Main Icon

باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 736

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ:مَا عَابَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ اِنِ اشْتَهَاهُ اَكَـلَهُ وَاِنْ كَرِهَهُ تَـرَكَهُ .

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:ما عاب رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما قط ان اشتهاه اكـله وان كرهه تـركه .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی کسی کھانے کو عیب نہ لگایا، پسند آیا تو تناول فرمالیا پسند نہ آیاتوچھوڑ دیا۔“

شرح حدیث

کھانے میں عیب نہ نکالنے کی وضاحت:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے)کھانے پکانے میں کبھی عیب نہ نکالا کہ نمک کم ہے یا زیادہ جیسا بعض لوگوں کا عام طریقہ ہے کہ بغیر عیب نکالے کھانا کھاتے ہی نہیں۔“اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکھانے میں عیب نکالنے کے متعلق فرماتے ہیں:”کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر پر بھی نہ چاہيےمکروہ وخلافِ سنت ہے۔ (سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ) عادتِ کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرما يا ورنہ نہیں اورپرائے گھر عیب نکالنا تو(اس میں)مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمالِ حرص وبے مروتی پر دلیل ہے۔ ”گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں“یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مُضِر(نقصان دیتی) ہےاسے نہ کھانے کے عذر کے لئے اس کا اظہار کیا نہ کہ بطورِ طعن وعیب مثلاً اس میں مرچ زائد ہے میں اتنی مرچ کا عادی نہیں تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی (اس وقت ہے کہ جب ) بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کنندہ (یعنی میزبان) کو اور تکلیف نہ کرنی پڑے مثلاً دو قسم کا سالن ہے، ایک میں مرچ زائد ہے اور یہ عادی نہیں تو اسے نہ کھائے اور وجہ پوچھی جائے بتادے اور اگر ایک ہی قسم کا کھانا ہےاب اگر (یہ) نہیں کھاتا تو دعوت کنندہ(یعنی میزبان) کو اس کے لئے کچھ اور منگوانا پڑے گا اُسے ندامت ہوگی اور تنگ دست ہے تو تکلیف ہوگی ایسی حالت میں مُروَّت یہ ہے کہ صبر کرے اور کھائے اور اپنی اذیت ظاہر نہ کرے ۔“
نعمتوں میں عیب نہیں نکالنا چاہیے:
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”یہ حدیث پاک نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ حُسنِ ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ جب کوئی شخص کھانے کو ناپسند کرتا ہے تو وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے رزق کو مسترد کرتا ہے لہٰذااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نعمتوں میں عیب نہیں نکالنا چاہیے بلکہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیےکیونکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّپر ہمیں نعمتیں دینا واجب نہیں، ہاں وہ اپنے فضل وکرم سے ہر آن ہم پرا پنی نعمتوں کی برسات فرماتاہے ۔“ امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں: ” کھانے میں کسی قسم کاعیب نہ لگایئے مثلاً یہ مت کہئے کہ ٹیسٹی (لذیذ)نہیں، کچا رہ گیا ہے، نمک کم ہے، تیکھا بَہُت ہے یا پھیکا پھیکاہے وغیرہ وغیرہ ۔ پسند ہے تو کھا لیجئے ،ورنہ ہاتھ روک لیجئے۔ ہاں پکانے والے کومِرچ مَصالَحہ کی کمی بیشی کیلئےہدایت دینا مقصود ہو تو تنہائی میں رہنُمائی میں مُضائقہ نہیں۔پھلوں کو عیب لگانا انسان کے پکائے ہوئے کھانے کے مقابلے میں زیادہ بُرا ہے کہ کھانا پکانے میں انسانی ہاتھوں کا زیادہ دخل ہے جبکہ پھلوں کے مُعاملے میں ایسا نہیں۔“مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
حضور
عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنےکھانے میں کبھی عیب نہ نکالا،پسند فرماتے تو کھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔
کھانے میں عیب نکالنامکروہ وخلاف سنت ہے ۔
اپنے گھر میں بھی کھانے میں عیب نہ نکالے اورباہر بھی کھانے میں عیب نہ نکالے کہ اس میں مسلمانوں کی دل شکنی ہے اوریہ بات کمالِ حرص وبے مروتی کی دلیل بھی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کھانے میں عیب نکالنے سے بچائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 736