- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- حدیث نمبر 152
باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 152
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ اِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ، فَسَاَلَ عَنْهُ فَقَالُوْا:اَبُوْ اِسْرَائِيْلَ نَذَرَ اَنْ يَّقُوْمَ فيِ الشَّمْسِ وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُوْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مُرُوْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ. ( )
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:بينما النبي صلى الله عليه وسلم يخطب اذا هو برجل قائم، فسال عنه فقالوا:ابو اسرائيل نذر ان يقوم في الشمس ولا يقعد، ولا يستظل ولا يتكلم، ويصوم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم :مروه فليتكلم وليستظل وليقعد وليتم صومه. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ ارشاد فرمارہےتھے اور ایک آدمی کھڑا تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں استفسار فرمایا تو صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بتایا یہ ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں ، سایے میں نہ جائے گا اور نہ ہی کسی سے گفتگو کرے گا اور (ہمیشہ) روزہ رکھے گا۔ ‘‘
حضور نبی اکرم رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اس سے کہو! گفتگو کرے، سائے سے لطف اندوز ہو، بیٹھے اور اپنا روزہ پوراکرے۔ ‘‘
شرح حدیث
کون ساعمل عبادت ہے؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابواسرائیل انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُصحابی تھے۔اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ مباح کاموں یااللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر کو چھوڑنا عبادت نہیں ۔اسی طرح دھوپ میں بیٹھنا اورہر وہ کام جس سے انسان کو تکلیف ہو اور قرآن و حدیث میں اس پر ثواب نہ ہو تو وہ عبادت نہیں ۔عبادت تو وہی عمل ہے جس کااللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کےرسو لصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا ہے۔ ‘‘ ( )جائزکام کی مَنَّت پوری کرنا ضروری ہے:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اسے چاہیے کہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ کیونکہ نیک کام کی منت پوری کرنا واجب ہے اور صیام دہر مستحسن ہےاس شخص کے لیے جو اس کی قدرت رکھتا ہو اور اس سے وہ پانچ دن مستثنیٰ ہو ں گے جن میں شرعًا اور عرفًا روزے رکھنا منع ہے، اگر ان ایام کے روزوں کی بھی منت مانی تھی تو احناف کے نزدیک اس پر واجب ہے کہ ان ایام کے روزے نہ رکھے اور کفارہ دے۔سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے حکم دیا ہے کہ وہ کلام کرے کیونکہ کبھی کبھی بولنا واجب ہوتاہے جیسا کہ سلام کا جواب دینا اور نماز میں قراءت کرنا اور اِن کو ترک کرنا گناہ ہے۔بہرحال ہمیشہ نہ بیٹھنا اور سائے میں نہ جانا یہ ایسے کا م ہیں جن کی انسان طاقت نہیں رکھتا تو سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَاابواسرائیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکوقسم پوری کرنےسے پہلے ہی اسے توڑنے کاحکم دیاتاکہ وہ نذرپوری کرکے نقصان نہ اُٹھائیں ۔اَصحاب ابوحنیفہرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکہتے ہیں کہ اگر کسی نے عید کے دن کے روزے کی منت مانی تو عید کے علاوہ کسی اور دن کا روزہ رکھنا واجب ہے۔ ‘‘ ( )خطبہ بیٹھ کرسننا سنت ہے:مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (دوران خطبہ ایک شخص کھڑا تھا ) اس طرح کہ سب لوگ بیٹھ کر خطبہ سن رہے تھے مگر یہ صاحب حضورِ انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے سامنے کھڑے ہو کر سُن رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ پڑھنا کھڑے ہو کر سنت ہےاور سننا بیٹھ کر سنت، اسی لیے تو حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کے کھڑے ہونے پر تعجب فرمایا۔یہ حضرت (ابو اسرائیل) بنی عامر ابن لوی کی اولاد سے تھے، قریش کے ایک خاندان سے۔ان کا نام ابواسرائیل ہی تھا۔ انہوں نے نذر مانی یعنی نماز کے علاوہ کسی وقت نہ بیٹھے گا اور کسی انسان سے کلام نہ کرے گا، یہ مطلب نہیں کہ التحیات میں بھی نہ بیٹھے گا اور نماز میں تلاوت وغیرہ بھی نہ کرے گا، عادات کی نفی ہے عبادات کی نفی نہیں ۔ یعنی خاموش رہنا، سایہ میں نہ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں بلکہ حرام ہے کیونکہ نماز میں قراءت فرض ہے اور التحیات میں بیٹھنا واجب بھی ہے فرض بھی، اسی طرح ہمیشہ کھڑا رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے، یہ نذرتوڑدےمگرروزہ چونکہ عبادت ہے اس لیے اسے پورا کرے۔ خیال رہے کہ ابواسرائیل نے ہمیشہ کھڑے رہنے، ہمیشہ خاموش رہنے، سایہ میں نہ بیٹھنے ، ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی، حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے پہلی نذریں توڑنے کا حکم دیا مگر روزے کی نذر پوری کرنے کی تاکید فرمائی جوکوئی ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانے وہ سال میں پانچ حرام روزوں کے سوا تمام دن روزے رکھے اور ان پانچ دنوں میں روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے کفارہ دے، نذرکا کفارہ وہ ہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، امام شافعی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) کے ہاں ان دنوں کی نذر درست ہی نہیں ۔ ‘‘ ( )قسم کا کفارہ:قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے۔ یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگااور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا انہیں کو شام کے وقت بھی کھلائے، دوسرے دس مساکین کو کھلانے سے ادانہ ہوگا۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلادے یا ہرروزایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے اور مساکین جن کو کھلایا ان میں کوئی بچہ نہ ہو اور کھلانے میں اِباحت و تملیک دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کونصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو یا ان کی قیمت کا مالک کردے یا دس روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روزبقدرِ صدقۂ فطر دے دیا کرے یا بعض کو کھلائے اور بعض کو دے دے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
امام ’’ حُسَیْن ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)مباح کاموں کوعبادت سمجھ کرترک کرنا عبادت نہیں ہے۔ عبادت صرف وہی کام کہلائے گا جس کو شریعت مطہرہ نے عبادت کہا ہو ۔
(2) جس نذرکوپوراکرنے میں کسی نقصان کااندیشہ ہوتواسےپورانہ کرے بلکہ کفارہ اداکردے۔
(3) نذرسوچ سمجھ کرماننی چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ بعدمیں مشکل میں پڑجائےاور نذرپوری نہ کرسکے۔
(4) خطبہ کھڑے ہوکر دینااور بیٹھ کر سنناسنت مبارکہ ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عبادات میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے، جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 152