- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- حدیث نمبر 151
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ رِبْعِیِّ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيْعِ الْاُسَيِّدِيِّ الْكَاتِبِ اَحَدِ كُتَّابِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَقِيَنِي اَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَيْفَ اَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قُلْتُ:نَافَقَ حَنْظَلَةُ! قَالَ:سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ:نَكُوْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ كَاَنَّا رَاْيَ عَيْنٍ، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا الْاَزْوَاجَ وَالْاَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِيْنَا كَثِيْرًا.قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:فَوَاللَّهِ اِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا، فَانْطلَقْتُ اَنَا وَاَبُوْ بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلٰی رَسُوْ لِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .فَقُلْتُ:نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُوْ لَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُوْ لُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْ لَ اللَّهِ نَكُوْنُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَاَنَّا رَاْيَ العَيْنِ، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْاَزْوَاجَ وَالْاَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِيْنَا كَثِيْرًا.فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَدُوْمُوْ نَ عَلَى مَا تَكُوْنُوْ نَ عَلَیْہِ عِنْدِيْ وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ، وَلٰكِنْ يَاحَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً. ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ( )
عن ابي ربعی حنظلة بن الربيع الاسيدي الكاتب احد كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لقيني ابو بكر رضي الله عنه فقال: كيف انت يا حنظلة؟ قلت:نافق حنظلة! قال:سبحان الله ما تقول؟ قلت:نكون عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكرنا بالجنة والنار كانا راي عين، فاذا خرجنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم عافسنا الازواج والاولاد والضيعات نسينا كثيرا.قال ابو بكر رضي الله عنه:فوالله انا لنلقى مثل هذا، فانطلقت انا وابو بكر حتى دخلنا علی رسو ل الله صلى الله عليه وسلم .فقلت:نافق حنظلة يا رسو ل الله! فقال رسو ل الله صلى الله عليه وسلم: وما ذاك؟ قلت: يا رسو ل الله نكون عندك تذكرنا بالنار والجنة حتى كانا راي العين، فاذا خرجنا من عندك عافسنا الازواج والاولاد والضيعات نسينا كثيرا.فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده لو تدومو ن على ما تكونو ن علیہ عندي وفي الذكر لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي طرقكم، ولكن ياحنظلة ساعة وساعة. ثلاث مرات. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُناحنظلہ بن ربیع اُسَیِّدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجورسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاتبوں میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے میری ملاقات ہوئی تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ اے حنظلہ! کیسے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ حنظلہ منافق ہوگیا۔ ‘‘فرمایا: ’’سُبْحَان اللہ! یہ کیا کہہ رہے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ ہم حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم سے جنت و دوزخ کا ذکرتے ہیں تو اس وقت ہماری کیفیت ایسی ہوتی ہے گویاہم انہیں آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں ، پھر جب ہم آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےپاس سے چلےجاتے ہیں تو بیویوں ، اولاد اور جائیداد میں مشغول ہوتے ہیں اور بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۔ ‘‘ سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!ہماری بھی یہی حالت ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا حنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ پھر میں اور سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تومیں نے عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!حنظلہ منافق ہوگیا۔ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ کیسے؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ جب ہم آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ہوتےہیں آپ ہمیں جنت اور دوزخ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں تو ہماری کیفیت ایسی ہوتی ہے گویا کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں ، پھر جب ہم آپ کے پاس سے جاتے ہیں تو اپنی بیویوں ، اولاد اور جائیدادمیں مشغول ہو کر بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ا س ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے!تم ذکر و فکر کی جس کیفیت میں میرے پاس ہوتے ہو، اگر ہمیشہ اسی حالت پر رہو تو فرشتے تمہارے بستروں اور راستوں پر تم سے مصافحہ کریں ، لیکن اے حنظلہ! ایک ایک گھڑی ۔ ‘‘ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
شرح حدیث
مَحْفِلِ نَبَوِی کی برکتیں :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حنظلہ منافق ہو گیا۔یعنی انہیں یہ خوف ہوا کہ وہ منافق ہو گئے ہیں کیونکہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں ان پر خوفِ خُدا کا غلبہ ہوتاتھااور اس کے ساتھ ساتھ ان پر مراقبہ، تفکر اورآخرت کی طرف توجہ کی کیفیت ظاہر ہوتی تھی اور جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس سے جاتے تو گھر والوں ، بچوں اور معاش وغیرہ میں مشغول ہوجاتے تھےتو انہیں خوف ہوا کہ کہیں یہ نفاق تونہیں ۔پس حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انھیں بتایا کہ یہ نفاق نہیں ہے اور انہیں ہمیشہ اس کیفیت پر رہنے کا مکلف نہیں بنایا گیا۔ ‘‘ ( )حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکاانوکھااندازِبیان:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا حنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےاپنی حالت بیان کرتے ہوئےکہاکہ جب ہمرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرہوتےہیں اورآپ ہمارےدرمیان وعظ فرماتے ہیں ، جہنم اور اس کے عذابات کاتذکرہ کرتے ہیں اور کبھی ہماری ترغیب کے لیے جنت اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں یا ہمارے سامنےاللہ عَزَّ وَجَلَّیااس کے قُرب کایااس کی صفتِ جمالی وجلالی کے آثارکاتذکرہ کرتے ہیں تو ہماری حالت یہ ہوتی ہے گویاکہ ہماللہ عَزَّ وَجَلَّکا دیدار کررہے ہیں یا جنت ودوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن جب ہم آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دُور ہوتے ہیں تو ہماری اس حالت میں فرق آجاتا ہے اور ہم اپنی اَزواج میں مشغول ہوجاتے ہیں اور اپنی اولاد سے کھیلتے ہیں اور اپنےمعاشی معاملات کی تگ و دَو میں لگ جاتے ہیں ۔ پھرجب بارگاہ ِ رسالت میں حاضرہو کریہ ساری کیفیت بیان کی توسرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اے حنظلہ! اگر تمہاری حالت ہروقت وہی رہے جومیری بارگاہ میں ہو تی ہے یعنی موانع بشریہ اورنفسی تقاضےتمہارے آڑے نہ آئیں اورتم حاضروغائب ہونےکی حالت میں دائمی طور پراسی کیفیتِ کاملہ پر رہوجو تم نے بیان کی توفرشتے تمہاری آرام گاہوں اورتمہارےراستوں میں ، تمہاری مشغولیت وفراغی کے اوقات میں ، تمہارے دن ورات میں تم سے اعلانیہ طورپرمصافحہ کریں لیکن اے حنظلہ! یہ کیفیت چندساعتوں کی ہوتی ہےاس طرح کہ بندہ ایک ساعت میں کیفیت حضوری میں ہوتاہےاور ایک ساعت میں اس کے اندرکمی آجاتی ہےتو جب تم کیفیت حضوری میں ہوتے ہوتواپنے ربّ کے حقوق اداکرتے ہواورجب وہ کیفیت نہیں رہتی توتم اپنے نفس کوخوش کرتے ہواورایسی حالت میں بندہ منافق نہیں ہوتا۔اس کاحاصل یہ ہےکہ اے حنظلہ!جو کیفیت تم نے بیان کی اس پر دوام حاصل کرنامشقت ہےاور ہر ایک اس کی طاقت نہیں رکھتااور نہ ہی لوگوں کو اس کا مکّلف کیا گیا ہےاکثرلوگ چند ہی ساعتیں اس کیفیت میں گزارنے کی طاقت رکھتے ہیں اور تمہاری حالت بھی یہی ہے۔لہٰذاتم صراطِ مستقیم پر ہو اور تمہیں جو اپنے منافق ہونے کا وہم ہواہے وہ غلط ہےکیونکہ شیطان راہِ سلوک پرچلنے والوں کواس قسم کے توھّمات میں مبتلاکرنے کی کوشش کرتاہےیہاں تک کہ وہ اُن کے اِعتقادات میں تغیر پیداکردیتاہےپھر اس طرح وہ لوگ نیک اَعمال کوبالکل چھوڑدیتے ہیں ۔ ‘‘ حدیث پاک میںثَلَاثَ مَرَّاتٍکےالفاظ ہیں یعنی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین مرتبہ ارشادفرمایا۔اس میں تین احتمالات ہیں : (۱) پہلایہ ہےکہ سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاپناپورا قول تین بارارشادفرمایا۔ (۲) دوسرایہ کہلٰکِنْسے آخر تک کی جو گفتگوہےوہ تین بارارشادفرمائی۔ (۳) تیسرایہ کہسَاعَۃًوَسَاعَۃًکے الفاظ تین بار ارشاد فرمائے۔ ‘‘ ( )
¥ایک بات تین بارکیوں ارشادفرمائی؟اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ثَلاثَ مَرّاتٍیعنی حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بطورِ تاکید تین مرتبہ ارشاد فرمایاتاکہ اس کا اثر زیادہ ہواورحضرت سَیِّدُنَا حنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا وہم زائل ہوجائےاورسَاعَۃًوَسَاعَۃًکے الفاظ میں احتمال ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ رخصت دینے کےلیے ارشادفرمائے ہوں (یعنی ایک ساعتاللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کرو اور ایک ساعت میں اپنے نفس کے حقوق ادا کرو۔) یہی احتمال زیادہ ظاہرہےاور یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عبادت کی مُحافظت پر اُبھارنے کےلیے ارشادفرمایا ہوتاکہ ایسا نہ ہوکہ اپنے اوپر مَشقت لازم کرنے کی وجہ سے تم تھک جاؤاورعبادت بالکل ہی چھوڑ دو۔ ‘‘ ( )اپنے اَوقات کی تقسیم کاری:دلیل الفالحین میں ہے : ’’ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنےا وقات کو تقسیم کرلے ۔ایک وقت یا دِ الٰہی کےلیے، اسی طرح محاسبہ نفس محاسبہ مخلوق میں غورو فکر ، کھانے پینے اور دیگر ضروریات کے لیے اَوقات مقرر کر لے ۔کمالات حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے ا ِس کے علاوہ بقیہ خیالات ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی صُحبت کا اثر:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یہ حنظلہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) غَسیلُ الملائکہ نہیں ہیں ، بلکہ دوسرے صحابی ہیں جو کاتبِ وحی تھے۔اُسیدابن عَمرو ابن تمیم کی اولاد سے ہیں ۔ بڑی عمر پائی ، حضرت امیر معاویہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ (حنظلہ منافق ہوگیا) یعنی میر ی حالت منافقوں کی سی ہوئی کہ اس میں یکسانیت نہیں ۔یہاں نِفاق سے اعتقادی نفاق مراد نہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے اور نہ اس کلام میں اپنے کفر یا نفاق کا اقرار ہے ( بلکہ ) آپ کا یہ قول انتہائی خوفِ خدا پر مبنی ہے، اقرارِ کفر تو کفر ہے، مگر اقرارِ گناہ جو خوفِ خدا سے ہو عین تقویٰ ہے۔حضرت یونسعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیاتھا:اِنّی کُنْتُ مِنَ الظَّلِمِیْنَ، حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا:رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا، جیسے ان بزرگوں کو ظالم نہیں کہا جاسکتا ایسے ہی ان صحابی کواس کلام کی بنا پر عاصی یا منافق نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذا یہ حدیث روافض کی دلیل نہیں بن سکتی ۔ ( حضرت سَیِّدُنَا حنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بات سن کر سَیِّدُنَاصدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا :سُبْحَان اللہ! یہ کیا کہہ رہے ہو؟ ) تم سے نفاق کو کیا نسبت ؟ تم صحابیٔ رسول ہو، کاتب وحی ہو، اپنے کلام کا مطلب خود بیان کرو۔ (بارگاہِ رسالت میں ہوتے ہوئے گویاہم جنت ودوزخ کو آنکھوں سے دیکھ رہےہوتے ہیں ) یعنی اس وقت ہم کو خوف و اُمید اس درجہ کی ہوتی ہے گویا ہم جنت دوزخ دیکھ کر اس سے ڈر رہے ہیں اور اسے چاہ رہے ہیں معلوم ہوا کہ صحابہ کو حضورِ انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی مجلس میں عین الیقین نصیب ہوجاتا تھا نہ معلوم حضور انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے پیچھے اُن کی نمازیں کیسی ہوتی ہوں گی۔ﷲ تعالٰیان کی تجلی کچھ ہم کو بھی نصیب کرے۔ضَیْعَاتٌ،ضَیْعَۃٌکی جمع ہےضَیْعَۃٌوہ چیز ہے جس سے روزی وابستہ ہو اکثر زمین، باغات کھیتی باڑی کوضَیْعَۃٌکہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم پرگھر پہنچ کر کچھ غفلت طاری ہوجاتی ہے ، دل کا حال وہ نہیں رہتا جو حضورِ انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی مجلس پاک میں ہوتا ہے، دل کا یکساں حال نہ رہنا ہی حال کی منافقت ہے۔ (حضرت سَیِّدُنَاحنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بات سن کرحضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:ہماری بھی یہی حالت ہے) یعنی یہ اختلافِ حال صرف تمہارا ہی نہیں بلکہ ہم تمام صحابہ کا ہے، تو کیا ہم سب منافق ہوگئے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ چلو حضورِ انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسےپوچھیں ۔یہ حضورِ انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے بیان کا معجزہ تھا کہ آپ کے بیان سے عالَمِ غیب گویا عالَمِ شہادت بن جاتا تھا ۔بعض علماء کی تقریر میں سامعین کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے واقعہ سامنے ہورہا ہے ، بار ہا ذکرِ معراج ، ذکرِ ہجرت وغیرہ میں ایسا دیکھا گیا ہے، یہ بیان و اخلاص کا کمال ہے۔ ( حضرت سَیِّدُنَاحنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنےعرض کی:آپ کے پاس سے جانے کے بعد ہم بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں ) بھول جانے سے مراد ہے توجہ تام نہ رہنا نہ کہ حفظ کا مقابل، لہٰذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ جب صحابہ کا حافظہ اتنا کمزور تھا کہ فوراً حضور انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا فرمان بھول جاتے تھے تو اُن سے روایت حدیث کیونکر درست ہوئی۔ (حضو رصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: تمہاری جو کیفیت ہماری موجودگی میں ہوتی ہےا گر ہمیشہ رہے تو فرشتے تم سے مصافہ و ملاقات کریں ) یعنی تمہارے قلب کا جو حال میر ی مجلس میں ہوتا ہے اور جو کشف و مشاہدہ تیقظ و بیداری یہاں ہوتی ہے، اگر ایسی ہی ہر وقت رہے تو فرشتے تم سے علانیہ طور پر ملاقاتیں مصافحے کیا کریں ورنہ صحابۂ کرام سے فرشتے مصافحے بھی کرتے تھے اور ملاقاتیں بھی مگر دوسری شکلوں میں ۔ (حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:لیکن اے حنظلہ! ایک ایک گھڑی ) یعنی زندگی کی بعض گھڑیاں دینی انہماک کے لیے رہیں اور بعض گھڑیاں دنیاوی کاروبار کے لیے تاکہ دونوں جہاں آباد و قائم ر ہیں ۔ایک ہندی شاعر نے کیا خوب کہا ، شعر:
تو دنیا میں ایسا ہو رہ جوں مرغابی ساگر میں
ڈگر پہ اپنے ایسے جانا جوں چت ناری گاگر میں
مرغابی دریا میں آکر تیرنے والا جانور بن جاتی ہے اور ہوا میں پہنچ کر پرندہ، پہاڑی عورت دو گھڑے سر پر ایک گھڑ ابغل میں دوسرا ہاتھ میں لٹکائے اپنی سہیلیوں سے باتیں کرتی راستہ طے کرلیتی ہے، بیک وقت راستہ پر بھی نظر رکھتی ہے اور گھڑوں کا دھیان بھی اور سہیلی کی طرف توجہ بھی، ایسے ہی مسلمان مسجد میں پہنچ کر فرشتہ صفت بن جائے، بازار میں جا کر اعلیٰ درجہ کا تاجر، دنیاو دین دونوں کو سنبھالے ، خالق و مخلوق سب کے حقوق ادا کرتا ہوا زندگی کا راستہ طے کرے۔سُبْحَان ﷲ!کیا نفیس تعلیم ہے۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کی ہر ساعتﷲکے ذکر میں گزرتی ہے کہ دنیاوی کاروبار انہیںذکر ﷲسے غافل نہیں کرتے اور بعض لوگوں کے ہاں تقسیم ہوتی ہے کہ بعض گھڑیاں ربّتعالٰیکے ذکر میں اور بعض گھڑیاں دنیاوی مشغلہ میں ، صحابۂ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) میں بھی انہیں دو قسم کے حضرات تھے۔ حضرت ِحنظلہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) دوسری جماعت سے تھے اس لیے ان سے یہ فرمایا گیا، اسی لیے حضرت حنظلہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) سے خطاب فرمایا، صدیق اکبر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) سے خطاب نہ فرمایا کہ حضرت صدیق (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) پہلی جماعت سے تھے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’یَاغَفَّارُ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)حضورنبی پاک صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاصحاب میں کوئی بھی منافق نہیں تھا، نہ ہی اعتقادی اور نہ ہی عملی، اسی لیے بعض صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا اپنے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنا ان کے اعلیٰ درجے کے تقویٰ وپرہیزگاری، اخلاص وفکرِ آخرت پر دلالت کرتا ہے۔
(2) صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنی دینی اور دنیاوی حاجات لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضرہوتے تھے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی حاجتیں پو ری فرمایا کرتے تھے۔
(3) علما ئے کرام کوچاہیے کہ اپنی صحبت میں رہنے والوں کومختلف اصلاحی موضوعات پردرس دیں ، کبھی دوزخ سے ڈرائیں تو کبھی جنت کی نعمتوں کی رغبت دلائیں ، کبھی خوفِ خداکا درس دیں توکبھی محبت الٰہی سے ان کے دلوں کوجگمگائیں ۔
(4) دل کی کیفیت کابدلتے رہنا بشری اور فطری تقاضہ ہے۔
(5) بہت کامیاب ہے وہ شخص جو اپنے تمام امور کو ان کے اوقات میں انجام دے۔
(6) اگرکسی کوکوئی بات سمجھانی ہویا ذہن نشین کروانی ہوتواس کی حکمتیں بیان کرنا نہایت مفید ہےاور اسے تین مرتبہ دہرائے اس طرح سننےوالا صحیح طریقے سےسمجھ سکے گا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمارے دلوں کواپنےقُربِ خاص کی دولت سے مالامال فرمائے ، اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عشق سے معمور فرمائے ، فکرِ آخرت نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 151