Main Icon

باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 144

جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ قَالَہَا ثَلَاثًا. ( ) ( قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) اَلْمُتَنَطِّعُوْنَ:اَلْمُتَعَمِّقُوْنَ الْمُشَدِّدُوْنَ فِی غیْرِمَوْضِعِ التَّشْدِیْدِ.

وعن ابن مسعودرضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:ہلک المتنطعون قالہا ثلاثا. ( ) ( قال النووی علیہ رحمۃ اللہ القوی:) المتنطعون:المتعمقون المشددون فی غیرموضع التشدید.

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین مرتبہ ارشادفرمایا: ’’ غلوو تکلف کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ ‘‘
(امام نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :)اَلْمُتَنَطِّعُوْنَسے مراد وہ لوگ ہیں جو معاملے کی گہرائی میں پڑتے ہیں اور جہاں شدت کی حاجت نہ ہو وہاں شدت کرتےہیں ۔

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت:اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ ہرچیز کی گہرائی میں جانے اور اور کسی معاملے میں حد سے زیادہ بحث کرنا منع ہے یعنی میانہ روی کا درس دیا گیا ہے، یہ باب بھی چونکہ عبادات میں میانہ روی کا ہے اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے۔تین بار ارشاد فرمانے کی وجہ:عَلّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ غلو وتکلف کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں ۔ ‘‘ حضوراکرمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےغلو وتکلف سے روکنے کے ‏لیے یہ جملہ تین بارتاکیداً ارشاد فرمایااورآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی بات کہتےتواسےتین بار ارشاد فرماتےتاکہ سامنے والاسمجھ جائے۔ ‘‘مُتَنَطِّعُوْنَ، مُتَنَطِّعٌکی جمع ہے۔حضرت سَیِّدُنَا علّامہ خطّابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھادِیفرماتے ہیں : ’’ ہرچیز کی گہرائی میں جانے والے اور کسی بارے میں حد سے زیادہ بحث کرنے والے کومُتَنَطِّعکہتے ہیں ۔ اہل کلام کے نزدیکمُتَنَطِّعسے مراد وہ لوگ ہیں جو بے فائدہ کام میں دخل اندازی کریں اور ایسی چیز میں غور و خوض کریں جس تک اُن کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں ۔ ‘‘ ( )گفتگومیں تکلف کرنے کی ممانعت:اَشِعَّۃُ اللَّمْعَاتمیں ہے: ’’ یہاں گفتگو میں تکلف کرنا اورعمدًافصیح بننا مرادہےیعنی عبارت والفاظ میں بناوٹ، تصنُّع اور رِیاسے کام لینااور بناوٹی گفتگو سے لوگوں کوجال میں پھانسنااور گفتگومیں اس بات کا خیال نہ رکھنا کہ معنیٰ حق ہے یا نہیں ، بات درست ہے یا نہیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
اِمام ’’ حسن ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
کسی آسان معاملے کی انتہائی گہرائی تک پہنچنا ، خواہ مخواہ بحث و تکرارکرنا اور بلا وجہ سختی کرنا شریعت کو پسند نہیں ہے۔
(2) بے مقصدگفتگودنیااورآخرت میں نقصان کاباعث ہے۔
(3) گفتگوکرتےہوئےسامعین (سننےوالوں ) کالحاظ رکھنا چاہیےاورمعتدل انداز اختیارکرنا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گفتگو میں غلو وتکلف کرنے سے محفوظ فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 144