باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 2

:اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِ مُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن کے پاس تشریف لائے، (اُس وقت) وہاں ایک عورت بھی موجودتھی۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا: ’’ یہ کون ہے؟ ‘‘ اُمّ المؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی: ’’ یہ فلاں عورت ہے۔ ‘‘ اور پھر اُس کی نماز کا ذکر کیا۔آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ رُک جاؤ! تم پر لازم ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق عبادت کرو۔بخدا!اللہ عَزَّ وَجَلَّنہیں اُ کتاتا، تم اُ کتا جاؤ گے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکو وہ عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے کرنے والاہمیشہ کرے۔ ‘‘
علامہ نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیالفاظ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :”مَہْ“یہ نہی اور زجر کے ‏لیے آتا ہے۔ ’’لَا یَمَلُّ اللہ:یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنہیں اُ کتاتا۔ ‘‘ اس کا مطلب ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّتم سے تمہارے اَعمال کا ثواب ختم نہیں کرتااور نہ ہی تمہارے اَعمال کی جزا منقطع کرتاہےاور وہ تم سےاُ کتاہٹ والا معاملہ نہیں فرمائے گا، تم اُ کتا کر عمل چھوڑدوگے۔ لہٰذا تمہارے ‏لیے یہی مناسب ہے کہ وہ عمل کرو جسے ہمیشہ کر سکو تاکہ اُس کا ثواب اور فضیلت تمہارے ‏لیے ہمیشہ رہے۔ ‘‘

وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا اِمْرَاَۃٌ قَالَ: مَنْ ہٰذِہِ؟ قَالَتْ:ہٰذِہِ فُلَا نَۃٌ تَذْکُرُ مِنْ صَلَا تِہَا، قَالَ:مَہْ عَلَیْکُمْ بِمَا تُطِیْقُوْنَ، فَوَاللّٰہِ لَا یَمَلُّ اللّٰہُ حَتَّی تَمَلُّوْا وَکَانَ اَحَبُّ الدِّیْنِ اِلَیْہِ مَادَاوَمَ صَاحِبُہُ عَلَیْہِ. ( )
(قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) وَ”مَہْ ‘‘ کَلِمَۃُ نَہْیٍ وَزَجْرٍ ، وَمَعْنَی: لَا یَمَلُّ اللّٰہُ، اَیْ لَا یَقْطَعُ ثَوَابَہُ عَنْکُمْ وَجَزَاءَ اَعْمَالِکُمْ، وَیُعَامِلُکُمْ مُعَامَلَۃَ الْمَالِّ حَتَّی تَمَلُّوْا فَتَتْرُکُوْا، فَیَنْبَغِیْ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مَاتُطِیْقُوْنَ الدَّ وَامَ عَلَیْہِ لِیَدُوْمَ ثَوَابُہُ لَکُمْ وَفَضْلُہُ عَلَیْکُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 142 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ تین صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کے بارے میں پوچھنے کے ‏لیے اَزواجِ مطہراترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے گھر کی طرف آئے۔جب انہیں اس بارے میں بتایا گیا تو گویا کہ انہوں نےآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کو تھوڑا سمجھا۔کہنے لگے: ’’ ہم کہاں اور سرکارِ دوعالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مرتبہ کہاں ؟ آپ کے سبب تو آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف کردیے گئے۔ ‘‘ پھر اُن میں سے ایک نے کہا: ’’ میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ ‘‘ دوسرے نے کہا: ’’ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گااورکبھی نہیں چھوڑوں گا۔ ‘‘ تیسرے نے کہا: ’’ میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی شادی نہیں کروں گا۔ ‘‘ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن کے پاس تشریف لائے اور ارشادفرمایا: ’’ کیا تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟ سن لو!خدا کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ پرہیزگارہوں ۔لیکن پھر بھی میں روزہ بھی رکھتاہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ، نمازبھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتاہوں ۔ جس نے میری سنت سے منہ موڑاوہ مجھ سے نہیں ۔ ‘‘

وَعَنْ اَ نَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:جَاءَ ثَلاَ ثَۃُ رَہْطٍ اِلَی بُیُوْتِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَسْاَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اُخْبِرُوْا کَاَ نَّہُمْ تَقَا لُّوْہَا وَقَالُوْا:اَ یْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قدْ غُفِرَ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَاَخَّرَ. قَالَ اَحَدُہُمْ:اَمَّااَنَا فَاُصَلِّی اللَّیْلَ اَبَداً، وَ قالَ الْاٰخَرُ: وَاَنَا اَصُوْمُ الدَّہْرَ وَلَا اُفْطِرُ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَاَ نَا اَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ اَ تَزَ وَّجُ اَبَداً، فَجَاءَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیْہِمْ فَقَالَ:اَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا؟ اَمَّا وَاللّٰہِ!اِنّیِ لَاَ خْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَا کُمْ لَہُ لٰکِنِّی اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّی وَاَرْقُدُ، وَاَ تَزَ وَّجُ النِّساءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی . ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 143 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین مرتبہ ارشادفرمایا: ’’ غلوو تکلف کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ ‘‘
(امام نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :)اَلْمُتَنَطِّعُوْنَسے مراد وہ لوگ ہیں جو معاملے کی گہرائی میں پڑتے ہیں اور جہاں شدت کی حاجت نہ ہو وہاں شدت کرتےہیں ۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ قَالَہَا ثَلَاثًا. ( ) ( قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) اَلْمُتَنَطِّعُوْنَ:اَلْمُتَعَمِّقُوْنَ الْمُشَدِّدُوْنَ فِی غیْرِمَوْضِعِ التَّشْدِیْدِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 144 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ دین آسان ہے اور جو دین میں سختی اختیار کرتاہے دین اُس پر غالب آجاتاہے۔ پس سیدھی راہ چلو، میانہ روی اختیار کرو، خوش رہو، صبح وشام اوررات کے کچھ حصے میں (عبادت کے ذریعے) مددچاہو۔ ‘‘ بخاری شریف ہی کی ایک اور روایت میں ہے: ’’ سیدھی راہ چلو، میانہ روی اختیار کرو صبح وشام اور رات کے کچھ حصے میں (عبادت کے ذریعے) مدد طلب کرو ، میانہ روی اختیار کرو تم اپنے مقصد کو پا لو گے ۔ ‘‘
(امام نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :)اَلدِّیْنُنائب الفاعل ہونےکی بنا پر مرفوع ہے اور منصوببھی مروی ہے۔ایک روایت میںلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنَ اَحَدٌبھی آیا ہے اورآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ’’اِلَّا غَلَبَہُ‘‘ سے مرادیہ ہے کہ دین اس پر غالب ہوجاتاہے اوریہ شدت اختیار کرنےوالااس کے مقابلے سے عاجزآجاتاہے، کیونکہ دین کے راستے بہت زیادہ ہیں ۔اَلْغَدْوَۃُصبح کی سیر،اَلرَّوْحَۃُدن کے آخری حصے اوراَلدُّلْجَۃُرات کے آخری حصے کو کہتے ہیں ۔ یہ اِستعارہ اور تمثیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جب تم نشاط محسوس کرواورتمہارےدل فارغ ہوں توایسےاَوقات میں نیک اَعمال کے ذریعےاللہعَزَّ وَجَلَّکی اِطاعت پر مددطلب کروتاکہ تمہیں عبادت کی لذت حاصل ہواور اُ کتاہٹ کے بغیر تم اپنے مقصد تک پہنچ جاؤ۔ جیساکہ تجربہ کارمسافر انہی اوقات میں سفر کرتاہے اور دیگر ا وقات میں خود بھی آرام کرتا ہے اور اپنی سواری کو بھی آرام پہنچاتا ہےاور یوں وہ بغیر تھکاوٹ کے منزل مقصود تک پہنچ جاتاہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِنَّ الدِّیْنَ یُسْر ٌ، وَلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنُ اِلَّا غَلَبَہُ، فَسَدِّدُوْاوَقَارِبُوْاوَاَبْشِرُوْا، وَاسْتَعِیْنُوْابِالْغَدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَیْءٍ مِّنَ الدُّلْجَۃِ. ( ) وَفِی رِوَایَۃٍ لَہُ:سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْا، وَشَیْء ٌ مِنَ الدُّلْجَۃِ، اَلْقَصْدَ اَلْقَصْدَ تَبْلُغُوْا. ( ) (قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) قَوْلُہُ: اَلدِّیْنُ ہُوَ مَرْفُوْعٌ عَلَی مَالَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہُ. وَرُوِیَ مَنْصُوْبًا، وَرُوِیَ: لَنْ یُشَادَّ الدِّیْنَ اَحَدٌ. وَقَوْلُہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِلَّا غَلَبَہُ:اَیْ غَلَبَہُ الدِّیْنُ وَعَجَزَ ذٰلِکَ الْمُشَادُّ عَنْ مُقَاوَمَۃِ الدِّیْنِ لِکَثْرَ ۃِ طُرُقِہٖ. وَالْغَدْوَۃُ:سَیْرُ اَوَّلِ النَّھَارِ. وَالرَّوْحَۃُ: آخِرُالنَّہَارِ. وَالدُّلْجَۃُ: آخِرُ الَّیْلِ. وَہٰذَااِسْتِعَارَۃٌ وَتَمْثِیْلٌ. وَمَعْنَاہُ: اِسْتَعِیْنُوْاعَلٰی طَاعَۃِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِالاَعْمَالِ فِیْ وَقْتِ نَشَاطِکُمْ، وَفَرَاغِ قُلُوْبِکُمْ بِحَیْثُ تَسْتَلِذُّوْنَ الْعِبَادَۃَ وَلَا تَسْاَ مُوْنَ، وَتَبْلُغُوْنَ مَقْصُوْدَکُمْ، کَمَا اَنَّ الْمُسَافِرَ الْحَاذِقَ یَسِیْرُ فِی ہٰذِہِ الْلاَوْقَاتِ وَیَسْتَرِیْحُ ہُوَ وَدَابَّتُہُ فِیْ غَیْرِہَا، فَیَصِلُ الْمَقْصُوْدَ بِغَیْرِ تَعَبٍ، وَللّٰہُ اَعْلَمُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 145 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:حضرت سَیِّدُنَا اَنَسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِدوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں داخل ہوئےتودو۲ستونوں کےدرمیان ایک رسی بندھی ہوئی دیکھ کر استفسار فرمایا: ’’ یہ رسی کیسی ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی رسی ہے جب وہ (عبادت کرتے کرتے) تھک جاتی ہیں تو اس کے ساتھ سہارا لیتی ہیں ۔ ‘‘ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ اِسے کھول دو!جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھےاور جب تھک جائے تو آرام کرے۔ ‘‘

وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَاِذَا حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَبْلُ؟ قَالُوْا: هَذَاحَبْلٌ لِزَ يْنَبَ، فَاِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُلُّوْهُ، لِيُصَلِّ اَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَاِذَا فَتَرَ فَلْيَرْ قُدْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 146 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسےمروی ہے، رسولِ اکرمنورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جب تم میں سے کسی کو نماز کی حالت میں اُونگھ آئے تو اُسے چاہیے کہ سوجائے یہاں تک کہ اُس کی نیند چلی جائے کیونکہ جب تم میں سے کوئی اُونگھتے ہوئے نماز پڑھے تو وہ نہیں جانتاکہ شایدبخشش مانگتے مانگتے وہ اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔ ‘‘

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا نَعَسَ اَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَاِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِيْ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 147 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُناابوعبداللہجابر بن سَمُرہ سُوائیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : ’’ میں حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا۔ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی نمازبھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ :كُنْتُ اُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتِ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 148 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُناابوجُحَیْفَۃوہب بنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے، حضور تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا سلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاورحضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ ایک دن حضرت سَیِّدُنَاسلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضرت سَیِّدُنَاابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکےہاں تشریف لے گئےتو حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ دَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو پرانے عام سے کپڑوں میں دیکھ کرفرمایا: ’’ یہ کیاحالت ہے؟ ‘‘ کہا : ’’ آپ کے بھائیاَبُو دَرْدَاءکو دنیا کی کچھ حاجت نہیں ۔ پس جب حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآئے تو انہوں نے حضرت سَیِّدُنَا سلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ‏لیےکھانا تیار کیا اور فرمایا : ’’ کھا ئیے! میں روزے سے ہوں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاسلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ جب تک تم نہیں کھاؤ گے میں بھی نہیں کھاؤں گا۔ ‘‘ چنانچہ انہوں نےبھی کھایا۔ جب رات ہوئی تو حضرت سَیِّدُنَاابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعبادت کے ‏لیے جانے لگے۔فرمایا : ’’ ابھی سوجاؤ۔ ‘‘ تو وہ سو گئے۔کچھ دیر بعدوہ دوبارہ نماز کے ‏لیے جانے لگے توفرمایا: ’’ سوجاؤ۔ ‘‘
پھر جب رات کاآخری حصہ ہوا تو فرمایا: ’’ اب اٹھو۔ ‘‘ چنانچہ دونوں نے اکٹھے نماز ادا کی۔ حضرت سَیِّدُنَاسلمان
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ بے شک تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّکاتم پر حق ہے اور تمہارےنفس کا تم پرحق ہےاور تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے۔ لہٰذا ہر حقدار کو اس کا حق دو۔پھر جب حضرت سَیِّدُنَاابودَرْدَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضور نبی اکرمنورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ سلمان (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے سچ کہا۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ جُحَيْفَةَ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ الله ِرَضِي َ الله ُ عَنْهُ قَالَ:آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَاَبِي الدَّرْدَاءِ، فَزَارَسَلْمَانُ اَبَاالدَّرْدَاءِ فَرَاَى اُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ: مَا شَاْنُكِ؟ قَالَتْ: اَخُوْكَ اَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا. فَجَاءَ اَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ لَہُ: کُلْ! فَانِّیْ صَائِمٌ . قَالَ: مَا اَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَاْ كُلَ. فَاَ كَلَ . فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ اَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُوْمُ فقَالَ لَہُ: نَمْ، فَنَامَ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقُوْمُ فَقَالَ لَہُ: نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ:قُمِ الْآنَ، فَصَلَّيَا جَمِیْعًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: اِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَ اِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِاَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَاَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ سَلْمَانُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 149 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو میرے بارے میں بتایا گیا کہ میں یہ کہتاہوں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! جب تک میں زندہ رہوں گا، دن کوروزہ رکھوں گااور رات کوقیام (یعنی نوافل کی ادائیگی) کروں گا۔ ‘‘ حضور رحمت عالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کیا تم نے یہ بات کہی ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ جی ہاں !یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں ! میں نے یہ بات کہی ہے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ تم اس کی طاقت نہ رکھو گے، پس کبھی (نفلی) روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، نیند بھی کرو اور قیام (رات کی نفلی عبادت) بھی کرو اور ہر مہینےمیں تین روزے رکھ لیا کرو ، کیونکہ بے شک ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے اور یہ زندگی بھر کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ایک دن روزہ رکھو، دو ۲دن چھوڑدو۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ایک دن روزہ رکھو ایک دن چھوڑدو، یہ داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے روزے ہیں اور یہ مُعْتَدِل ترین روزے ہیں ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ ’’ یہ (نفلی) روزوں کا بہترین طریقہ ہے۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ اس سے اَفضل کچھ نہیں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا( جب بڑی عمر کو پہنچے تو) فرمایا کرتے: ’’ کاش! میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان کو قبول کرلیتا کہ ’’ مہینے میں تین روزے رکھو۔ ‘‘ تو یہ مجھے اپنے اہل وعیال اور اپنے مال سے بھی زیادہ محبوب ہوتا۔ ‘‘
ایک روایت میں ہے آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں ارشادفرمایا: ’’ مجھے اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کر تے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ جی ہاں !یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ‘‘ فرمایا: ’’ ایسا نہ کرو، روزہ رکھو بھی اور چھوڑو بھی، نیندبھی کرو اور قیام بھی ، بے شک! تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، تمہاری زوجہ کا تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، تمہارے ‏لیے کافی ہے کہ تم ہر ماہ تین روزے رکھوکیونکہ تمہارے ‏لیے ہر نیکی کا بدلہ دس گُنا ہے یہ عمر بھر کے روزے (شمار) ہوں گے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عَمروبن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : ’’ میں نے خود پر سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں اپنے اندر زیادہ قوت پاتاہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نبی حضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرح روزے رکھو، اس پر اضافہ نہ کرو۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ حضرت سَیِّدُنَا داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے روزےکیسےتھے؟ ‘‘ فرمایا:”نصف زمانہ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عمَرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابڑھاپے میں فرمایا کرتے تھے: ’’ کاش میں نے حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رُخصت قبول کر لی ہوتی۔ ‘‘
ایک روایت میں ہے کہ آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ مجھے بتایاگیا ہےکہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہواور رات بھر قرآن پڑ ھتے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ جی ہاں !یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!لیکن میں اس سے خیر ہی کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نبی حضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرح روزے رکھو، کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے اور ہر ماہ ایک قرآن مکمل کرو۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ پھر بیس دنوں میں پورا پڑھ لیاکرو۔ ‘‘ میں نےعرض کی: ’’ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ دس دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ‘‘ میں نےعرض کی: ’’ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ سات دنوں میں ختم کرواور اس پر اضافہ نہ کرو ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ میں نے خود پر سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی اور مجھ سے حضورنبی اکرم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاتھاکہ ’’ تم نہیں جانتے، شاید تمہاری عمر طویل ہو جائے۔ ‘‘ فرماتے ہیں : ’’ پس میں اس عمر کو پہنچ گیا جس کے بارے میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاتھا۔جب مجھے بڑھاپا آیاتو میں نے چاہا کہ کاش میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رخصت قبول کرلی ہوتی۔ ‘‘
ایک روایت میں یوں ہےکہ سرکارِ مکہ مکرمہ سردارِ مدینہ منورہ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے۔ ‘‘ اورایک روایت میں یوں ہے کہ تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا: ’’ جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ نہیں رکھا۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک سب سے پسندیدہ روزہ حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکا روزہ ہے اور سب سے پسندیدہ نماز حضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی نماز ہے۔ وہ آدھی رات آرام کرتے، دوتہائی رات نماز پڑھتےپھر چھٹا حصہ آرام فرماتے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے اور جب جنگ میں دشمن کا سامنا ہوتا تو پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عَمروبن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ میرے والد نے ایک شریف عورت سے میرا نکاح کیا اور اس کا بہت خیال رکھتے، اس سے میرے بارے میں پوچھتے، تو وہ جواب دیتیں : ’’ وہ بہت اچھے آدمی ہیں ، جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں ، کبھی میرے بستر پر نہیں آئے اور نہ ہی کبھی مجھ سے قربت کی۔ ‘‘ جب اس بات کو کافی عرصہ گزر گیاتو انہوں تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاس بات کا ذکر کیا۔تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اسے میرے پاس لاؤ۔ ‘‘ چنانچہ جب میں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملا تو آپ نے استفسار فرمایا: ’’ تم (نفلی ) روزے کس طرح رکھتے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ ہر روز رکھتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ قرآن کیسے ختم کرتے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ ہررات قرآن ختم کرتا ہوں ۔ ‘‘ پھر سابقہ روایت بیان کی۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقرآن کا وہ ساتواں حصہ جورات کو پڑھنا ہوتا، دن میں اہل خانہ میں سے کسی کو سنادیتے تاکہ رات کو پڑھنا آسان ہوجائے اور جب قوت حاصل کرنا چاہتے تو کئی کئی دن روزہ نہ رکھتے لیکن ان دنوں کو شمار کرتے اور پھر اتنے دن روزے رکھتے۔ وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ اس عمل کو چھوڑ دیں جس عمل کے ساتھ انہوں نےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملاقات کی تھی۔
( امام نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :) یہ تمام روایات صحیح ہیں ، اکثر روایات بخاری ومسلم میں ہیں جب کہ کچھ روایات ان میں سے صرف ایک میں ہیں ۔

عَنْ اَ بِيْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:اُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنّیِ اَقُوْلُ: وَاللهِ لَاَصُوْمَنَّ النَّهَارَ، وَلَا َقُوْمَنَّ اللَّيْلَ مَاعِشْتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَنْتَ الَّذِيْ تَقُوْلُ ذٰلِكَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ بِاَبِيْ اَنْتَ وَاُمِّي يَا رَسُوْلَ اللَّهِ. قَالَ: فَاِنَّكَ لَا تَسْتَطِيْعُ ذَلِكَ، فَصُمْ وَاَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ اَ يَّامٍ فَاِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ اَمْثَالِهَا، وَذٰلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ قُلْتُ: فَاِنِّي اُطِيْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ، قَالَ:فصُمْ يَوْمًا وَاَفْطِرْ يَوْمَيْنِ، قُلْتُ: فَاِنِّي اُطِيْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:فصُمْ يَوْمًا وَاَفْطِرْ يَوْمًا، فذَ لِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَهُوَ اَعْدَلُ الصِّيَامِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ: هُوَ اَفْضَلُ الصِّيَامِ. فَقُلْتُ: فَاِنِّي اُطِيْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا اَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. وَ لِاَنْ اَكُوْنَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْاَ يَّامَ الَّتِيْ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اَهْلِي وَمَالِي. ( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ:اَلَمْ اُخْبَرْ اَنَّكَ تَصُوْمُ النَّهَارَوَتَقُوْمُ اللَّيْلَ ؟ قُلْتُ: بَلٰی يَا رَسُوْلَ اللَّهِ قَالَ : فَلَا تَفْعَلْ : صُمْ وَاَفْطِرْ، وَنَمْ وَ قُمْ فَاِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَ اِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَ اِنَّ لِزَ وْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَاِنَّ لِزَ وْرِکَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَ اِنَّ بِحَسْبِكَ اَنْ تَصُوْمَ فِيْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ اَ يَّامٍ، فَاِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ اَمْثَالِهَا، فَاِنَّ ذٰلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ. فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ ، قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ! اِنِّي اَجِدُ قُوَّ ةً، قَالَ: صُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ. قُلْتُ:وَمَاكَانَ صِيَامُ دَاوُدَ؟ قَالَ:نِصْفُ الدَّهْرِ . فَكَانَ عَبْدُاللہِ يَقُوْلُ بَعْدَ مَا كَبِرَ : يَا لَيْتَنِيْ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّه ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ:اَلَمْ اُخْبَرْ اَنَّكَ تَصُوْمُ الدَّهْرَ ، وَتَقْرَاُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ؟ فَقُلْتُ: بَلٰی! يَا رَسُوْلَ اللَّهِ ، وَلَمْ اُرِدْ بِذٰلِكَ اِلَّا الْخَيْرَ قَالَ:فَصُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ، فَاِنَّهُ كَانَ اَعْبَدَ النَّاسِ، وَاقْرَالْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ: یَانَبِيَّ اللَّهِ! اِنِّي اُطِيْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ.قَالَ: فَاقْرَاْهُ فِي كُلِّ عِشْرِيْنَ .قُلْتُ :يَا نَبِيَّ اللَّهِ اِنِّي اُطِيْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ؟ قَالَ: فَاقْرَاْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ.قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ اِنِّي اُطِيْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ؟ قَالَ: فَاقْرَاْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذٰلِكَ. فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، وَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :اِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُوْلُ بِكَ عُمُرٌ . قَالَ: فَصِرْتُ اِلَى الَّذِي قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدتُّ اَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ: وَ اِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَفِيْ رِوَايَةٍ: لَاصَامَ مَنْ صَامَ الاَبَدَ، ثَلَا ثًا. وَفِيْ رِوَايَةٍ: اَحَبُّ الصِّيَامِ اِلَى اللَّهِ تَعَالَي صِيَامُ دَاوُدَ، وَاَحَبُّ الصَّلَاةِ اِلَى اللَّهِ تَعَالَي صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُوْمُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ اِذَا لَاقَى. ( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ: قَالَ: اَنْكَحَنِي
اَبِي امْرَاَةً ذَاتَ حَسَبٍ ، فَكَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ.اَ يْ: اِمْرَاَةَ وَلَدِهِ. فَيَسْاَ لُهَا عَنْ بَعْلِهَا، فَتَقُوْلُ لَهُ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَاْ لَنَا فِرَاشًا وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ اَ تَيْنَاهُ.فَلَمَّا طَالَ ذٰلِكَ عَلَيْهِ ذَكَرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: اَلْقَنِيْ بِهِ، فَلَقِيْتُهُ بَعْدَ ذٰلِكَ فَقَالَ: كَيْفَ تَصُوْمُ؟ قُلْتُ: كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: وَكَيْفَ تَخْتِمُ؟ قُلْتُ: كُلَّ لَيْلَةٍ، وَذَكَرَ نَحْوَ مَاسَبَقَ، وَکَانَ يَقْرَاُ عَلٰی بَعْضِ اَهْلِهِ السُّبُعَ الَّذِي يَقْرَؤُهُ، يَعْرِضُهُ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ اَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ، وَ اِذَا اَرَادَ اَنْ يَتَقَوَّ ى اَفْطَرَ اَ يَّامًا وَاَحْصٰى وَصَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيَةَ اَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا فَارَقَ عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ( )
(قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) کُلُّ ہٰذِہِ الرِّوَایَاتِ صَحِیْحَۃٌ مُعْظَمُہَا فِی الصَّحِیْحِیْنَ وَقَلِیْلٌ مِنْہَا فِیْ اَحَدِہِمَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 150 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُناحنظلہ بن ربیع اُسَیِّدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجورسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاتبوں میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے میری ملاقات ہوئی تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ اے حنظلہ! کیسے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ حنظلہ منافق ہوگیا۔ ‘‘فرمایا: ’’سُبْحَان اللہ! یہ کیا کہہ رہے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ ہم حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم سے جنت و دوزخ کا ذکرتے ہیں تو اس وقت ہماری کیفیت ایسی ہوتی ہے گویاہم انہیں آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں ، پھر جب ہم آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےپاس سے چلےجاتے ہیں تو بیویوں ، اولاد اور جائیداد میں مشغول ہوتے ہیں اور بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۔ ‘‘ سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!ہماری بھی یہی حالت ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا حنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ پھر میں اور سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تومیں نے عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!حنظلہ منافق ہوگیا۔ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ کیسے؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ جب ہم آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ہوتےہیں آپ ہمیں جنت اور دوزخ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں تو ہماری کیفیت ایسی ہوتی ہے گویا کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں ، پھر جب ہم آپ کے پاس سے جاتے ہیں تو اپنی بیویوں ، اولاد اور جائیدادمیں مشغول ہو کر بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ا س ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے!تم ذکر و فکر کی جس کیفیت میں میرے پاس ہوتے ہو، اگر ہمیشہ اسی حالت پر رہو تو فرشتے تمہارے بستروں اور راستوں پر تم سے مصافحہ کریں ، لیکن اے حنظلہ! ایک ایک گھڑی ۔ ‘‘ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

عَنْ اَبِيْ رِبْعِیِّ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيْعِ الْاُسَيِّدِيِّ الْكَاتِبِ اَحَدِ كُتَّابِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَقِيَنِي اَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَيْفَ اَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قُلْتُ:نَافَقَ حَنْظَلَةُ! قَالَ:سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ:نَكُوْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ كَاَنَّا رَاْيَ عَيْنٍ، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا الْاَزْوَاجَ وَالْاَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِيْنَا كَثِيْرًا.قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:فَوَاللَّهِ اِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا، فَانْطلَقْتُ اَنَا وَاَبُوْ بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلٰی رَسُوْ لِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .فَقُلْتُ:نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُوْ لَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُوْ لُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْ لَ اللَّهِ نَكُوْنُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَاَنَّا رَاْيَ العَيْنِ، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْاَزْوَاجَ وَالْاَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِيْنَا كَثِيْرًا.فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَدُوْمُوْ نَ عَلَى مَا تَكُوْنُوْ نَ عَلَیْہِ عِنْدِيْ وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ، وَلٰكِنْ يَاحَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً. ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 151 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ ارشاد فرمارہےتھے اور ایک آدمی کھڑا تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں استفسار فرمایا تو صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بتایا یہ ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں ، سایے میں نہ جائے گا اور نہ ہی کسی سے گفتگو کرے گا اور (ہمیشہ) روزہ رکھے گا۔ ‘‘
حضور نبی اکرم رسولِ مُحْتَشَم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اس سے کہو! گفتگو کرے، سائے سے لطف اندوز ہو، بیٹھے اور اپنا روزہ پوراکرے۔ ‘‘

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ اِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ، فَسَاَلَ عَنْهُ فَقَالُوْا:اَبُوْ اِسْرَائِيْلَ نَذَرَ اَنْ يَّقُوْمَ فيِ الشَّمْسِ وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُوْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مُرُوْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 152 ، باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان