Main Icon

باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 746

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَن اَبي جُحَيْفَةَ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:لَاآكُلُ مُتَّكِئًا.

عن ابي جحيفة وهب بن عبد الله رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لاآكل متكئا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنااَبُو جُحَیْفَہوَھب بِنعبداللّٰہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا: ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔“

شرح حدیث

ٹیک لگاکرنہ کھانے سے مراد:عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّیْن اَحْمَد بِنْ مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاِس حدیث مبارک کی شرح میں فرماتے ہیں:” یعنی میں جب کھانا کھاتا ہوں تو اُس شخص کی طرح جم کر نہیں بیٹھتا جو بہت زیادہ کھانے کا اِرادہ رکھتا ہو میں تو تھوڑا کھاتاہوں اس لئے میں اس طرح بیٹھتا ہوں جیسے کوئی جلدی اٹھنے والا ہو۔“
”ڈٹ کر کھانا سُنّت نہیں، زیادہ کھانے کو جی چاہے تو اپنے آپ کو اِس طرح سمجھا یئے کہ صِرف زَبان کی نوک سے جڑ تک لذّت رہتی ہے حلق میں پہنچتے ہی لذّت ختْم ہو جاتی ہے تو لمحہ بھر کے ذائقے کی خاطِر سنّت کا ثواب چھوڑنا دانشمندی نہیں۔ نیز زیادہ کھانے سے طبیعت بوجھل ہو جاتی ، عبادت میں سُستی آتی ،مِعدہ خراب ہوتا اور بعضوں کو موٹا پا آتا ہے۔قَبض، گیس شوگر اور دل وغیرہ کی بیماریوں کا اِمکان بڑھتا ہے۔“
ٹیک لگا کر کھانے کا حکم:”ٹیک لگا کرکھانا کھانا مکروہ ہے۔“ٹیک لگا کر کھانا کھانے کے مکروہ ہونے کی علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلاَمنے مختلف وجوہات بیان فرمائی ہیں:(1)یہ متکبرین کا طریقہ ہے کیونکہ یہ عجمی بادشاہوں سے چلتا ہوا آیا ہے وہ تکبرًاٹیک لگا کر کھاتے تھے۔(2) طب کی رُو سے بھی نقصان دہ ہے کہ اِس طرح کھانے سے پیٹ بڑھ جانےکا اندیشہ ہوتا ہے۔ (3)اِس طرح بیٹھنے سے معدہ دب جاتا ہے اور کھانا معدے میں نہیں اُترتا۔(4) اس طرح بیٹھنے سے کھانا زیادہ کھایا جاتا ہے۔چار زانو (پالتی مارے) بیٹھنا، کسی گدّے یا نرم بستر پر بیٹھنا، دیوار، کرسی یا کسی اور چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھنا، ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر سہارا لینا۔ ان تمام طریقوں سے کھانا خلافِ مستحب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 746