Main Icon

باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 939

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْاَسْقَعِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ:اللّٰهُمَّ اِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ فِیْ ذِمَتِّكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ فِتْنَةَ القَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ وَاَنْتَ اَهْلُ الوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللّٰهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ اِنَّكَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ.

عن واثلة بن الاسقع رضی اللہ عنہ قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل من المسلمين فسمعته يقول:اللهم ان فلان ابن فلان فی ذمتك وحبل جوارك فقه فتنة القبر وعذاب النار وانت اهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه انك انت الغفور الرحيم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا واثلہ بن اسقعرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتدا میں ایک مسلمان کی نمازِ جنازہ پڑھی۔میں نے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا :”اَللّٰهُمَّ اِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ فِیْ ذِمَتِّكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ فِتْنَةَ القَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ وَاَنْتَ اَهْلُ الوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللّٰهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ اِنَّكَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْم‘‘یعنی اےاللّٰہ! فلاں بن فلاں تیرے ذمہ ہے اور تیرے عہد کی پناہ میں ہے، اسے قبر کے فتنے اور دوزخ کے عذاب سے بچا، تو وعدہ پورا کرنے والا اور تعریف کا مستحق ہے۔اےاللّٰہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، بے شک توہی بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

شرح حدیث

حاضِرمیت کے لیے خاص دعا:مذکورہ حدیث پاک میں بھی گزشتہ احادیث کی طرح ایک دعا بیان کی گئی ہے کہ جو حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک مردِ مومن کی نمازِ جنازہ میں پڑھی تھی، یہ دعا خاص طورپر حاضر میت کے لیے ہے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”اےاللّٰہ! فلاں بن فلاں تیرے ذمہ ہے۔“ یعنی تیری امان میں ہے کیونکہ وہ تجھ پر ایمان رکھنے والا ہے۔”وَحَبْلِ جِوَارِكَ“اور تیرے عہد کی پناہ میں ہے یعنی تیری حفاظت میں ہے، اور اس عبارت کا ایک واضح معنیٰ یہ ہے کہ قرآن کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے۔چنانچہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے:﴿وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ ﴾(پ۴،آل عمران:۱۰۳)ترجمہ ٔکنز الایمان: ’’اوراللّٰہکی رسی مضبوط تھام لو۔‘‘جمہورمفسرین فرماتے ہیں کہ رسّی سے مراد قرآنِ مجید ہے تو جو بندہکتابُ اللّٰہکو مضبوطی سے پکڑ لے گا(یعنی اس پر عمل کرے گا) وہ امن و امان، اِسلام و ایمان، معرفت و یقین اور جنت کی منازل سے بہرہ مند ہوجائے گا۔ نہایہ میں ہے کہ عربوں کی عادت تھی کہ وہ ایک دوسرے پر بہت ظلم کرتے تھے اسی لیے جب کوئی شخص سفر کا ارادہ کرتا تو ہر قبیلے کے سردار سے یہ عہد لیتا کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا لہٰذا جب تک وہ شخص ان کی سرزمین میں رہتا تو اس عہد کے سبب امن میں ہوتا۔ عرب اس عہد کو ”حَبْلِ جِوَار“ کہتے ہیں یعنی امان کا عہد۔”اسے قبر کے فتنے اور دوزخ کے عذاب سے بچا۔“ یعنی قبر میں سوال و جواب کا جو امتحان ہے یا قبر کے جو مختلف عذاب ہیں جیساکہ قبر کا دبانا اور قبر کا اندھیرا وغیرہ ان سے اس کی حفاظت فرما۔”تو وعدہ پورا کرنے والا ہے۔“ کیونکہ تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔”بے شک توہی بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔“یعنی کثرت سے گناہوں کو معاف فرماتا ہے اور بہت رحم کرتے ہوئے نیکیاں قبول کرتا ہے اور ان نیکیوں میں اضافہ فرماکر فضل فرماتا ہے۔“مذکورہ دعا پڑھنے کا طریقہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی نمازِ جنازہ میں مذکورہ دعا پڑھیں تو دعا میں جہاں فلاں بن فلاں کے الفاظ ہیں وہاں پر میت اور میت کے باپ کا نام لیں ”اگر میت کے باپ کا نام معلوم نہ ہو تو اُس کی جگہ آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکہے کہ وہ سب آدمیوں کے باپ ہیں اور اگر خود میّت کا نام بھی معلوم نہ ہو تو اُس کی جگہ ”عَبْدُکَ ھٰذَا“یا عورت ہو تو ”اَمَتُکَ ھٰذِہٖ“کہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) زمانہ ٔجاہلیت میں جب کوئی شخص سفر کا ارادہ کرتا تو ہر قبیلے کے سردار سے یہ عہد لیتا کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا لہٰذا جب تک وہ شخص ان کی سرزمین میں رہتا تو اس عہد کے سبب امن میں ہوتا۔ عرب اس عہد کو ”
حَبْلِ جِوَار“ کہتے ہیں یعنی امان کا عہد۔
(2) مذکورہ دعا میں جہاں فلاں بن فلاں کے الفاظ ہیں وہاں میت اور اس کے باپ کا نام لے، اگر میت کا نام معلوم نہ ہو تو مَرد کے لیے ”
عَبْدُکَ ھَذَا“ اور عورت کے لیے ”اَمَتُکَ ھَذِہٖ“ کہے اور اگر باپ کا نام معلوم نہ ہو تو حضرت آدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکانام لے۔
(3) جو بندہ قرآنِ مجید کو مضبوطی سے پکڑ لے گا یعنی اس پر سختی سے عمل کرے گا وہ امن و امان، اسلام و ایمان، معرفت و یقین اور جنت کی منازل سے بہرہ مند ہوجائے گا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے مرحوم مسلمان بھائیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 939