Main Icon

باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 152

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ اِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ، فَسَاَلَ عَنْهُ فَقَالُوْا:اَبُوْ اِسْرَائِيْلَ نَذَرَ اَنْ يَّقُوْمَ فيِ الشَّمْسِ وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُوْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مُرُوْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ. ( )

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:بينما النبي صلى الله عليه وسلم يخطب اذا هو برجل قائم، فسال عنه فقالوا:ابو اسرائيل نذر ان يقوم في الشمس ولا يقعد، ولا يستظل ولا يتكلم، ويصوم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم :مروه فليتكلم وليستظل وليقعد وليتم صومه. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ ارشاد فرمارہےتھے اور ایک آدمی کھڑا تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں استفسار فرمایا تو صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بتایا یہ ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں ، سایے میں نہ جائے گا اور نہ ہی کسی سے گفتگو کرے گا اور (ہمیشہ) روزہ رکھے گا۔ ‘‘
حضور نبی اکرم رسولِ مُحْتَشَم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اس سے کہو! گفتگو کرے، سائے سے لطف اندوز ہو، بیٹھے اور اپنا روزہ پوراکرے۔ ‘‘

شرح حدیث

کون ساعمل عبادت ہے؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابواسرائیل انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُصحابی تھے۔اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ مباح کاموں یااللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر کو چھوڑنا عبادت نہیں ۔اسی طرح دھوپ میں بیٹھنا اورہر وہ کام جس سے انسان کو تکلیف ہو اور قرآن و حدیث میں اس پر ثواب نہ ہو تو وہ عبادت نہیں ۔عبادت تو وہی عمل ہے جس کااللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کےرسو لصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا ہے۔ ‘‘ ( )جائزکام کی مَنَّت پوری کرنا ضروری ہے:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اسے چاہیے کہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ کیونکہ نیک کام کی منت پوری کرنا واجب ہے اور صیام دہر مستحسن ہےاس شخص کے ‏لیے جو اس کی قدرت رکھتا ہو اور اس سے وہ پانچ دن مستثنیٰ ہو ں گے جن میں شرعًا اور عرفًا روزے رکھنا منع ہے، اگر ان ایام کے روزوں کی بھی منت مانی تھی تو احناف کے نزدیک اس پر واجب ہے کہ ان ایام کے روزے نہ رکھے اور کفارہ دے۔سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے حکم دیا ہے کہ وہ کلام کرے کیونکہ کبھی کبھی بولنا واجب ہوتاہے جیسا کہ سلام کا جواب دینا اور نماز میں قراءت کرنا اور اِن کو ترک کرنا گناہ ہے۔بہرحال ہمیشہ نہ بیٹھنا اور سائے میں نہ جانا یہ ایسے کا م ہیں جن کی انسان طاقت نہیں رکھتا تو سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَاابواسرائیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکوقسم پوری کرنےسے پہلے ہی اسے توڑنے کاحکم دیاتاکہ وہ نذرپوری کرکے نقصان نہ اُٹھائیں ۔اَصحاب ابوحنیفہرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکہتے ہیں کہ اگر کسی نے عید کے دن کے روزے کی منت مانی تو عید کے علاوہ کسی اور دن کا روزہ رکھنا واجب ہے۔ ‘‘ ( )خطبہ بیٹھ کرسننا سنت ہے:مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (دوران خطبہ ایک شخص کھڑا تھا ) اس طرح کہ سب لوگ بیٹھ کر خطبہ سن رہے تھے مگر یہ صاحب حضورِ انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے سامنے کھڑے ہو کر سُن رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ پڑھنا کھڑے ہو کر سنت ہےاور سننا بیٹھ کر سنت، اسی لیے تو حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کے کھڑے ہونے پر تعجب فرمایا۔یہ حضرت (ابو اسرائیل) بنی عامر ابن لوی کی اولاد سے تھے، قریش کے ایک خاندان سے۔ان کا نام ابواسرائیل ہی تھا۔ انہوں نے نذر مانی یعنی نماز کے علاوہ کسی وقت نہ بیٹھے گا اور کسی انسان سے کلام نہ کرے گا، یہ مطلب نہیں کہ التحیات میں بھی نہ بیٹھے گا اور نماز میں تلاوت وغیرہ بھی نہ کرے گا، عادات کی نفی ہے عبادات کی نفی نہیں ۔ یعنی خاموش رہنا، سایہ میں نہ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں بلکہ حرام ہے کیونکہ نماز میں قراءت فرض ہے اور التحیات میں بیٹھنا واجب بھی ہے فرض بھی، اسی طرح ہمیشہ کھڑا رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے، یہ نذرتوڑدےمگرروزہ چونکہ عبادت ہے اس ‏لیے اسے پورا کرے۔ خیال رہے کہ ابواسرائیل نے ہمیشہ کھڑے رہنے، ہمیشہ خاموش رہنے، سایہ میں نہ بیٹھنے ، ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی، حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے پہلی نذریں توڑنے کا حکم دیا مگر روزے کی نذر پوری کرنے کی تاکید فرمائی جوکوئی ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانے وہ سال میں پانچ حرام روزوں کے سوا تمام دن روزے رکھے اور ان پانچ دنوں میں روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے کفارہ دے، نذرکا کفارہ وہ ہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، امام شافعی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) کے ہاں ان دنوں کی نذر درست ہی نہیں ۔ ‘‘ ( )قسم کا کفارہ:قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے۔ یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگااور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا انہیں کو شام کے وقت بھی کھلائے، دوسرے دس مساکین کو کھلانے سے ادانہ ہوگا۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلادے یا ہرروزایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے اور مساکین جن کو کھلایا ان میں کوئی بچہ نہ ہو اور کھلانے میں اِباحت و تملیک دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کونصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو یا ان کی قیمت کا مالک کردے یا دس روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روزبقدرِ صدقۂ فطر دے دیا کرے یا بعض کو کھلائے اور بعض کو دے دے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
امام ’’ حُسَیْن ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
مباح کاموں کوعبادت سمجھ کرترک کرنا عبادت نہیں ہے۔ عبادت صرف وہی کام کہلائے گا جس کو شریعت مطہرہ نے عبادت کہا ہو ۔
(2) جس نذرکوپوراکرنے میں کسی نقصان کااندیشہ ہوتواسےپورانہ کرے بلکہ کفارہ اداکردے۔
(3) نذرسوچ سمجھ کرماننی چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ بعدمیں مشکل میں پڑجائےاور نذرپوری نہ کرسکے۔
(4) خطبہ کھڑے ہوکر دینااور بیٹھ کر سنناسنت مبارکہ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عبادات میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے، جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 152