حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتّٰى يُقْضَي عَنْهُ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضي عنه.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”مؤمن کی روح قرض کی وجہ سے مُعَلَّق رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے قرض ادا کر دیا جائے ۔“
شرح حدیث
قرض ادا نہ کرنے کا نقصان:مرآۃ المناجیح میں ہے:(مؤمن کی روح )یا تو فی الحال جنت میں داخل ہونے یا نیکوں کے ساتھ ملنے یا درجات حاصل کرنے سے روکی جاتی ہے۔ ادائے قرض کی منتظر رہتی ہے یا قیامت میں قرض کی ادا تک جنت میں جانے سے روکی جائے گی جب تک کہ قرض کی معافی یا کوئی اور صورت نہ ہو جائے،کتنی ہی صالح نیک ہو جنت میں داخل نہ ہو سکےگی۔ اس قرض سے وہ قرض مراد ہے جو انسان بغیر ضرورت کے لے لے اور ادا نہ کرنے میں بلا وجہ ٹال مٹول کرے اور مرتے وقت ادا کے لیے مال نہ چھوڑے۔ اگر ان تین شرطوں میں سے ایک شرط بھی نہ ہو تواللّٰہتعالیٰ کے فضل سے اُمّید ہے کہ اسے محبوس نہ کرے گا(یعنی جنت میں جانے سے نہ روکے گا)،جیسا کہ دوسری احادیث میں ہے۔چنانچہ ابنِ ماجہ میں ہے کہ قیامت میں قرض خواہ کو مقروض سے قصاص دلوایا جاوے گا سوائے تین مقروضوں کے:ایک وہ جو جہاد وغیرہ دِینی ضروریات کے لئے قرض لے ۔دوسرےوہ جس کے ہاں بے کفن میت پڑی ہو اس کے کفن دفن کے لئے قرض لے۔ تیسرے وہ جو اپنے دِین پر خطرہ محسوس کرےاور نکاح کے ضروری و جائز خرچ کے لئے قرض لے ، ان کے قرض رب تعالیٰ قرض خواہوں سے معاف کرا دے گا۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدربّ کا قرض خواہ کو راضی کرنا:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:یہ جو کہا گیا ہے کہ مرنے والا مقروض اپنے قرض کی وجہ سےجنت میں جانے اور نیکوں کے ساتھ ملنےسےروک دیا جائے گا اس کی تائید اس حدیث پاک سے ہوتی ہےکہ ”قیامت کے دن مقروض اپنے قرض میں گرفتار ہوگا اور اپنے رب سے تنہائی کی شکایت کرے گا۔“البتہ جو شخص کسی ضرورت مثلاً فاقہ کے سبب قرض لیتا ہے پھر اتنا مال چھوڑ کر نہیں مرتا جس سے قرض ادا ہوسکے تواللّٰہتعالیٰ اسے جنت سے نہیں روکےگا کیونکہ سلطانِ اِسلام پر ہے کہ وہ اس کا قرض ادا کرےاور اگر وہ ادا نہ کرے تو ربّ کریم قرض خواہ کو راضی کرکے مقروض کو قرض سے خلاصی عطا فرمائے گا۔
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کے مطبوعہ رسالے”حقوق العباد کیسے معاف ہوں؟“کے صفحہ نمبر 36پر ہے:”مدیون (قرض دار) جس نے بحاجتِ شرعیہ(شرعی ضرورت کی وجہ سے) کسی نیک جائز کام کیلئے دَین (قرض) لیا اور اپنی چلتی ادا میں گئی نہ کی (استطاعت کے باوجود جان بوجھ کر ٹال مٹول نہ کی)، نہ کبھی تاخیرِ ناروا، روا رکھی (نہ کبھی بلا وجہ تاخیر کی) بلکہ ہمیشہ سچے دل سے اَدا پر آمادہ اور تا حدِ قدرت (حتی المقدور) اُس کی فکر کرتا رہا پھر بمجبوری ادا نہ ہو سکا اور موت آگئی تو مولیٰعَزَّ وَجَلَّاُس کیلئے اس دَین سے درگزر فرمائے گا اور روزِ قیامت اپنے خزانۂ قدرت سے ادا فرما کر دائن (قرض دینے والے) کو راضی کر دے گا ۔‘‘مقروض کی نمازِ جنازہ :حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُارشاد فرماتے ہيں:ايک آدمی فوت ہو گيا، ہم نے اسے غسل اور کفن ديااورخوشبولگائی پھرہم اسے سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس لے کر حاضر ہوئے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کا جنازہ پڑھائيں۔ہم نے عرض کی:اس کاجنازہ پڑھایئے۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمايک قدم چلے پھر دریافت فرمايا:”کيا اس پر قرض ہے؟“ہم نے عرض کی:اس کے ذمہ دودينار ہيں،توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواپس چلے گئے۔حضرت سَیِّدُنا ابوقتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کا قرض ادا کرنے کی ذمہ داری لے لی توہم دوبارہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور حضرت سَیِّدُنا ابو قتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:دودينارميرے ذمہ ہيں۔تورسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا:”کیاقرض خواہ کا حق پوراکردياگیاہے اور اب ميت اس سے بَری ہے؟“ حضرت سَیِّدُناابوقتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:جی ہاں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی،پھراس کے ایک دن بعدپوچھا:”ان دوديناروں کا کيا ہوا؟“میں نے عرض کی:وہ شخص کل ہی توفوت ہوا ہے۔پھر اگلے دن حضرت سَیِّدُنا ابوقتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:میں نے وہ قرض ادا کردیا ہے۔تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اب اس کےجسم کو راحت پہنچی ہے۔“پُراَسرارکُنوئیں کا قیدی:حضرت شَىْبان بن حسنرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم اور حضرت سیِّدُنا عبْدُالواحد بن زیدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہجہادکےلئے نکلےتو راستے میں اچانک ایک گہرا اور کشادہ کنواں آگیاجس میں سے گھٹی گھٹی آوازیں آرہی تھیں۔دونوں میں سے ایک کنوئیں میں اُترے تو اندر تخت پر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور اس کے نیچے پانی تھا۔ اترنے والے نے اس سے پوچھا:تم انسان ہو یا جن؟ اس نے کہا: انسان ہوں۔ پوچھا: کون ہو؟ اس نے کہا: میں اِنطاکیہ کا باشندہ ہوں اور مر چکا ہوں، مجھ پر قرض تھا جس کی وجہ سے میرے ربّعَزَّوَجَلَّنے مجھے یہاں قید کر دیاہے۔ انطاکیہ میں میرابیٹاہےجونہ مجھے یادکرتاہے نہ میراقرض ادا کرتا ہے۔ کنوئیں میں جانے والےباہر نکلے اور اپنےساتھی سے کہا:ہم جہادبعد میں کریں گے چلو پہلے اس کا قرض ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ دونوں نے جاکر قرض ادا کیا اور پھر واپس اسی جگہ آئے تو وہاں کنوئیں کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ شام ہو چکی تھی لہٰذا دونوں نے وہیں رات بسر کی تو ایک شخص ان کے خواب میں آیا اور کہا:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّمیری طرف سے تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے،جب میرا قرض ادا ہوا تو میرے ربّعَزَّ وَجَلَّنے مجھے جنت کے فلاں مقام کی طرف منتقل کر دیا۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمَقروض شہید بھی جنَّت میں نہ جا سکے گا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا قرض بہت بڑا بوجھ ہےجو لوگ ادائے قرض میں ٹالَم ٹول کرتے ہیں اُن کو بیان کردہ حِکایت سے ڈرجانا چاہے اور قرض خواہ (یعنی جس سے قرض لیا ہے اُس)کو اپنے پاس دھکے کِھلانے کے بجائے خود اُس کےپاس جاکر شکریہ کے ساتھ اس کاقرض ادا کردینا چاہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جُھوٹ مُوٹ آج کل کرتے ہوئے موت آجائے اور قَبْر میں جان پھنس جائے ۔فرمانِ مصطَفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:”اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر کوئی آدَمیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں قتل کیا جائے پھر زِندہ ہو پھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ ہو اور اس کے ذِمّہ قرض ہو تو وہ جنَّت میں داخِل نہ ہو گا یہاں تک کہ اُس کا قرض ادا کر دیا جائے۔“ کوئی مسلمان مقروض فوت ہوجائے تو عزیزوں کو چاہیے کہ فوراً اُس کا قرضہ ادا کردیں تاکہ مرحوم کے لئے قبر میں آسانی ہو۔ ایک صحابی جن پر قرض تھا اُن کا انتقال ہوگیا تو نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کی موجودگی میں فرمایا:بے شک تمہارا مرنے والا شخص جنَّت کے دروازے پر اپنے قرض کی وجہ سے روک دیا گیا ہے اگر تم چاہو تو اس کاقرض اداکرکے اس کی جان چھڑاؤ اور اگر چاہو تو اسے عذاب کے حوالے کر دو۔مدنی گلدستہ’’صحابی ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) قرض لے کر واپس نہ کرناجنت میں داخلے سے روکے جانے کا سبب ہے ۔
(2) بغیر ضرورت قرضہ لینے سے اجتناب کرنا چاہیے کہ اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
(3) جو قرضہ ضرورت کی بنا پر لیا جائے اور واپس کرنے کی نیت بھی ہو لیکن ادا کرنے سے قبل وفات ہو جائےتوبروزِ قیامت ایسے شخص کے قرض کو ربِّ کریم قرض خواہ سے معاف کرا دے گا۔
(4) اپنی آخرت کی فکر کرتے ہوئے قرض خواہ کو اپنے پاس دھکے کِھلانے اورٹال مٹول کرنے کے بجائے خود اُس کےپاس جاکر شکریہ کے ساتھ اس کاقرض ادا کردینا چاہے۔
(5) کوئی مسلمان مقروض فوت ہوجائے تو عزیزوں کو چا ہیے کہ فوراً اُس کا قرضہ ادا کردیں تاکہ مرحوم کے لئے قبرو حشر کے معاملات میں آسانی ہو۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں موت سے قبل اپنا قرض اداکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 943