Main Icon

خیر خواہی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 183

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ. ( )

عن أنس رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ دو عالَم کے مالک ومختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنےبھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘

شرح حدیث

کامل مؤمن ہونے کی نفی:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: ’’اِس حدیث پاک میں کمالِ ایمان کی نفی کی ہے یعنی کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا۔ کسی چیز کے نام کی نفی سے اس کے کامل ہونے کی نفی ہوتی ہے ۔جیسا کہ اہل عرب کا مقولہ ہے: ’’فُلَانٌ لَیْسَ بِاِنْسَانٍیعنی فلاں شخص اِنسان نہیں ہے ۔‘‘ مراد یہ ہے کہ وہ کامل انسان نہیں ہے۔‘‘( )پسندیدہ چیزسے کیا مراد ہے؟عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:’’اس سے مرادیہ ہے کہ خیر اور نیکی کی جو چیز بھی اپنے لئے پسند کرے وہ اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرے۔خیر ایک جامع لفظ ہے جس میں تمام

نیکیاں، دینی اور دنیاوی تمام مباح یعنی جائز کام شامل ہیں اِس سے ممنوعہ یعنی ناجائز کام نکل گئے ۔‘‘( )
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:’’بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے فرمایا کہ اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے تکلیف دہ چیز اور ناپسندیدہ چیزوں کو دُور کرےجیسا کہ حضرت سیدنا اَحْنَف بِنْ قَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اگر مجھے کسی کی کوئی بھی بات یا فعل ناپسند ہوتو میں بھی کسی اور کے ساتھ وہ بات یا فعل نہیں کرتا ۔‘‘( )
مسلمان بھائی کی پسند کی وضاحت:مرآۃ المناجیح میں ہے:یہ فرمانِ عالی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جامع کلمات سے ہے ،اِن چند لفظوں میں دونوں جہاں کی خوبیاں جمع ہیں۔ کوئی شخص مؤمن کامل اُس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنےمسلمان بھائی کے لئے دینی و دُنیاوی وہ چیز نہ پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ خیال رہے کہ یہاں خیر یعنی اچھائی وبھلائی مراد ہے یعنی ہر مسلمان کے لئے دنیا و آخرت کی خیر پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔اپنے مسلمان بھائی کے لیے اچھائی وبھلائی کی پسند کا ظہور مختلف طریقوں سے ہوسکتا ہے۔مثلاً کسی کے لئے دولت مندی خیر ہے،کسی کےلئے فقیری خیر،کسی کےلئے خَلْوَتْ یعنی تنہائی خیر، تو کسی کےلئے جَلْوَتْ یعنی بِھیڑ خیر۔ لہٰذااگر کوئی مسلمان فقیر ہو اور اپنے لیے فقیری کو پسند کرتا ہو مگر اپنے بھائی کے لیے دولت مندی کو پسند کرے کہ اُسے دولت مندی ہی پسند ہے تو یہ اِس فرمان کے خلاف نہیں، اِسی طرح اگر کوئی خلوت نشین ہو یعنی تنہائی پسند ہو مگر وہ اپنے بھائی کے لیے جلوت پسند کرے کہ اُسے جلوت ہی پسند ہے تو یہ بھی اِس فرمان کے منافی نہیںوَعَلٰی ھٰذَا الْقِیَاس۔دراصل تمام مسلمانوں میں خیر ہی خیر ہے مگر ہرمسلمان میں اِس کی صورت مختلف ہے جیسا کہ پاور یعنی بجلی ایک ہی ہوتی ہے مگر ہیٹر میں پہنچے تو گرمی دیتی ہے اورفِرج میں پہنچے تو ٹھنڈک ۔( )
خیر خواہی سےمتعلق تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے کہ میرے نزدیک بندے کی سب سے پسندیدہ عبادت لوگوں سے خیر خواہی کرناہے۔( )(2)مؤمن اُس وقت تک اپنے دِین (یعنی رحمتِ الٰہی)کی وُسعت میں رہتا ہے جب تک اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی چاہتا ہے اور جب اُس کی خیرخواہی سے الگ ہو جاتا ہے تو اُس سے توفیق کی نعمت چھین لی جاتی ہے۔( )(3)جوقیامت کے دن پانچ چیزیں لے کرآئے گا ،اُسے جنت سے نہ روکا جائے گا: (1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ (2)اُس کے دِین(3)اُس کی کتاب(4)اُس کے رسول اور (5) مسلمانوں کی جماعت کی خیرخواہی۔( )مدنی گلدستہ
’’رحمت ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جو اچھی چیز اپنے لیے پسند ہو وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرنا کامل مؤمن ہونے کی علامت ہے۔
(2) خیرخواہی کرنا نہایت ہی پسندیدہ عبادت ہے۔
(3) جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کا خیر خواہ رہتا ہے تب تک رحمتِ الٰہی کی وُسعت میں رہتا ہے۔
(4) اپنے مسلمان بھائی کی خیرخواہی کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بہت محبوب ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہمدردی اور خیرخواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، جو اچھی چیز ہم اپنی ذات کے لیے پسند کریں اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی وہی پسند کریں، ہمیں نیکیاں کرنے، دوسروں کواُن کی ترغیب دلانے، گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 183