرو، حمدوثنا درود و دعا کے مقدمات میں سے ہے۔ اس صورت میں یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ نمازِ جنازہ میں تلاوت قرآن ناجائز ہے۔ دوسرے یہ کہ جب تم نمازِجنازہ پڑھ چکو تو میت کے لیے خلوصِ دل سے دعا مانگو۔اس صورت میں دعا بعد نمازِ جنازہ کا ثبوت ہوگا۔خیال رہے کہ دعا بعد نمازِجنازہ سنتِرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمبھی ہے اور سنتِ صحابہ بھی۔ چنانچہ نبیصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے شاہ حبشہ نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھی اوربعد میں دعا مانگی۔حضرتعبداللّٰہابنِ سلام (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ) ایک جنازہ پر پہنچے نماز ہوچکی تھی تو آپ نے حاضرین سے فرمایا کہ نماز تو پڑھ چکے میرے ساتھ مل کر دعا تو مانگ لو۔جن فقہانے اس دعا سے منع کیا اس کی صورت یہ ہے کہ سلام کے بعد یونہی کھڑے کھڑے دعا مانگی جائے جس سے آنے والےکو نماز کا دھوکا ہو یا بہت لمبی دعائیں مانگی جائیں جس سے بلاوجہ دفن میں بہت دیر ہوجائے۔“مدنی گلدستہ’’اِخلاص‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نمازِ جنازہ میت کے لیے استغفار اور سفارش ہے اور اس کے قبول ہونے کی اُمید اسی وقت کی جاسکتی ہے جب یہ اِخلاص اور دل جمعی کے ساتھ کی جائے۔
(2) نمازِ جنازہ میت کے حق میں خالص دعا ہے اس لیے اس میں قرآن کی تلاوت کرنا ناجائز ہے۔
(3) مذکورہ حدیث پاک سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ جنازہ کے بعد بھی میت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
(4) نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنا حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔
(5) جن فقہا نے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنے سے منع کیا ہے ان کی مراد اس طرح کھڑے ہوکر دعا مانگنا ہے جس سے آنے والے کو یہ شبہ ہو کہ ابھی نمازِ جنازہ ہورہی ہے یا اتنی لمبی دعا کرنا منع ہے کہ جس سے دفنانے میں بلاوجہ دیر ہو جائے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِخلاص اور حضورِ قلبی کے ساتھ میت کے لیے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 937