Main Icon

باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 147

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا نَعَسَ اَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَاِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِيْ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ. ( )

عن عائشة رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اذا نعس احدكم وهو يصلي، فليرقد حتى يذهب عنه النوم، فان احدكم اذا صلى وهو ناعس لا يدري لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه. ( )

حدیث ترجمہ

:اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسےمروی ہے، رسولِ اکرمنورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جب تم میں سے کسی کو نماز کی حالت میں اُونگھ آئے تو اُسے چاہیے کہ سوجائے یہاں تک کہ اُس کی نیند چلی جائے کیونکہ جب تم میں سے کوئی اُونگھتے ہوئے نماز پڑھے تو وہ نہیں جانتاکہ شایدبخشش مانگتے مانگتے وہ اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔ ‘‘

شرح حدیث

نمازی کی کیفیت کیسی ہونی چاہیے؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں ترغیب ہے کہ نماز کے ‏لیے خشو ع وخضوع، فراغتِ قلب اور نشاط وسرور کے ساتھ آنا چاہیےاورجس شخص پرنیند کا غلبہ ہواسےسونے کاحکم دیاگیاہےتاکہ اس کی نیند چلی جائے اور یہ حکم فرض نمازاوردن و رات کے نوافل میں عام ہےاوریہی ہمارااور جمہورکامذہب ہےلیکن اگرفرض نمازکا وقت جارہاہو اور اسے نیند کا غلبہ ہو تو وہ ہر گز نہ سوئے بلکہ فرض نماز وقت میں ادا کرے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا قاضی عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا امام مالکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقاور ایک جماعت نے اس حکم کو رات کی نفلی عبادت پر محمول کیا ہےکیونکہ نیند کا غلبہ رات ہی میں ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
اُونگھتےہوئےنماز پڑھنا:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں سونے کا حکم اِستحبابی ہے اور اس حکم پر عمل کرنے والے کو ثواب بھی ملے گااور ا ُونگھ کی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے یہاں تک کہ نیند چلی جائے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَدقَسْطلانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں سونے کاحکم احتیاطاً دیا گیاہےاور یہ حکم ایک احتمالی علت کی بناپر ہے۔امام نَسائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ایک روایت میں ہے کہ نمازمکمل کرنے کے بعدنیند پوری کرے ۔نہ یہ کےصرف اُونگھ آنے کی بناپرہی نماز توڑدے۔ ‘‘ ( )
¥
اُونگھ اورنیند کامفہوم:محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتےہیں : ’’ اُونگھ ، نیند کی گرانی اور اس کی ابتدائی حالت ہے ۔اُونگھ دراصل ایک لطیف ہوا ہوتی ہے جو دماغ کی طرف سے آتی ہے اور آنکھوں کو ڈھانپ لیتی ہےاور دل تک نہیں پہنچتی۔ جب یہ ہوا دل تک پہنچ جاتی ہے تو اسے نیند کہتے ہیں ۔ اُونگھ کی صورت میں اگر اُٹھ کھڑاہواور کام کاج کرنے لگے جس سے اُونگھ دُور ہوجائے تو ایسا ہوجاتاہے۔مگر جب نیند غالب آجائےاور اسے ہٹانادماغ کو نقصان دے اور بدن کے بوجھل ہونے کا باعث بنے تو یہ حالت اختلاف حالات واَوقات سے معلوم ہوجاتی ہے۔حدیث پاک کے الفاظلَا یَدْرِیْ(یعنی وہ نہیں جانتا) سے مراد یہ ہے کہ نیند کی وجہ سے اسے معلوم نہ ہوگا کہ وہ نماز کا کونسا فعل اور نماز کے کون سے کلمات کہہ رہا ہے۔ ہوسکتاہے کہ وہ دعاواستغفارکرے مگر اس سے غلطی واقع ہوجائے اور اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگے۔اسی طرح بجائے ”اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ یا اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِیْ“کہنے کے یوں کہہ دے:اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے عذاب دے اور مجھ پر لعنت کر۔ ‘‘ ( )نمازودعامیں احتیاط ضروری ہے:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ معلوم ہوا کہ اُونگھتے ہوئےنماز پڑھنامکروہ وممنوع ہے کہ جس کی وجہ آگے آرہی ہے۔مثلاً اونگھتے ہوئے بجائےاِغْفِرْلِیْکےاِعْفِرْلِیْکہہ جائےغَفَرَ(غین کے ساتھ) کے معنی ہیں بخشنا،عَفَرَ(عین کے ساتھ) کے معنی ہیں مٹی میں ملانا، ذلیل وخوار کرنااور بعض ساعتیں قبولیت کی ہوتی ہیں جو زبان سے نکلے وہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے بہت احتیاط چاہیے۔ خیال رہے کہ بعض دفعہ مقتدی امام کے پیچھے اُونگھ جاتے ہیں ، انہیں منہ دھو کر کھڑا ہونا چاہیے مگراُس اُونگھ کی وجہ سے نمازباجماعت نہ چھوڑنی چاہیے۔ ‘‘ ( )
¥
نیند و اُونگھ سے متعلق چندضروری مسائل:(1) بیمارلیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وُضو جاتا رہا۔ (2) اُونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وُضو نہیں جاتا ۔ (3) جُھوم کر گر پڑا اور فوراً آنکھ کھل گئی وُضو نہ گیا۔ (4) نماز وغیرہ کے انتظار میں بعض مرتبہ نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور یہ دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اس وقت جو باتیں ہوئیں اُن کی اِسے باِلکل خبر نہیں بلکہ دو تین آواز میں آنکھ کھلی اور اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ سویا نہ تھا، اس کے اِس خیال کا اعتبار نہیں اگر معتبر شخص کہے کہ تُو غافل تھا، پکارا جواب نہ دیا یا باتیں پوچھی جائیں اور وہ نہ بتا سکے تو اس پر وُضو لازم ہے۔ فائدہ: انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَامکا سونا ناقض وُضو نہیں ان کی آنکھیں سوتی ہیں دل جاگتے ہیں ۔ علاوہ نیند کے اور نواقض سے انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَامکا وُضو جاتا ہے یا نہیں ، اس میں اختلاف ہے ، صحیح یہ ہے کہ جاتارہتا ہے بوجہ اُن کی عظمتِ شان کے، نہ بسبب نجاست کے کہ ان کے فُضْلَاتِ شریفہ طَیِّب و طاہِر ہیں جن کا کھانا پینا ہمیں حلال اور باعثِ برکت۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
’’ احمد ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
ہر عبادت احتیاط وتوجہ سے کرنی چاہیے کیونکہ ہوسکتاہے کہ بے خیالی میں کی جانے والی عبادت سعادت مندی کے بجائے شقاوت وبدبختی کا سبب بن جائے۔
(2) نمازاداکرنے والے کو چاہیے کہ وہ حضورِقلبی اور نِشاط کے ساتھ نماز اداکرے۔
(3) جس شخص کونماز میں اُونگھ آئےاسےچاہیےکہ نمازکوطول نہ دے۔ بلکہ جلدی نماز مکمل کر کے سُستی واُونگھ دُور کرے ۔
(4) انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکا سونا ناقص وضو نہیں ، کیونکہ اُن کی آنکھیں سوتی ہیں ، دل جاگتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دل جمعی اور حضورِ قلبی کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 147