Main Icon

باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 944

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرِضَ فَاَتَاهُ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ:اِنّي لَا اُرَى طَلْحَةَ اِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيْهِ الْمَوْتُ فَآذِنُوْنِي بِهِ وَعَجِّلُوْا بِهِ فَاِنَّهُ لَا يَنْبَغِيْ لِجِيْفَةِ مُسْلِم اَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَي اَهْلِهِ.

عن حصين بن وحوح رضي الله عنه ان طلحة بن البراءرضي الله عنه مرض فاتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده فقال:اني لا ارى طلحة الا قد حدث فيه الموت فآذنوني به وعجلوا به فانه لا ينبغي لجيفة مسلم ان تحبس بين ظهراني اهله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا حُصین بن وَحْوَحْرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت سَیِّدُناطلحہ بن بَراءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَابیمار ہو گئے تو نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی عیادت کے لیے تشریف لائے ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”میرا خیال ہے کہ طلحہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)کی وفات کا وقت آچکا ہے، مجھے اس کی اطلاع کر دینا اور جلدی کرنا کیونکہ کسی مسلمان کی لاش کو اس کے اہل و عیال کے درمیان روکے رکھنا مناسب نہیں ۔‘‘

شرح حدیث

میت کے لئے اِعلانِ عام کرنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جب کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کی میت کو اس کے اہل خانہ کے درمیان زیادہ دیر تک نہیں رکھنا چاہیے بلکہ جتنا جلدی ممکن ہو سپر د خاک کر دینا چاہیے جیسا کہ مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :مجھے اس کی اطلاع کر دینا اور جلدی کرنا کیونکہ کسی کی لاش کو اس کے اہل و عیال کے درمیان روکے رکھنا مناسب نہیں۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ میت کے لیے اعلانِ عام کرنا بھی جائز ہے اور خاص بزرگ و اہلِ قرابت کو خبرکرنابھی تاکہ وہ نماز اور دفن میں شرکت کرلیں۔دوسرے یہ کہ حتی الامکان دفن میں جلدی کی جائے۔بلاضرورت دیر لگانا سخت ناجائزہے کہ اس میں میت کے پھولنے پھٹنے اور اس کی بےحرمتی کا اندیشہ ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’مکہ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیث مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جب کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت کے لیے جانا سنتِ مبارکہ ہے ۔
(2) وفات کا عام اِعلان کرنا بھی جائز ہے اور خاص بزرگ و اہلِ قرابت کو خبر کرنا بھی تا کہ وہ لوگ نمازِجنازہ اور تدفین میں شریک ہو کر میت کے لیے دعا کر سکیں ۔
(3) میت کو حَتَّی الامکان جلدی دفن کر دینا چاہیے کہ بلا ضرورت تاخیر کرنا سخت نا جائز ہے کہ اس میں میت کے پھولنے پھٹنے اور اسکی بے حرمتی کا اندیشہ ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پرعمل کرتے ہوئے تجہیزوتکفین اور تدفین میں جلدی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 944