Main Icon

خیر خواہی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 181

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبی رُقَیَّۃَ تَمِیْمِ بْنِ اَوْسٍ اَلدَّارِیّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ : اَنَّ النَّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : الدِّینُ النَّصِیْحَۃُ قلْنَا : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلہِ وَلِکِتَابِہِ وَلِرَسُولِہِ وَلِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِہِمْ. ( )

عن ابی رقیۃ تمیم بن اوس الداری رضی اللہ تعالی عنہ : ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قال : الدین النصیحۃ قلنا : لمن ؟ قال : للہ ولکتابہ ولرسولہ ولأئمۃ المسلمین وعامتہم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا تمیم داری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’دِین خیر خواہی کا نام ہے۔‘‘ہم نے عرض کی:’’ کس کے لئے ؟‘‘ فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے، اُس کی کتاب ، اُس کے رسول،اَئمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے لئے ۔‘‘

شرح حدیث

(1)اللہ عَزَّوَجَلَّکے لیے خیر خواہی:علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں: ’’دِین کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہےکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات پہ ایمان رکھنا، اُس سے شرک کی نفی کرنا، اُس کی صفات میں عیب نہ نکالنا، اسے کمال اور بزرگی کی صفات سے متصف کرنا، اسے تمام عیبوں سے پاک ماننا ، اس کی فرمانبرداری کرنا،اس کی نافرمانی سے بچنا،اسی کے لیے محبت اور اسی کے لیے دشمنی رکھنا، اس کے فرمانبرداروں سے محبت اور اس کے نافرمانوں سے عداوت رکھنا، جو اس ذات ِباری تعالیٰ کا انکار کرے اس سے جہاد کرنا، اس کی نعمتوں کا اِعتراف اور اُن پر شکر بجا لانا، سچے دل سے اِن تمام اُمور کو ماننا، مذکورہ تمام اَوصاف کی طرف لوگوں کو دعوت دینا، اُن پر اُبھارنااور تمام لوگوں سے حتی الامکان نرمی کا برتاؤ کرنا۔‘‘(2)کتاباللہکے لیے خیرخواہی:دِین کا کتاب اللہ کے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ’’اِس بات پر ایمان لانا کہ بے شک یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام ہے، اسی کا نازل کردہ ہے، مخلوق میں سے کسی کا کلام اس کے مشابہ نہیں ، نہ ہی مخلو ق میں سے کوئی اس جیسا کلام لانے پر قادر ہے، کتاب اللہکی تعظیم کرنا، کما حقہ اس کی تلاوت کرنا،اسے خوبصورت بنانا،جو کچھ اس میں ہے اس کی تصدیق کرنا، اس کے احکام پر عمل کرنا، اس کے علوم و امثال کو سمجھنا، اس کے

عجائبات میں غور و فکر کرنا، احکام والی آیات پر عمل کرنا، متشابہ آیات پر ایمان رکھنا، اُس کےعموم خصوص ناسخ و منسوخ سے بحث کرنا،اس کے علوم کو پھیلانا اورقرآن اور اُس کی نصیحتوں کی جانب لوگوں کو بلانا ۔ ‘‘
(3)رسولُ اللہکے لیے خیر خواہی:دِین کے حضور نبی کریم، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ ’’آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کی تصدیق کرنا اور جو کچھ آپ لے کر آئے اُس پر ایمان لانا،جس چیز کا حکم دیں اُس پر عمل کرنا اور جس چیز سے منع کریں اُس سے باز رہنا، حیاتِ ظاہری میں اور اُس کے بعدآپ کی مدد کرنا،آپ کے دشمنوں سے دشمنی اور دوستوں سے دوستی رکھنا، آپ کے حق کا لحاظ رکھنا، آپ کاادب واحترام اور تعظیم وتوقیربجالانا، آپ کے طریقے و سنت کو زندہ کرنا، آپ کی دعوت اور شریعت کو پھیلانا،آپ کی شریعت سے تہمت کی نفی کرنا، شریعت کے علوم سے فائدہ حاصل کرنا، اُس کے معانی میں گہری سمجھ بوجھ حاصل کرنا، لوگوں کو اُس کی طرف بلانا، اُس کے سیکھنے سیکھانے تعظیم و بزرگی میں نرم رویہ اختیار کرنا، اِن علوم کو پڑھتے وقت اُن کے اَدب کا خیال رکھنا، اگر علم نہ ہو تو اُس کے بارے میں کلام کرنے سے رکنا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نسبت کی وجہ سے اہل بیت کا احترام کرنا،آپ کے اَخلاق و آداب کو اپنانا،اَہلِ بیت اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے محبت کرنا،اُن لوگوں سے بُغض رکھنا جو سنت میں کوئی نئی وبُری چیز اِیجاد کریں یا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے کسی ایک صحابی سے بھی اِعراض کریں۔‘‘(4)آئمہ مسلمین کے لیے خیر خواہی:دِین کا ائمہ مسلمین کے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ ’’حق پر اُن کی مدد کرنا، حق بات میں اُن کی اطاعت کرنا، اُن کے حکم کو ماننا، نرمی کے ساتھ اُن کو تنبیہ کرنا اور ڈرانا، وہ جس چیز سے غافل ہوں اُس کی انہیں خبر دینا،انہیں مسلمانوں کے وہ حقوق یاد دلانا جن سے وہ بے خبر ہوں، اُن کے خلاف بغاوت نہ کرنا، لوگوں کے دلوں کو اُن کی اطاعت کے لیے نرم کر نا، اُن کے پیچھے نماز پڑھنا، جہاد میں اُن کا ساتھ دینا اور اُن کو صدقات اَدا کرنا۔‘‘ یہ تمام معاملات اُسی صورت میں ہیں جب کہ آئمہ مسلمین یا تو خلفاء ہوں یا قوم کے خیر

خواہ حکمران ہو ں۔ائمہ مسلمین سے مراد علماءِ دین بھی ہوتے ہیں تو اُن کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ جو وہ بیان کریں اُسے قبول کیا جائے اور اَحکام میں اُن کی تقلید یعنی پیروی کی جائے اور اُن کے ساتھ حسنِ ظن رکھاجائے۔
(5)عام مسلمانوں کے لیےخیر خواہی:دِین کا عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ ’’دُنیوی و اُخروی معاملات میں اُن کی رہنمائی کرنا، اُن کی تکالیف کو دُور کرنا، دِین کے بارے میں جوبات وہ نہیں جانتے اُنہیں سکھانا، قول و فعل سے اُن کی مدد کرنا، اُن کے عیبوں کو چھپانا، اُن کی ضرورت کو پورا کرنا، تکلیف دہ چیز کو اُن سے دُور کرنا، نفع دینے والی چیزوں کو اُن کے قریب کرنا، اِخلاص اور نرمی کے ساتھ اُنہیں بھلائی کا حکم دینااور برائی سے روکنا، اُن پر شفقت کرنا، اُن کے بڑوں کی عزت کرنا ،چھوٹوں پر شفقت کرنا، انہیں اچھی نصیحت کرنا، اُن کے ساتھ دھوکہ اور حسد نہ کرنا، بھلائی میں سے جو اپنے لیے پسند کرے وہ ہی اُن کے لیے بھی پسند کرنا اور ناپسندیدہ چیزوں میں سے جو اپنے لیے ناپسند کرے وہ ہی اُن کے لیے بھی ناپسند کرنا۔‘‘( )خیر خواہی کے لیے علم ضروری ہے:شارِحِ حدیث علامہ اِبن بَطال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاِس بات کو نقل فرمایا ہے کہ کوئی بھی شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ، کتابُ اللہ، اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، اَئمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے لئے اُس وقت تک خیر خواہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے آپ سے خیر خواہی اور طلب علم کے لیے کوشش نہ کرے، کیونکہ علم ہی کے ذریعے اُسے معلوم ہوگا کہ کیا چیز اُس کے لیے واجب ہے اور کیا نہیں، نیز یہ بھی معلوم ہوگا کہ شیطان اُس کا دشمن ہے، اُس سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟ اورنفس کِن بُری باتوں کی طرف مائل ہوتا ہےجن سے بچنا چاہیے۔‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’نصیحت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) دِین خیر خواہی کا ہی نام ہے، بغیر خیر خواہی کے دِین کی حقیقی رُوح کوئی نہیں پا سکتا۔
(2) دِین اسلام وہ پیارا دِین ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ائمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے ساتھ بھی خیر خواہی کا مبارک درس دیتا ہے۔
(3) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے خیرخواہی دراصل بندے کی اپنے لیے ہی خیر خواہی ہے کہ جب وہ اَحکاماتِ اِلٰہیّہ پر عمل کرے گا تو اُسے اُس کے دِینی ودُنیوی فوائد حاصل ہوں گے۔
(4) رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے خیرخواہی یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِتباع کرنا، آپ کا ادب واِحترام اور تعظیم وتوقیر کرنا عین اِیمان بلکہ اِیمان کی جان ہے۔
(5) کوئی بھی شخص مسلمانوں کے لئے اُس وقت تک خیر خواہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے آپ سے خیر خواہی اور طلب علم کے لیے کوشش نہ کرے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقیقی خیر خواہی عطا فرمائے، کما حقہ اَحکاماتِ اِلٰہیّہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، کتابُ اللہ کا ادب واِحترام اور اُس کی تلاوت کا ذوق وشوق عطا فرمائے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سچی پکی محبت عطا فرمائے، ائمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے ساتھ بھی حُسن سُلوک اور خیر خواہی کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 181