باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”مؤمن کی روح قرض کی وجہ سے مُعَلَّق رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے قرض ادا کر دیا جائے ۔“

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتّٰى يُقْضَي عَنْهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 943 ، باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُنا حُصین بن وَحْوَحْرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت سَیِّدُناطلحہ بن بَراءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَابیمار ہو گئے تو نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی عیادت کے لیے تشریف لائے ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”میرا خیال ہے کہ طلحہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)کی وفات کا وقت آچکا ہے، مجھے اس کی اطلاع کر دینا اور جلدی کرنا کیونکہ کسی مسلمان کی لاش کو اس کے اہل و عیال کے درمیان روکے رکھنا مناسب نہیں ۔‘‘

عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرِضَ فَاَتَاهُ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ:اِنّي لَا اُرَى طَلْحَةَ اِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيْهِ الْمَوْتُ فَآذِنُوْنِي بِهِ وَعَجِّلُوْا بِهِ فَاِنَّهُ لَا يَنْبَغِيْ لِجِيْفَةِ مُسْلِم اَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَي اَهْلِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 944 ، باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان