Main Icon

باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 145

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِنَّ الدِّیْنَ یُسْر ٌ، وَلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنُ اِلَّا غَلَبَہُ، فَسَدِّدُوْاوَقَارِبُوْاوَاَبْشِرُوْا، وَاسْتَعِیْنُوْابِالْغَدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَیْءٍ مِّنَ الدُّلْجَۃِ. ( ) وَفِی رِوَایَۃٍ لَہُ:سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْا، وَشَیْء ٌ مِنَ الدُّلْجَۃِ، اَلْقَصْدَ اَلْقَصْدَ تَبْلُغُوْا. ( ) (قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) قَوْلُہُ: اَلدِّیْنُ ہُوَ مَرْفُوْعٌ عَلَی مَالَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہُ. وَرُوِیَ مَنْصُوْبًا، وَرُوِیَ: لَنْ یُشَادَّ الدِّیْنَ اَحَدٌ. وَقَوْلُہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِلَّا غَلَبَہُ:اَیْ غَلَبَہُ الدِّیْنُ وَعَجَزَ ذٰلِکَ الْمُشَادُّ عَنْ مُقَاوَمَۃِ الدِّیْنِ لِکَثْرَ ۃِ طُرُقِہٖ. وَالْغَدْوَۃُ:سَیْرُ اَوَّلِ النَّھَارِ. وَالرَّوْحَۃُ: آخِرُالنَّہَارِ. وَالدُّلْجَۃُ: آخِرُ الَّیْلِ. وَہٰذَااِسْتِعَارَۃٌ وَتَمْثِیْلٌ. وَمَعْنَاہُ: اِسْتَعِیْنُوْاعَلٰی طَاعَۃِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِالاَعْمَالِ فِیْ وَقْتِ نَشَاطِکُمْ، وَفَرَاغِ قُلُوْبِکُمْ بِحَیْثُ تَسْتَلِذُّوْنَ الْعِبَادَۃَ وَلَا تَسْاَ مُوْنَ، وَتَبْلُغُوْنَ مَقْصُوْدَکُمْ، کَمَا اَنَّ الْمُسَافِرَ الْحَاذِقَ یَسِیْرُ فِی ہٰذِہِ الْلاَوْقَاتِ وَیَسْتَرِیْحُ ہُوَ وَدَابَّتُہُ فِیْ غَیْرِہَا، فَیَصِلُ الْمَقْصُوْدَ بِغَیْرِ تَعَبٍ، وَللّٰہُ اَعْلَمُ.

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:ان الدین یسر ، ولن یشاد الدین الا غلبہ، فسددواوقاربواوابشروا، واستعینوابالغدوۃ والروحۃ وشیء من الدلجۃ. ( ) وفی روایۃ لہ:سددوا وقاربوا واغدوا وروحوا، وشیء من الدلجۃ، القصد القصد تبلغوا. ( ) (قال النووی علیہ رحمۃ اللہ القوی:) قولہ: الدین ہو مرفوع علی مالم یسم فاعلہ. وروی منصوبا، وروی: لن یشاد الدین احد. وقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: الا غلبہ:ای غلبہ الدین وعجز ذلک المشاد عن مقاومۃ الدین لکثر ۃ طرقہ. والغدوۃ:سیر اول النھار. والروحۃ: آخرالنہار. والدلجۃ: آخر الیل. وہذااستعارۃ وتمثیل. ومعناہ: استعینواعلی طاعۃاللہ عزوجل بالاعمال فی وقت نشاطکم، وفراغ قلوبکم بحیث تستلذون العبادۃ ولا تسا مون، وتبلغون مقصودکم، کما ان المسافر الحاذق یسیر فی ہذہ اللاوقات ویستریح ہو ودابتہ فی غیرہا، فیصل المقصود بغیر تعب، وللہ اعلم.

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ دین آسان ہے اور جو دین میں سختی اختیار کرتاہے دین اُس پر غالب آجاتاہے۔ پس سیدھی راہ چلو، میانہ روی اختیار کرو، خوش رہو، صبح وشام اوررات کے کچھ حصے میں (عبادت کے ذریعے) مددچاہو۔ ‘‘ بخاری شریف ہی کی ایک اور روایت میں ہے: ’’ سیدھی راہ چلو، میانہ روی اختیار کرو صبح وشام اور رات کے کچھ حصے میں (عبادت کے ذریعے) مدد طلب کرو ، میانہ روی اختیار کرو تم اپنے مقصد کو پا لو گے ۔ ‘‘
(امام نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :)اَلدِّیْنُنائب الفاعل ہونےکی بنا پر مرفوع ہے اور منصوببھی مروی ہے۔ایک روایت میںلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنَ اَحَدٌبھی آیا ہے اورآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ’’اِلَّا غَلَبَہُ‘‘ سے مرادیہ ہے کہ دین اس پر غالب ہوجاتاہے اوریہ شدت اختیار کرنےوالااس کے مقابلے سے عاجزآجاتاہے، کیونکہ دین کے راستے بہت زیادہ ہیں ۔اَلْغَدْوَۃُصبح کی سیر،اَلرَّوْحَۃُدن کے آخری حصے اوراَلدُّلْجَۃُرات کے آخری حصے کو کہتے ہیں ۔ یہ اِستعارہ اور تمثیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جب تم نشاط محسوس کرواورتمہارےدل فارغ ہوں توایسےاَوقات میں نیک اَعمال کے ذریعےاللہعَزَّ وَجَلَّکی اِطاعت پر مددطلب کروتاکہ تمہیں عبادت کی لذت حاصل ہواور اُ کتاہٹ کے بغیر تم اپنے مقصد تک پہنچ جاؤ۔ جیساکہ تجربہ کارمسافر انہی اوقات میں سفر کرتاہے اور دیگر ا وقات میں خود بھی آرام کرتا ہے اور اپنی سواری کو بھی آرام پہنچاتا ہےاور یوں وہ بغیر تھکاوٹ کے منزل مقصود تک پہنچ جاتاہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ

شرح حدیث

اُمَّت محمدیہ کےلیے آسانیاں :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ دین آسان ہے۔ یعنی دین اسلام پچھلے تمام اَدیان سے آسان ہے۔ اس ‏لیےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس اُمَّت سے ان تمام تنگیوں کو دور کردیا جو پہلی اُمَّتُوں پر تھیں ۔جیساکہ وہ مٹی سے ( تیمم کے ذریعے) طہارت حاصل نہیں کرسکتے تھے ، کپڑے پرجس جگہ نجاست لگ جاتی اسے کاٹنا پڑتا تھا ، توبہ کے قبول ہونے کے‏لیے اپنے آپ کو قتل کرنا پڑتا تھااور اس جیسی دیگر سختیا ں بھی تھیں ۔ پساللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے لطف و کرم سے اس اُمَّت پر رحم فرماتے ہوئے اُن تمام سختیوں کو دُور فرما دیا۔اللہعَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے: (وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-) (پ۱۷، الحج:۷۸) (ترجمۂ کنز الایمان:اور تم پردین میں کچھ تنگی نہ رکھی) ۔ ‘‘ ( )میانہ روی منزلِ مقصود تک پہنچاتی ہے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ علامہ کرمانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیالفاظ ِحدیث کے مطالب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ سیدھی راہ چلو۔یعنی قول وفعل میں سیدھی راہ پر رہو ، میانہ روی اختیار کرو۔یعنی تم نفلی عبادات میں ( اپنی جانوں پر) اتنی سختی نہ کروکہ اکتا ہٹ کاشکارہوکرنیک اعمال سے دور ہو جاؤاور حد سے بڑھنےوالوں میں شامل ہوجاؤ۔خبردار!حد سے نہ بڑھو، درمیانی راہ اختیار کرو، تم منزلِ مقصود تک پہنچ جاؤگے۔اپنے تمام اوقات عمل میں نہ گزاروبلکہ نشاط کے اوقات کو غنیمت جانواور وہ دن کا پہلا اور آخری حصہ اور رات کا کچھ حصہ ہے اوراپنی جانو ں پر رحم کر و اور اِن اوقات کے علاوہ آرام کرو تاکہ ہمیشگی سے عبادت کر سکو ۔ ‘‘( )دین میں ملنے والی نرمی اختیار کرو:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ جو دین میں سختی اختیار کرتا ہے دین اس پر غالب آجا تا ہے۔یعنی جو شخص اعمالِ دینیہ میں نرمی کو چھوڑ کر ان کی گہرائی میں جانے کی کوشش کرتا ہے وہ عاجز آکر عمل چھوڑ دیتا ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا ابن منیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ یہ فرمانِ عالی نبوت کی نشانیوں میں سےایک نشانی ہے۔ کیونکہ ہمارا اور ہم سے پہلے لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ جوبھی دین میں سختی کر تے ہیں اُن کے اَعمال اُن سے منقطع ہوجاتے ہیں ۔ خیال رہے کہ حدیث مذکور میں عبادات کو کامل طریقوں سےاَدا کرنے کی ممانعت نہیں کیونکہ یہ تو قابل تعریف ہے۔منع تو ایسےعمل سے کیا گیا ہے جو اُکتاہٹ یا فرائض وواجبات کے ترک کی طرف لےجائےیا اس کی وجہ سے فرض نماز کا وقت نکل جائے۔ جیسے کوئی شخص پوری رات نوافل پڑھتا رہے اور رات کے آخری حصے میں نیند کاغلبہ ہو جائے اور فجر کی جماعت نکل جائے یاوقت ہی نکل جائے۔اور خوش رہویعنی اس عمل پرثواب کی خوشخبری ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔ خوشخبری سےمرادیہ ہے کہ جوشخص کامل طورپرنیک عمل کرنے سےعاجز ہواوروہ عجز اس کی اپنی طرف سے نہ ہوتو اس سے ثواب میں کمی نہیں آتی۔ ‘‘ ( )میانہ روی مقصودتک پہنچاتی ہے:میانہ روی اختیار کرو تم اپنے مقصد کو پا لو گے۔یعنی تم اپنے مقصودتک یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا والے اَعمال تک میانہ روی ہی کے ذریعے پہنچو گےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّتم سے چاہتاہے کہ وہ تمہارے اَعمال قبول فرمائے، تم سے راضی ہوجائے اورتمہیں جنت الفردوس میں داخل فرما دے۔لہٰذاتمہیں چاہیے کہ میانہ روی اختیار کرو۔ ‘‘ ( )دین اسلام میں سختی نہیں :مُفَسِّر شَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اسلام آسان دین ہے۔ اس میں یہودیت کی طرح سختیاں نہیں کہ اُن کے ہاں ترکِ دنیاعبادت تھی ہمارے ہاں دنیاداری بھی عبادت ہے کہسنتِ رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمہے۔ربّ فرماتا ہے: (یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ) (پ۲، البقرۃ:۱۸۵)(ترجمۂ کنزالایمان:اللہتم پرآسانی چاہتاہے۔) جو شخص غیرضروری عبادت کو اپنے ‏لیے ضروری بنالے وہ مغلوب ہوکر تھک کررہ جاوےگا اورپھرگناہگارہوگا۔مثلاً کوئی عمر بھر روزے رکھنے کی نذرما ن لے تونہ کرسکےگاپھراپنی نذرکی وجہ سےگناہ گارہوگا۔ (خوش رہو) یعنی نیک اعمال کیے جاؤاللہ(عَزَّوَجَلَّ) سےقرب اختیار کرواور لوگوں کودین سے ڈراؤ نہیں بلکہ خوشخبریاں دے کراُدھرمائل کرویا خود خوش وخرم رہوکہاللہ عَزَّ وَجَلَّہماری کوتاہیوں سے درگزرفرمائے گا، ہمیں اپنے فضل سے بخش دے گا یعنی دوسروں کو خوشخبریاں دویا خودخوشخبریاں لو۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ اسلام ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
دین اسلام سب مذاہب سے آسان ہے ۔ اس میں اِفراط وتفریط بالکل نہیں ۔
(2) اِسلام ہمیں قول وفعل میں سیدھی اور ستھری راہ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
(3) جو کسی غیر لازم کام کو ہمیشہ کے ‏لیے اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے، اسے پریشانیوں اور اُ کتاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات وہ اُس عمل سے دُور ہو جاتا ہے ۔
(4) لوگوں کو جنت و رحمت الٰہی کی خوشخبری سنا کر اَعمالِ صالحہ کی طرف راغب کرنا چاہیے ۔
(5) میانہ روی اختیار کرنے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتےہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں دین کے اَحکا م پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 145