Main Icon

باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 737

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاَلَ اَهْلَهُ الْاُدْمَ فَقَالُوْا مَا عِنْدَنَا اِلَّا خَلٌّ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَاْكُلُ وَيَقُوْلُ:نِعْمَ الْاُدْمُ الْخَلُّ نِعْمَ الْاُدْمُ الْخَلُّ.

عن جابر رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم سال اهله الادم فقالوا ما عندنا الا خل فدعا به فجعل ياكل ويقول:نعم الادم الخل نعم الادم الخل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے گھرو الوں سے کھانا طلب فرمایا تو انہوں نے عرض کی:ہمارے پاس سرکہ کے سوا کچھ نہیں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سرکہ منگایا اور اسے تناول کرتے ہوئے فرمانے لگےسرکہ بہترین سالن ہے،سرکہ بہترین سالن ہے۔“

شرح حدیث

سرکہ کھانا انبیائے کرام کی سنت ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” سرکہ طبی رو سے بہت مفید ہے سادہ ارزاں غذا ہے،حضرات انبیاء کرامعَلَیْہِمُ السلامنے عمومًا سرکہ کھایا ہے۔اس کے بہت فضائل حدیث شریف میں آئے ہیں۔عرب میں عمومًا کھجور کا سرکہ ہوتا ہے،ہمارے ملک میں رس انگور کا سرکہ ہوتا ہے گنے کے رس کا سرکہ بہت مروج ہے۔ “شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”سالن اس چیز کو کہتے ہیں جس سے روٹی کھائی جا ئے اور وہ روٹی کی اصلاح کرے۔حدیث مذکور میں کھانے کی چیزوں میں میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب اور نفس کو لذیذ کھانوں سے روکنے کی تعلیم ہے۔ دو دفعہ یہ فرمانا کہ ”سرکہ بہترین سالن ہے۔“یہ تاکید اور عوام الناس کے دلوں کو تسلی دینے کے لئے ہے۔“
سرکہ کی فضلیت میں دو فرامین مصطفےٰ
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1)”وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ ہو۔“ (2)”اے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! سرکہ میں برکت عطا فرما کہ یہ مجھ سے پہلے انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَامکا سالن ہے اور جس گھر میں سرکہ ہو گا وہ گھر کبھی محتاج نہیں ہوگا۔“مدنی گلدستہ’’مکہ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
سرکہ طبی لحاظ سے بہت مفید ہے اور یہ انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکی سنت بھی ہے۔
کھانے میں میانہ روی اختیار کی جائے اور نفس کو لذیذ کھانوں کا عادی نہ بنایا جائے۔
حضور نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سرکہ کے متعلق برکت کی دعا فرمائی اور جس گھر میں سرکہ ہے وہ گھر سالن سے خالی نہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سن کی نیت سے سرکہ کھانے کی توفیق عطا فرمائے اور سادہ غذا استعمال کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 737