- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- حدیث نمبر 142
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا اِمْرَاَۃٌ قَالَ: مَنْ ہٰذِہِ؟ قَالَتْ:ہٰذِہِ فُلَا نَۃٌ تَذْکُرُ مِنْ صَلَا تِہَا، قَالَ:مَہْ عَلَیْکُمْ بِمَا تُطِیْقُوْنَ، فَوَاللّٰہِ لَا یَمَلُّ اللّٰہُ حَتَّی تَمَلُّوْا وَکَانَ اَحَبُّ الدِّیْنِ اِلَیْہِ مَادَاوَمَ صَاحِبُہُ عَلَیْہِ. ( )
(قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) وَ”مَہْ ‘‘ کَلِمَۃُ نَہْیٍ وَزَجْرٍ ، وَمَعْنَی: لَا یَمَلُّ اللّٰہُ، اَیْ لَا یَقْطَعُ ثَوَابَہُ عَنْکُمْ وَجَزَاءَ اَعْمَالِکُمْ، وَیُعَامِلُکُمْ مُعَامَلَۃَ الْمَالِّ حَتَّی تَمَلُّوْا فَتَتْرُکُوْا، فَیَنْبَغِیْ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مَاتُطِیْقُوْنَ الدَّ وَامَ عَلَیْہِ لِیَدُوْمَ ثَوَابُہُ لَکُمْ وَفَضْلُہُ عَلَیْکُمْ.
وعن عائشۃ رضی اللہ عنھا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم دخل علیہا وعندہا امراۃ قال: من ہذہ؟ قالت:ہذہ فلا نۃ تذکر من صلا تہا، قال:مہ علیکم بما تطیقون، فواللہ لا یمل اللہ حتی تملوا وکان احب الدین الیہ ماداوم صاحبہ علیہ. ( )
(قال النووی علیہ رحمۃ اللہ القوی:) و”مہ ‘‘ کلمۃ نہی وزجر ، ومعنی: لا یمل اللہ، ای لا یقطع ثوابہ عنکم وجزاء اعمالکم، ویعاملکم معاملۃ المال حتی تملوا فتترکوا، فینبغی لکم ان تاخذوا ماتطیقون الد وام علیہ لیدوم ثوابہ لکم وفضلہ علیکم.
حدیث ترجمہ
:اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِ مُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن کے پاس تشریف لائے، (اُس وقت) وہاں ایک عورت بھی موجودتھی۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا: ’’ یہ کون ہے؟ ‘‘ اُمّ المؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی: ’’ یہ فلاں عورت ہے۔ ‘‘ اور پھر اُس کی نماز کا ذکر کیا۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ رُک جاؤ! تم پر لازم ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق عبادت کرو۔بخدا!اللہ عَزَّ وَجَلَّنہیں اُ کتاتا، تم اُ کتا جاؤ گے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکو وہ عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے کرنے والاہمیشہ کرے۔ ‘‘
علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیالفاظ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :”مَہْ“یہ نہی اور زجر کے لیے آتا ہے۔ ’’لَا یَمَلُّ اللہ:یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنہیں اُ کتاتا۔ ‘‘ اس کا مطلب ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّتم سے تمہارے اَعمال کا ثواب ختم نہیں کرتااور نہ ہی تمہارے اَعمال کی جزا منقطع کرتاہےاور وہ تم سےاُ کتاہٹ والا معاملہ نہیں فرمائے گا، تم اُ کتا کر عمل چھوڑدوگے۔ لہٰذا تمہارے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ عمل کرو جسے ہمیشہ کر سکو تاکہ اُس کا ثواب اور فضیلت تمہارے لیے ہمیشہ رہے۔ ‘‘
شرح حدیث
حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اُمَّت پر شفقت:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتےہیں :حضرت سَیِّدُنَا امام مالکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقفرماتے ہیں : ’’ جب سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بتایا گیا کہ یہ عورت ساری ساری رات عبادت کرتی ہے سوتی نہیں تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےناپسندیدگی کااظہارفرمایا یہاں تک چہرۂ اَنور پر اس کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ ان خاتون کا نام حضرت سَیِّدَتُنَا حولاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاتھا۔ یہ بہت عبادت گزار اور مُہَاجِرہ صحابیہ تھیں ۔ ‘‘ ( )اُکتاہٹ کا اطلاق ذات باریتعالیپرجائز نہیں :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتےہیں : ’’ مَلال ( اُ کتاہٹ ) کااطلاقاللہ عَزَّ وَجَلَّپرجائز نہیں اور نہ ہی یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفات میں داخل ہے کیونکہ ملال کا معنی ہے:کسی چیزکی چاہت اورحرص کے باوجود اس کے مشکل ہونے کی وجہ سے اسے نہ چاہتے ہوئے چھوڑدینااوریہ مخلوق کی صفت ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نہیں ۔حدیث مذکورمیںاللہ عَزَّ وَجَلَّپرملال کا اطلاق مجازًا ہے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں :’’ اس سےمراد یہ ہے کہ تم لوگ نیک اَعمال کر کے اُ کتا جاؤ گےاللہ عَزَّ وَجَلَّاجر عطا فرماتے ہوئے نہیں اُ کتائے گا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا اِبن فُورَکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ ہے کہ اُ کتانا تمہاری صفت ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نہیں ، کیونکہ اکتاہٹ، طبیعت کی تبدیلی کا نام ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے پاک ہے۔ ‘‘ حضرت سیِّدُناعلامہ خطّابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیفرماتے ہیں : ’’ اس کا ایک معنی یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاُس وقت تک ثواب دینا ترک نہیں کرتا جب تک تم عمل کرنا نہ چھوڑدو۔ ‘‘ ( )حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل:شارحین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس حدیث سے کئی اہم مسائل بھی اخذ فرمائے ہیں ، چند مسائل یہ ہیں : (1) بغیر طلب قسم کھانا بِلاکراہت جائز ہے جبکہ معاملے کو پختہ کرنے ، کسی کونیکی پر اُبھارنے یا ممنوعہ چیزوں سے نفرت دلانےکے لیے ہو۔ (2) قلیل دائمی عمل کثیر عارضی عمل سے بہتر ہے ۔ (3) حدیثِ مذکور میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اپنی اُمَّت پر شفقت ونرمی کا بیان ہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمَّت کی اس چیز کی طرف رہنمائی فرماتے تھے جو ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی تھی۔ ( )نیک اَعمال میں میانہ روی کی ترغیب:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اورتنگی میں پڑنے سے منع کیا گیا ہے۔یہ حدیث نماز ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام نیک اَعمال کو شامل ہے۔محققین علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ ا لسَّلام ُفرماتے ہیں :معنی یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّتم سے اکتانے والے شخص جیسا معاملہ نہیں کرتا کہ تم سےعمل کا ثواب وجزا ختم کر دے، یہاں تک کہ تم عمل کرنا چھوڑ دو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل اور اس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ ‘‘ ( )
حضرت سیِّدُنا جابربنعبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک شخص کے پاس سے گزرے جو مکہ مکرمہمیں ایک چٹان پرنماز پڑھ رہاتھا ۔ واپسی پر بھی اسے اسی حالت میں پایا تو ارشادفرمایا: ’’ اے لوگو! تم پرمیانہ روی لازم ہے، اےلوگو! تم پر میانہ رَوِی لازم ہے، ا ے لوگو!تم پرمیانہ روی لازم ہے۔بے شک !اللہ عَزَّ وَجَلَّ(اجرعطافرمانے سے) نہیں اکتاتابلکہ تم (عبادت سے ) اُ کتا جاتے ہو۔ ‘‘ ( )ربّتعالٰیملال سے پاک ہے:فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ ہے کہ یہ بات پسندیدہ نہیں کہ نوافل بکثرت پڑھنا شروع کردیا جائے پھر چھوڑ دیاجائے۔ بہت زیادہ پسندیدہ وہ کام ہے جو آدمی پابندی کے ساتھ بلاناغہ ہمیشہ کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو ۔یہ مت وہم کرو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خزانے میں کوئی کمی ہے یا وہ اعمال کا ثواب دیتے دیتے تھک سکتا ہے، یا گھبراسکتا ہےوہ ملال سےمُنَزّہ(یعنی پاک ) ہے۔ تم جتنا زیادہ عمل کروگےاللہ(عَزَّوَجَلَّ) اس کا تم کو ثواب دے گا۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نوافل ومستحبات پر بھی پابندی اور مداومتاللہ عَزَّ وَجَلَّکو پسند ہے، اس لیے میلاد مع قیام، فاتحہ، عرس وغیرہ اُمورِ خیراگر کوئی بِلا ناغہ پابندی سے کرتاہے تویہ پابندی اسے ناجائزوحرام نہیں کردےگی بلکہ یہ مزید پسندیدگی کی باعث ہوگی۔ ‘‘ ( )آسانی اور استقامت کی ترغیب :شارحِ بخاری علامہ سیدمحمود احمد رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مطلبِ حدیث یہ ہے کہ آدمی خواہ کتنی ہی نیکیاں کرے، ربّ العزتجَلَّ مَجْدُہُکو اس کی ان نیکیوں کے ثواب عطافرمانے میں کوئی دِقّت نہ ہوگی مگر اپنی طاقت سے زیادہ عمل کرنے والا بالآخر خود ہی گھبرا جائے گااوراس کو جاری نہ رکھ سکے گا۔مفہوم حدیث یہ ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ عبادت میں میانہ روی اختیار کرے اور اتنا ہی عمل کرے جس کو آسانی کے ساتھ ہمیشہ کرسکے کیونکہ تھوڑا عمل جو ہمیشہ کیا جائے وہ ا س عمل سے بہتر ہے جو انسان ہمیشہ نہ کرسکے کیونکہ زیادہ کے لالچ میں تھوڑے کو بھی چھوڑنے پر مجبور ہوجائے گا۔اسی کو امام غزالیرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مثال دے کر یوں سمجھایا ہے کہ جب پتھر پر پانی قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے تو سوراخ کردیتا ہےبر خلاف یکدم اگر پانی گرجائے تو اثر تک بھی نہیں ہوتا۔ ‘‘ ( )اپنے اوپر مشقت ڈالنے سے بچو:مُفَسِّرِشَہِیْر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمفتی اَحمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ یہ تمام کلام نفلی عبادات کے لیے ہے کہ بقدر ِطاقت شروع کرو جو نِبھا سکو، فرائض تو پورے ہی پڑھنے ہوں گے ۔لہٰذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر دو وقت کی نماز ہی پڑھ سکو تو اتنی ہی پڑھ لیا کرو۔ لہٰذا حدیث صاف ہے۔ واجبات و سنن ، فرائض کے تابع ہیں اُن کی پابندی لازم ہے ۔یعنی اگر تم خود ملال و مشقت والے کاموں کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ روزانہ سو رکعت پڑھنے یا ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مان لو تو تم پر یہ چیزیں واجب ہوجائیں گی پھر تم مشقت میں پڑ جاؤ گے، مگر یہ مشقت ربّ نے نہ ڈالی تم نے خود اپنے پر ڈالی۔ یہ معنی نہیں کہﷲملال میں نہیں پڑتا حتی کہ تم ملال میں پڑو، ربّتعالٰیملال کرنے سے پاک ہے۔یہ حدیث دین ودنیاکےمشاغل کوشامل ہے، درمیانی محنت کرنے والے ہمیشہ کامیاب ہیں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ غوث پاک ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)دائمی قلیل عمل عارضی کثیر عمل سے افضل ہے۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّہر طرح کے عجز وقباحت سے پاک ہے ۔
(3) بندہ چاہے کتنا ہی عمل کرلےاللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کی جزا دینے پر قادر ہے، کیونکہ ربّ تعالی کے خزانے لا محدود ہیں ۔
(4) عبادت کےساتھ اپنےاہل وعیال کےحقوق کی پاسداری بھی ضروری ہے کہ یہ بھی عبادت ہے ۔
(5) جن عبادتوں میں غلو کرنےسے منع کیا گیاہے ان سےمرادنوافل ومستحبات ہیں جبکہ فرائض و واجبات تومشقت کی حالت میں بھی ادا کرنے ضروری ہیں ۔
(6) بلا وجہ اپنے اوپر کسی سخت عمل کو لازم نہیں کرناچاہیے کہ بسا اوقات اس کی وجہ سے دیگر معاملات میں مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہے کہ وہ ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے، ہمیں دین ودنیا کی بے شمار بھلائیاں عطا فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 142