Main Icon

باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 143

جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَ نَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:جَاءَ ثَلاَ ثَۃُ رَہْطٍ اِلَی بُیُوْتِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَسْاَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اُخْبِرُوْا کَاَ نَّہُمْ تَقَا لُّوْہَا وَقَالُوْا:اَ یْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قدْ غُفِرَ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَاَخَّرَ. قَالَ اَحَدُہُمْ:اَمَّااَنَا فَاُصَلِّی اللَّیْلَ اَبَداً، وَ قالَ الْاٰخَرُ: وَاَنَا اَصُوْمُ الدَّہْرَ وَلَا اُفْطِرُ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَاَ نَا اَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ اَ تَزَ وَّجُ اَبَداً، فَجَاءَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیْہِمْ فَقَالَ:اَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا؟ اَمَّا وَاللّٰہِ!اِنّیِ لَاَ خْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَا کُمْ لَہُ لٰکِنِّی اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّی وَاَرْقُدُ، وَاَ تَزَ وَّجُ النِّساءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی . ( )

وعن ا نس رضی اللہ عنہ قال:جاء ثلا ثۃ رہط الی بیوت ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم، یسالون عن عبادۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، فلما اخبروا کا نہم تقا لوہا وقالوا:ا ین نحن من النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد غفر لہ ماتقدم من ذنبہ وما تاخر. قال احدہم:اماانا فاصلی اللیل ابدا، و قال الاخر: وانا اصوم الدہر ولا افطر، وقال الآخر: وا نا اعتزل النساء فلا ا تز وج ابدا، فجاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیہم فقال:انتم الذین قلتم کذا وکذا؟ اما واللہ!انی لا خشاکم للہ واتقا کم لہ لکنی اصوم وافطر، واصلی وارقد، وا تز وج النساء، فمن رغب عن سنتی فلیس منی . ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ تین صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کے بارے میں پوچھنے کے ‏لیے اَزواجِ مطہراترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے گھر کی طرف آئے۔جب انہیں اس بارے میں بتایا گیا تو گویا کہ انہوں نےآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کو تھوڑا سمجھا۔کہنے لگے: ’’ ہم کہاں اور سرکارِ دوعالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مرتبہ کہاں ؟ آپ کے سبب تو آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف کردیے گئے۔ ‘‘ پھر اُن میں سے ایک نے کہا: ’’ میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ ‘‘ دوسرے نے کہا: ’’ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گااورکبھی نہیں چھوڑوں گا۔ ‘‘ تیسرے نے کہا: ’’ میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی شادی نہیں کروں گا۔ ‘‘ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن کے پاس تشریف لائے اور ارشادفرمایا: ’’ کیا تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟ سن لو!خدا کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ پرہیزگارہوں ۔لیکن پھر بھی میں روزہ بھی رکھتاہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ، نمازبھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتاہوں ۔ جس نے میری سنت سے منہ موڑاوہ مجھ سے نہیں ۔ ‘‘

شرح حدیث

وہ تین صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکون تھے ؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ ان تین صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اسما ئے گرامی یہ ہیں : (1) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَاعلی المرتضی شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِ یْم(2) حضرت سَیِّدُنَا عُثمان بن مَظْعُونرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور (3) حضرت سَیِّدُنَاعبد اللہبن رَوَاحَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ اور ایک قول کے مطابق حضرت سَیِّدُنَا مِقداد بن اَسْوَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ ‘‘ ( )سب سےزیادہ خوفِ خدا:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:بے شک!میں تم سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا اورتم سب سے زیادہ متقی ہوں ۔یعنی جو عبادت میں بہت زیادہ شدت کرتے ہیں میں ان سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں کیونکہ بسا اوقات شدت کے ساتھ عبادت کرنے کی وجہ سے انسان اُ کتاہٹ وتھکاوٹ میں مبتلا ہوجاتا ہےبرخلاف اس کے جومیانہ روی سےعبادت کرےکیونکہ اس طرح وہ ہمیشہ عبادت کرسکتا ہےاور بہترین عمل بھی وہی ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے ۔ ‘‘ ( )جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں :حدیث مذکور میں ہے کہ جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے میرے طریقے کو چھوڑکر میرے غیرکے طریقے کو اختیار کیا تو وہ مجھ سے نہیں ۔ اس ارشاد میں آپ نے رہبانیت کے رد کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، کیونکہ عیسائی راہبوں نے اپنی طرف سے دین میں شدت ایجاد کی، جیسا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ مجید میں ان کی مذمت بیان کی کہ جس چیز کو انہوں نے اپنے اوپر لازم کیا تھا اُسے پورا نہ کر سکےاورحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا طریقہ معتدل ہونے کے ساتھ نرمی وآسانی والابھی ہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(نفلی ) روزے مسلسل نہ رکھتے، بلکہ کبھی رکھتے کبھی چھوڑ دیتے تاکہ آئندہ روزے رکھنے پر طاقت حاصل ہو۔ رات کو کچھ دیر آرام بھی فرماتے تاکہ رات کے قیام پر قوت حاصل ہو اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کئی حکمتوں کے پیشِ نظر نکاح بھی فرمایا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان”وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی تاویل سے میرے طریقے کو چھوڑا تو وہ میرے طریقۂ محمودہ پرنہیں ہے اور اگر اس بناپرچھوڑاکہ وہ اپنےعمل کوزیادہ راجح سمجھتاہےتو وہ میری ملت پر نہیں ہے کیونکہ اُس کا یہ اِعتقاد کفر ہے۔ ‘‘ ( )حدیثِ پاک سےثابت ہونے والے اَحکام:(1) حدیثِ مذکور میں نکاح کی فضیلت اوراس کی ترغیب کا بیان ہے۔ (2) اپنے اکابرین کے احوال کی خبر رکھنی چاہیے تاکہ اُن کی اِتباع کی جاسکے۔اگرخو د اُن سے معلوم نہ ہو سکے تو اُن کے متعلقین سے پوچھ لیناچاہیے۔ (3) اگرریاکاری کا اندیشہ نہ ہو تو اپنے اچھے اعمال بیان کرنا جا ئز ہے۔ (4) لوگوں کو مسائل کی تعلیم دینے مکلفین کے اَحکام بیان کرنے اور لوگوں کے شبہات زائل کرنے سے پہلےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد و ثنا کرنی چاہیے۔ (5) مباح کام حسنِ نیت سے مستحب ہوجاتا ہے اور کبھی حسن نیت کے بغیر مکروہ ہوجاتا ہے۔ (6) امام طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :اس حدیث میں اُن زاہدین کا رد ہے جو اچھے کھانوں اور اچھے لباس سے منع کرتے ہوئے موٹے کپڑے پہنتے اور سخت غذا کھاتے ہیں ۔ (7) حضرت سَیِّدُنَاقاضی عیا ضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : اس میں سلف وصالحین کے احوال مختلف ہیں ، اِن میں سے بعض کا وہی نظریہ ہے جس کی طرف امام طبری (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے اشارہ کیا ہےاور بعض نےاس کےبرخلاف کہا ہے، ان کی دلیلاللہ عَزَّوَجَلَّکا یہ فرمان ہے:(اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا) (پ۲۶، الاحقاف:۲۰) (ترجمۂ کنزالایمان: تم اپنے حصّہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے۔) لیکن حق بات یہ ہےکہ یہ آیت کفارکے بارے میں نازل ہوئی ہےاور حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےدونوں اُمور (نرمی ا ورسختی) پر عمل کیا ہے۔ حق یہ ہے کہ دُنیاوی لذتوں پر ہمیشگی اختیارکرنا عیش و عشرت اور تکبر کی طرف لے جاتا ہے اور ایساشخص شُبہات میں پڑنے سے نہیں بچ سکتا کیونکہ جوعیش وعشر ت کاعادی ہو اگراسےکبھی مطلوبہ اشیاء میسر نہ ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہ اُن کے بغیر نہ رہ سکےاور کسی گناہ میں مبتلاہوجائے اور اسی طرح کبھی دنیاوی مباح لذتوں سے روکنا غلو کی طرف لے جاتاہے اوراس کی ممانعت ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میںاللہعَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے: (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-) (پ۸، لاعراف:۳۲) (ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ (اے نبی!) کس نے حرام کیاللہکی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے ‏لیے نکالی اور پاک رزق۔) اسی طرح عبادت میں شدت اختیار کرنا ایسے ملال کی طرف لے جاتا ہےجواصل عبادت اور فرائض میں میانہ روی کو ختم کر نے کا سبب ہے۔اورنفلی عبادت کو چھوڑنےسے عبادت میں نشاط ختم ہوجاتاہے۔ الغرض بہترین اُموروہ ہیں جن میں میانہ روی اختیار کی جائے ۔ ‘‘ ( )خوفِ الٰہی کثیر عبادت سے افضل:علامہ شہاب الدین احمد قسطلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں :حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تمام مخلوق سے زیادہ عبادت کرنے کی طا قت دی گئی تھی لیکن آپ کا مقصد شریعت سازی اور اُمَّت کوایسے طریقے کی تعلیم دینا تھا جس سے عبادت کرنے والاملال اور اکتاہٹ کا شکارنہ ہو۔حضرت سَیِّدُنَا علامہ ابن مُنیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتے ہیں :صحابٔہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانیہ سمجھے کہ خوف ہی عبادت پر اُبھارتا ہے اور عبادت عذابِ آخرت کے خوف پرمنحصر ہےاور انہیں معلوم تھا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممغفرت یافتہ ہیں ، تو انہوں نے آپ کی عبادت کی کم مقدار کو اس پر محمول کیا کہ آپ کو زیادہ عبادت کی ضرورت نہیں ۔ پس آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کے اِس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے جلال کا خوف، اُس کثیر عبادت سے افضل وعظیم ہے جو منقطع ہونے والی ہے کیونکہ دائمی عمل اگرچہ تھوڑا ہو اُس کثیر عمل سے بہتر ہے جو منقطع ہوجائے۔ اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مقام یہ ہے کہ آپ عبادت ِالٰہی بطورِ شکر کرتے ہیں ، عاقبت کے خوف سے نہیں کیو نکہ آپ گناہو ں سے محفوظ ہیں ۔ ‘‘ ( )نیک لوگوں کی پیروی:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں :’’ حدیث مذکور میں عبادت میں ائمہ کرام کی اقتداء کرنے، اُن کے احوال اور اُن کے شب وروز گزارنے کے طریقے میں غور وفکر کرنے کا ذکر ہے کہ جن ائمہ کرام کواللہ عَزَّ وَجَلَّنے دین اور عبادات کے معاملے میں مقتدا بنایا ہے ان کے طریقے سے تجاوز نہیں کر نا چاہیے۔جو اُن کے طریقےسے آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو وہ حد سے بڑھنے والا ہےاور عبادت میں میانہ روی اختیار کرنا بہتر ہے تاکہ عمل سے عاجز نہ آئے اور عبادت بھی منقطع نہ ہو۔حضور اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عافیت نشان ہے کہ بہترین عمل وہ ہے جسے کرنے والا ہمیشہ کرے اگر چہ تھوڑا ہو ۔ ‘‘ ( )حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا بارگاہ ِالٰہی میں قُربِ خاص:عَارِف باللّٰہحضرت علامہ عبد الغنی نابلسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ بعض صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْاَزواجِ مطہراترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّسے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اس زائد عبادت کی کیفیت کےبارے میں دریافت کرنے کے ‏لیے حاضر ہوئے جوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے گھر پر دن یارات میں بجالاتے تھے اورصحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکواس کاعلم نہ تھاکیونکہ غالب طورپرانسان کے پوشیدہ معاملات پراس کی زوجہ سے زیادہ کوئی اور مطلع نہیں ہوتا۔اسی لیےصحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانازواجِ مطہراترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ جب انہیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کے بارے میں بتایا گیاتو گویا وہ اُسے کم سمجھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا اعتقادتھاکہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت کثرت سےعبادت کرتے ہیں اورصحابۂ کرام اپنی رائے میں عبادت میں کثرت اور اپنی جانوں پر سختی کرنے ہی کوکامل عبادت گمان کیاکرتےتھے۔لیکن جب انہیں حضورنبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کے بارے میں کمی کا گمان ہواتواس کی وجہ خود ہی بیان کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم اپنے آپ کورسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی معصوم ہستی پرقیاس نہیں کرسکتے، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اپنےربّ کے ساتھ قربتِ خاص کاجومعاملہ ہے ہم اس سے خالی ہیں ۔اس ‏لیے بارگاہِ الٰہی میں ہماری اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کا معاملہ جدا ہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ عظمت تو یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے صدقے آپ کے اگلوں ، پچھلوں کے گناہ بخش دیے ہیں ۔ ‘‘ ( )علم و معرفت والے ہیاللہسےڈرتے ہیں :اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے پاس تشریف لائے اور استفسار فرمایا: ’’ کیا تم لوگوں نے ایساایساکہاہے؟ ‘‘ پھر ان کے جواب کاانتظار کیے بغیر بیانِ حق میں جلدی کرتے ہوئےفوراً قسم کے ساتھ ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم !میں تم سب سے زیادہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا ہوں ۔کیونکہ خوف علم کے تابع ہے (یعنی جتنا علم زیادہ اتناخوف زیادہ) ۔جیسا کہاللہ عَزَّوَجَلَّکافرمان ہے: (اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-)(پ۲۲، فاطر:۲۸) (ترجمۂ کنزالایمان:اللہسے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔) یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات کا علم و معرفت رکھنے والے ہیاللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہیں اوررحمت عالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمساری مخلوق سے بڑھ کراللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت رکھتے ہیں لہٰذا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمساری مخلوق سے زیادہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والے ہیں ۔حضورِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ تقوے والا ہوں ۔یعنی گویاکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے فرمایا: ’’ جب میں سب سے زیادہاللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتاہوں اورسب سے بڑا متقی ہوں تو پھرتم یہ کیسے سمجھ سکتے ہو کہ میں اطاعت و عبادت میں کم ہوں ؟ ‘‘ ( )حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے نفلی روزے:اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”میں (نفلی) روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ تا بھی ہوں ۔“یعنی جب میرے ‏لیے یہ بات ظاہر ہوجائے کہ بغیرکسی تکلف کے روزہ رکھ لوں تورکھ لیتاہوں ۔جیسا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اہل میں سے کسی کے پاس تشریف لے جاتے اور استفسار فرماتے: ’’ کیا آج تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟ ‘‘ اگر وہ کہتے: ’’ نہیں ۔ ‘‘ تو ارشاد فرماتے: ’’ میں روزہ سے ہوں ۔ ‘‘ نیزاللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حکم دیاکہ آپ یوں فرمائیں :(وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ (۸۶)) (پ۲۳، ص:۸۶) (ترجمۂ کنزالایمان:اور میں بناوٹ والوں میں نہیں ) اورسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میں روزے چھوڑتا بھی ہوں ۔ ‘‘ آپ کے روزہ چھوڑنے کامعاملہ بھی ایساہی تھا ۔ ( ) (یعنی نفلی روزہ رکھنے میں تکلف ظاہر ہوتا تو روزہ نہ رکھتے ۔)مُرید کےلیے اِحتیاط:اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیحدیث پاک کے الفاظ: ” گویاصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کو کم جانا“ کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا گمان تھا کہ حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت زیادہ وظائف و عبادت کرتے ہوں گے۔ لیکن جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کے بارے میں سنا تو وہ اُن کے اندازے سے کم تھی تو انہوں نے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئےاُس کی نسبت کمی کی طرف نہ کی بلکہ اسے حضور کا کمال سمجھااور حضور کے مقابلے میں اپنے آپ کو ملامت کی۔ اس حدیث میں مرید کے ‏لیے سبق ہے کہ وہ اپنے شیخ کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اگر اُن کی عبادت میں کمی پائے تواپنی طرف سے کوئی عذر بیان کرے اور اگر اپنے نفس کو شیخ پر اِنکار کرتا ہوا پائے تو اسے سمجھائے کیونکہ جو اپنے شیخ پر اعتراض کرے وہ کبھی فلاح نہیں پاتا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کم عبادت کرنا اُمَّت پر رحم اور شفقت کرنے کے سبب تھاتاکہ وہ مشقت میں نہ پڑیں کیونکہ انسان کے اپنی جان پر حقوق ہیں اور اہل وعیا ل کے حقوق ہیں ۔اسی ‏لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے انسان کو کھانے کا محتاج بنایا ہے تاکہ عبادت پر قوت حاصل ہو اورمَردوں کے ‏لیے عورتوں کا ہونا ضروری ہے تاکہ نسلِ انسانی باقی رہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں میں اضافہ ہو اور اپنے دین کو محفوظ کرے، ان (بیویوں ) پر خرچ کرے تاکہ اس پر اسے اجر دیا جائے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ فَیْضَانِ عَطَّار ‘‘ کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)
میانہ روی اِستقامت کی کنجی ہے۔
(2) قرآن وحدیث کاعلم حاصل کرنے کےساتھ بزگانِ دین کےاَحوال سےبھی واقف ہوناچاہیے کیونکہ اُن کی سیرت کی روشنی میں قرآن وحدیث پرعمل کرنا کامیابی کی علامت ہے۔
(3) کثرت سےنعمتوں کا اِستعمال بھی غفلت کاسبب ہے اِس لیے اعتدال سے کام لیناچاہیے۔
(4) انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی عاقبت کےخوف سے نہیں اَحکام الٰہی کی بجا آوری اور شکر ادا کرنے کے ‏لیے عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ گناہوں سےپاک ہیں اور ان کی عاقبت اچھی ہی اچھی ہے بلکہ انہی کے صدقے دوسروں کا انجام اچھا ہو گا ۔
(5) اگربزرگانِ دین
رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکےاعمال میں بظاہر کمی محسوس ہو تو اس کمی کی نسبت ان کی طرف نہ کی جائے بلکہ اچھا گمان رکھا جائے۔
(6)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت اوراُس کےشکرمیں کی جانے والی عبادت، عاقبت کےخوف سے کی جانے والی عبادت سےافضل ہے۔
(7) قرآن وحدیث کاعلم حاصل کرنا چاہیے تاکہ اُس کی روشنی میں صراطِ مستقیم پر چلتے ہوئے جنت تک پہنچ جائیں ۔
(8) اپنی غِذاورآرام کا بھی خیال رکھنا چاہیے تاکہ عبادتِ الٰہی پر قوت حاصل ہو۔
(9)
اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرکے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ حتی الامکان لوگوں کے شُبہات دُور کیے جائیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں ہرمعاملے میں اعتدال اورمیانہ روی سےکام لینےکی توفیق عطا فرمائے اورسنت کےمطابق زندگی گزارنے کی سعادت عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 143