Main Icon

باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 980

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَاشَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ المَظْلُومِ وَدَعْوَةُ المُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث دعوات مستجابات لاشك فيهن دعوة المظلوم ودعوة المسافر ودعوة الوالد على ولده.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تین دعائیں مقبول ہیں،ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں:(1)مظلوم کی دعا(2)مسافر کی دعا اور(3)بیتےکے خلاف باپ کی دعا۔“

شرح حدیث

تین مقبول دُعاؤں کی وضاحت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہاں تین دعاؤں کا تذکرہ ہے،یعنی یہ تین دعائیں بذاتِ خود قابلِ قبول ہیں اور اپنے فاعلوں کی برکت سے بھی لائق قبول۔ اولاد کے حق میں باپ کی دعا قبول ہے اور بددعا بھی،والد سے مراد ماں باپ دونوں ہیں دادا بھی اس میں داخل ہے کہ بالواسطہ وہ بھی والد ہے، ماں کی دعا بہت زیادہ قبول ہوتی ہے۔مسافر کی بحالت سفر تمام دعائیں ہی قبول ہیں مگر اپنے محسن کے لیے دعا اور اپنے ستانے والے پر بددعا بہت قبول ہے۔اسی طرح مظلوم کی بددعا قبول مگر ستانے والے کے لیے بددعا اور امداد کرنے والے یا بچانے والے کے لیے دعا بہت قبول ہے۔دلیل الفالحین میں ہے :”مسافر سے مراد وہ مسافر ہے جس کا سفر جائز ہو اور مطلوب ہویعنی بے مقصد اور فضول نہ ہو تو ایسے مسافر کی دعا واپس لوٹنے تک قبول ہے۔بیٹا باپ پر ظلم کرے یا اس کی نافرمانی کرے تو ایسے بیٹے کے حق میں باپ کی بددعا قبول ہے۔“کیا والدین کی ہر بد دعا قبول ہے؟حضر ت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ حضورِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بیشک میں نےاللّٰہتعالیٰ سے سوال کیا کہ کسی پیارے کی پیارے پر بددعا قبول نہ فرمائے ۔“علامہ شمس الدین سخاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیاس کے تحت فرماتے ہیں:صحیح احادیث سے ثابت کہ اولاد پر ماں باپ کی بد دعا رَدّ نہیں ہوتی تو اس حدیث کو اُن احادیث سے تطبیق دینی چاہیے۔چنانچہ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنتطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں:”بد دعا دو طور پر ہوتی ہے:*ایک یہ کہ داعی (یعنی دعا کرنے والے)کا قلب حقیقۃً اس کا یہ ضرر(نقصان)نہیں چاہتا، یہاں تک کہ اگر واقع ہو تو خود سخت صدمے میں گرفتار ہو جیسے: ماں باپ غصے میں اپنی اولاد کو کوس لیتے ہیں مگر دل سے اس کا مرنا یا تباہ ہونا نہیں چاہتے اور اگر ایسا ہو تو اس پر ان سے زیادہ بے چین ہونے والا کوئی نہ ہوگا۔ دیلمی کی حدیث میں اسی قسمِ بد دعا کیلئے وارد کہ حضوررَءُوْفٌ رَّحِیْمِ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اس کا مقبول نہ ہونااللّٰہتعالیٰ سے مانگا۔ نظیر اس کی وہ حدیث صحیح ہے کہ حضورِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے عرض کی:الٰہی! میں بشر ہوں، بشر کی طرح غضب فرماتا ہوں تو جسے میں لعنت کروں یا بد دعا دوں، اُسے تُو اُس کے حق میں کفارہ واَجر وباعثِ طہارت کر۔*دوسرے اس کے خلاف کہ داعی کا دل حقیقتاًاس سے بیزار اور اُس کے اس ضرر کا خواستگار (امیدوار)ہے اور یہ بات ماں باپ کومَعَاذَاللّٰہاسی وقت ہوگی جب اولاد اپنی شقاوت سے عقوق کو (یعنی نافرمانی وسرکشی کو) اس درجۂ حد سے گزار دے کہ ان کا دل واقعی اس کی طرف سے سیاہ ہو جائے اور اصلاً محبت نام کو نہ رہے بلکہ عداوت آ جائے۔ ماں باپ کی ایسی ہی بد دعا کے لیے فرماتے ہیں کہ رَدّ نہیں ہوتی۔مدنی گلدستہ’’دعا‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور بیٹے کے خلاف باپ کی دعا رد نہیں ہوتی۔
(2) مسافر سے مراد وہ مسافر ہے جس کا سفر جائز اورمطلوب ہویعنی بے مقصد اور فضول نہ ہو تو ایسے مسافر کی دعا واپس لوٹنے تک قبول ہے۔
(3) بیٹا باپ پر ظلم کرے یا اس کی نافرمانی کرے تو ایسے بیٹے کے حق میں باپ کی بددعا قبول ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمیں ان لوگوں کی دعاسے بہرہ مند فرمائے جن کی دعا قبول ہوتی ہے اور ان لوگوں کی بد دعا سے بچائے جن کی دعا ردّ نہیں ہوتی ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 980