- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- خیر خواہی کا بیان
- حدیث نمبر 182
خیر خواہی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 182
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْد اللَّہِ قَالَ بَایَعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَلَی اِقَامِ الصَّلاَۃِ وَ اِیْتَاء ِ الزَّکَاۃِ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلمٍ. ( )
عن جریر بن عبد اللہ قال بایعت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم علی اقام الصلاۃ و ایتاء الزکاۃ والنصح لکل مسلم. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی۔‘‘
شرح حدیث
بیعت اَعمال:تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ایمان وتقویٰ پر بھی بیعت ليا کرتے تھے اور نیک اعمال پر بھی جسے بیعتِ اَعمال بھی کہتے ہیں۔یعنی اے میرے صحابہ! میری معرفت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے وعدہ کرو کہ ہم نیک اعمال کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے۔ بیعت کی بہت سی اقسام ہیں۔‘‘( )حدیث پاک سے ماخوذ چند اَہم باتیں:شارِحِ حدیث علامہ ابنِ بطال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مذکورہ حدیث کےتحت چند باتیں بیان فرمائی ہیں:٭∞ نصیحت یعنی خیر خواہی کا دوسرا نام دِین اور اسلام ہے۔٭∞ دِین کا اِطلاق جس طرح عمل پر ہوتا ہے اُسی طرح قول پر بھی ہوتا ہے۔٭∞ نصیحت یعنی خیر خواہی فرضِ کفایہ ہے، البتہ جو شخص خیر خواہی کرے گا اُسے اُس کا اَجر ملے گا۔٭∞ طاقت کے مطابق نصیحت لازم ہے، نصیحت کرنے والے کو اگر معلوم ہو کہ اُس کی نصیحت کو قبول کیا جائے گا، اُس کی بات کو تسلیم کیا جائے گا، نیز اسے کسی نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ نہیں ہے تو اب نصیحت کرنا اُس پر لازم ہے اور اگر نقصان کا اندیشہ ہوتو پھر اختیار ہے۔( )سیدنا جریر بنعبد اللہکی خیرخوا ہی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث کے راوی حضرت سیدنا جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھ پر مسلمانوں کی خیر خواہی کی فقط نیت ہی نہیں کی تھی بلکہ اس کو عملی جامہ بھی پہنایا تھا۔ چنانچہ ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے غلام کو ایک گھوڑا خرید کر لانے کا حکم دیا۔اس غلام نے تین سو(300) درہم میں ایک گھوڑے کا سودا کیا اور گھوڑے کے مالک کو ساتھ لے آیاتاکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے رقم ادا کردیں۔ جب آپ نے وہ گھوڑا دیکھا تو اس کے مالک سے کہا کہ ’’تمہارا گھوڑا توتین سو(300) درہم سے زیادہ مالیت کا ہے، کیا تم اسے چار سو(400) درہم میں بیچو گے؟‘‘مالک نے کہا: ’’ جیسے آپ کی مرضی۔ ‘‘ پھر آپ نے کہا : ’’ یہ چار سو (300)درہم سے بھی زیادہ مالیت کا ہے۔ ‘‘ یوں آپ اس گھوڑے کی قیمت میں سو (100)سو (100)دِرہم کا اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے وہ گھوڑا آٹھ سو درہم(800) میں خریدا۔جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا: ’’میں نےرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی ہے۔‘‘( )مسلمانوں کی خیر خواہی کا عظیم جذبہ:امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ’’احترام مسلم ‘‘ صفحہ ۱ پر تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا شیخ ابو عبداللہ خیاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک آتش پرست کپڑے سلواتا اور ہر بار اُجرت میں کھوٹا سکہ دے جاتا۔ آپ اس کو لے لیتے۔ ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی غیر موجودگی میں شاگرد نے آتش پرست سے کھوٹا سکہ نہ لیا، جب حضرت سیدنا شیخ ابو عبداللہ خیاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ واپس تشریف لائے اور اُن کو معلوم ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شاگرد سے فرمایا: ’’تونے کھوٹا سکہ کیوں نہ لیا؟ کئی سال سے وہ مجھے کھوٹا سکہ ہی دیتا رہا ہے اور میں بھی چپ چاپ لے لیتا ہوں تاکہ یہ کسی دوسرے مسلمان کو نہ دے آئے۔‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے، پہلے کے بزرگوں میں مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ کس
قدر کُو ٹ کُوٹ کر بھرا ہوا ہوتا تھا۔ کسی انجانے مسلمان بھائی کو اتفاقی نقصان سے بچانے کے لیے بھی اپنا خسارہ گوارا کرلیا جاتا تھا، جبکہ آج تو بھائی اپنے بھائی کو ہی لوٹنے میں مصروف ہے۔ دعوت اسلامی دور اسلاف کی یاد تازہ کرنا چاہتی ہے۔ دعوت اسلامی نفرتیں مٹاتی اور محبتوں کے جام پلاتی ہے۔ ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ وہ اپنا مدنی ذہن بنائے کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ‘‘اپنی اصلاح کے لیے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بطفیل مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی برکت سے مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ بیدار ہوگا۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہمارا معاشرہ ایک بار پھر مدینہ منورہ کے دلکش وخوشگوار، خوشبودار وسدا بہار رنگ برنگے پھولوں سے لدا ہوا حسین گلزار بن جائے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
طیبہ کے سوا سب باغ پامال وفنا ہوں گے
دیکھو کے چمن والو جب عہد خزاں آیامدنی گلدستہ
’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس طرح اِیمان وتقویٰ پر بیعت لیا کرتے تھے، اِسی طرح نیک اَعمال پر بھی بیعت لیا کرتے تھے اِسے بیعتِ اَعمال کہتے ہیں۔
(2)نصیحت یعنی خیر خواہی کا دوسرا نام دِین اور اسلام ہے۔
(3)نصیحت کرنا فرضِ کفایہ ہے۔ اگرمعلوم ہو کہ سامنے والا میری نصیحت کو قبول کرلے گا اور کسی نقصان کا بھی اندیشہ نہ ہوتو نصیحت کرنا لازم ہے، ورنہ اختیار ہے۔
(4)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مسلمانوں کے ساتھ بھرپور خیر خواہی کیا کرتے تھے، ہمیں بھی اُن کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ بیدا رکرنا چاہیے۔
(5)بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنمسلمانوں کی خیر خواہی اور اُن کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا نقصان بھی برداشت کرلیتے تھے۔ہمیں بھی چاہیے کہ بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے اندر مسلمانوں کی خیر خواہی کا عظیم جذبہ بیدار کریں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 182