خیر خواہی کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرتِ سَیِّدُنا تمیم داری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’دِین خیر خواہی کا نام ہے۔‘‘ہم نے عرض کی:’’ کس کے لئے ؟‘‘ فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے، اُس کی کتاب ، اُس کے رسول،اَئمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے لئے ۔‘‘

عَنْ اَبی رُقَیَّۃَ تَمِیْمِ بْنِ اَوْسٍ اَلدَّارِیّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ : اَنَّ النَّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : الدِّینُ النَّصِیْحَۃُ قلْنَا : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلہِ وَلِکِتَابِہِ وَلِرَسُولِہِ وَلِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِہِمْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 181 ، خیر خواہی کا بیان

حضرت سَیِّدُنا جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی۔‘‘

عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْد اللَّہِ قَالَ بَایَعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَلَی اِقَامِ الصَّلاَۃِ وَ اِیْتَاء ِ الزَّکَاۃِ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلمٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 182 ، خیر خواہی کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ دو عالَم کے مالک ومختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنےبھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 183 ، خیر خواہی کا بیان