Main Icon

باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 773

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي قَتَادَۃَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:سَاقِی الْقَوْمِ آخِرُھُمْ شُرْبًا.

عن ابي قتادۃ رضي الله عنه عن النبی صلى الله عليه وسلم قال:ساقی القوم اخرھم شربا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوقتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’لوگوں کوپلانے والا خود آخر میں پیے۔‘‘

شرح حدیث

تھوڑے پانی سے بہت سےلوگ سیراب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک ایک طویل حدیث کا جز ہے پوری حدیث پاک کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکسی سفر میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے،راستے میں پانی کی قلت ہو گئی،نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وضو کے لیے ایک برتن تھا جس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا،جب صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے پیاس کی شدت کی شکایت کی تو نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا” تم پر ہلاکت نہ آئے گی۔“ اور وضو کا برتن منگایاپھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس برتن سے پانی انڈیلنے لگے اور ابوقتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُلوگوں کو پلانے لگے جب تمام حضرات نے پانی دیکھا تو اس پر ٹوٹ پڑے۔حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”اخلاق اچھے رکھو تم سب سیرہوجاؤ گے۔“حضرت ابو قتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں: لوگوں نے ایسا ہی کیا(یعنی نظم و ضبط کے ساتھ پانی لینے لگے )نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپھر پانی انڈیلنے لگے اور میں پلانے لگا یہا ں تک کہ میرے اوررسولُ ﷲصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سوا کوئی باقی نہ رہا (یہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا معجزہ تھا کہ تھوڑے سے پانی سے بہت سارے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنی ضروریات پوری کیں)،پھر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پانی انڈیلا اور مجھ سے فرمایا: پیو۔میں نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جب تک آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپانی نوش نہیں فرمائیں گے میں نہیں پیوں گا،تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: قوم کو پلانے والا خود آخر میں پیتا ہے ۔میں نے پانی پیا پھررسو لُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نوش فرمایا ۔قاسِمِ نعمت:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: یعنی قانون یہ ہے کہ پلانے والا پیچھے پیئے،کھلانے والا پیچھے کھائے ہم ہیں پلانے والے اس لیے ہم تمہارے بھی بعد پئیں گے۔خیال رہے کہ ربّ تعالیٰ کی طرف سے قاسِم(تقسیم کرنے والے)حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمتھے اور تاقیامت ہیں اورحضورِ انور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی طرف سے قاسِم حضرت ابوقتادہ (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)تھے حقیقتاًپلانے والے حضورِ انور تھے ظاہری ساقی(پلانے والے) ابوقتادہ لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ساقی تو حضرت ابوقتادہ تھے۔کھلانے والا بھی آخر میں کھائے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکےحوالے سے فرماتے ہیں:’’یہ دودھ،پانی وغیرہ پلانے کے آداب میں سےہےیونہی جو شخص لوگوں میں گوشت ،فروٹ وغیرہ تقسیم کر رہا ہو اس کو چاہیے کہ وہ خود آخر میں کھائے۔‘‘حضرت ابنِ رسلانرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’حدیث پاک میں اس طرف اشارہ ہے اگر کسی شخص کو لوگو ں کے معاملات پر حاکم بنایا جائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر وہ کام کرے جس سے لوگوں کو نفع پہنچے اور ان سے تکلیف دور ہو اور لوگوں کی بھلائی وخیرخواہی کو اپنی بھلائی وخیرخواہی پر مقّدم رکھے۔اسی طرح کھانا کھلانے ،پانی پلانے میں بزرگوں سے ابتدا کرے پھر جو اس کے برابر میں ہوں اسی طرح ترتیب سے کھلائے پلائے پھرآخر میں جو بچے اسے خود کھائے پئے۔‘‘مدنی گلدستہ’’آبِ زم زم ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) مسلمان بھائیوں کی خدمت اور ان کی خیر خواہی کرنا ثواب کا کام ہے۔
(2) کھلانے پلانے میں قانون یہ ہے کہ کھلانے پلانے والا خود آخر میں کھائے پئے۔
(3) کھلانے پلانے کے بعد خود آخر میں کھانا پینا یہ دوسروں پر ایثار ہے۔
(4) کھلانے پلانے میں بزرگوں سے ابتدا کرنی چاہیے۔
(5) حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتاقیامت قاسمِ نعمت (نعمتیں تقسیم کرنے والے)ہیں۔
(6) لوگوں کی بھلائی وخیرخواہی کو اپنی بھلائی وخیرخواہی پر مقدم رکھنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں کھلانے پلانے میں سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 773