Main Icon

باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 148

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ :كُنْتُ اُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتِ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا. ( )

عن ابي عبد الله جابر بن سمرة السوايي رضي الله عنهما قال :كنت اصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الصلوات، فكانت صلاته قصدا وخطبته قصدا. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوعبداللہجابر بن سَمُرہ سُوائیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : ’’ میں حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا۔ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی نمازبھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا۔ ‘‘

شرح حدیث

رسول اللہجَوَامِعُ الْکَلِمتھے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا جابر بن سَمُرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی کنیت ابوعبداللہاورایک قول کے مطابق ابوخالد ہے۔سُوائی آپ کا لقب ہے۔آپ اورآپ کے والد محترم کو شرفِ صحابیت حاصل ہے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے 146احادیث مروی ہیں ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے 66سن ہجری میں اس دنیا سے کوچ فرمایا۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک ہزارسے زیادہ نمازیں پڑھیں ، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنماز کو اس کے تمام کمالات اور سنتو ں کے ساتھ اس طرح ادا فرماتے کہ آپ کی نماز نہ تو بہت طویل ہوتی اور نہ ہی بہت مختصر۔اسی طر ح جمعہ وغیرہ کا خطبہ بھی مُعْتَدِل ہو تا ۔ کیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجوامِعُ الْکَلِمتھے ، بہت ساری باتوں کو آسان اور کم الفاظ میں بیان فر مادیتے۔ ‘‘ ( )
¥
خطبہ کےآداب:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ٭ ’’ جمعہ کے لیے خطبے دو 2پڑھے جائیں۔٭دوسرے یہ کہ خطبہ میں قرآن کریم کی آیت بھی تلاوت کی جائے۔٭ تیسرے یہ کہ خطبے میں وعظ و نصیحت کے الفاظ بھی ہوں۔٭چوتھےیہ کہ خطبہ نہ بہت دراز ہو نہ بہت مختصر۔٭ پانچویں یہ کہ دو خطبوں کے درمیان منبر پر بیٹھ کر فاصلہ کرے۔ خیال رہے کہ خلفاء اور صحابہ و اہل بیترَضِیَ اللہُ عَنْہُمْکا ذکر نہ سنترسولُ ﷲہے نہ سنت ِصحابہ، بلکہ بدعت حسنہ ہے۔ جس کی وجہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں یہ ضرور کی جائے، جو لوگ ہر بدعت کو حرام کہتے ہیں وہ اس کو کیا کہیں گے؟ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ جَنَّت ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
خطیب کوچاہیےکہ وعظ ونصیحت کادورانیہ نہ تو بہت طویل رکھے اور نہ ہی بہت مختصر بلکہ متوسط رکھےاورحالاتِ حاضِرہ کےمطابق لوگوں کی اِصلاح کرے۔
(2) بدعت سیئہ یعنی بُری بدعت سے بچنا چاہیے جبکہ بدعتِ حسنہ کو دین میں بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ بدعت ممنوع نہیں ہے بلکہ اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اگر کی جائے تو اس پر بڑے اجروثواب کی امید ہے، جیساکہ خطبے میں خلفاءراشدین، صحابۂ کرام اوراہل بیعت
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکاتذکرہ کرنا، یہ بھی بدعت حسنہ ہے اور باعث اجروثواب ہے۔
(3) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَداؤ ں پر نظر رکھتے اور اُنہیں کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں اپنی نمازوں میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 148