Main Icon

خیر خواہی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 182

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْد اللَّہِ قَالَ بَایَعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَلَی اِقَامِ الصَّلاَۃِ وَ اِیْتَاء ِ الزَّکَاۃِ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلمٍ. ( )

عن جریر بن عبد اللہ قال بایعت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم علی اقام الصلاۃ و ایتاء الزکاۃ والنصح لکل مسلم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی۔‘‘

شرح حدیث

بیعت اَعمال:تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ایمان وتقویٰ پر بھی بیعت ليا کرتے تھے اور نیک اعمال پر بھی جسے بیعتِ اَعمال بھی کہتے ہیں۔یعنی اے میرے صحابہ! میری معرفت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے وعدہ کرو کہ ہم نیک اعمال کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے۔ بیعت کی بہت سی اقسام ہیں۔‘‘( )حدیث پاک سے ماخوذ چند اَہم باتیں:شارِحِ حدیث علامہ ابنِ بطال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مذکورہ حدیث کےتحت چند باتیں بیان فرمائی ہیں:٭∞ نصیحت یعنی خیر خواہی کا دوسرا نام دِین اور اسلام ہے۔٭∞ دِین کا اِطلاق جس طرح عمل پر ہوتا ہے اُسی طرح قول پر بھی ہوتا ہے۔٭∞ نصیحت یعنی خیر خواہی فرضِ کفایہ ہے، البتہ جو شخص خیر خواہی کرے گا اُسے اُس کا اَجر ملے گا۔٭∞ طاقت کے مطابق نصیحت لازم ہے، نصیحت کرنے والے کو اگر معلوم ہو کہ اُس کی نصیحت کو قبول کیا جائے گا، اُس کی بات کو تسلیم کیا جائے گا، نیز اسے کسی نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ نہیں ہے تو اب نصیحت کرنا اُس پر لازم ہے اور اگر نقصان کا اندیشہ ہوتو پھر اختیار ہے۔( )سیدنا جریر بنعبد اللہکی خیرخوا ہی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث کے راوی حضرت سیدنا جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے

رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھ پر مسلمانوں کی خیر خواہی کی فقط نیت ہی نہیں کی تھی بلکہ اس کو عملی جامہ بھی پہنایا تھا۔ چنانچہ ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے غلام کو ایک گھوڑا خرید کر لانے کا حکم دیا۔اس غلام نے تین سو(300) درہم میں ایک گھوڑے کا سودا کیا اور گھوڑے کے مالک کو ساتھ لے آیاتاکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے رقم ادا کردیں۔ جب آپ نے وہ گھوڑا دیکھا تو اس کے مالک سے کہا کہ ’’تمہارا گھوڑا توتین سو(300) درہم سے زیادہ مالیت کا ہے، کیا تم اسے چار سو(400) درہم میں بیچو گے؟‘‘مالک نے کہا: ’’ جیسے آپ کی مرضی۔ ‘‘ پھر آپ نے کہا : ’’ یہ چار سو (300)درہم سے بھی زیادہ مالیت کا ہے۔ ‘‘ یوں آپ اس گھوڑے کی قیمت میں سو (100)سو (100)دِرہم کا اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے وہ گھوڑا آٹھ سو درہم(800) میں خریدا۔جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا: ’’میں نےرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی ہے۔‘‘( )
مسلمانوں کی خیر خواہی کا عظیم جذبہ:امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ’’احترام مسلم ‘‘ صفحہ ۱ پر تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا شیخ ابو عبداللہ خیاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک آتش پرست کپڑے سلواتا اور ہر بار اُجرت میں کھوٹا سکہ دے جاتا۔ آپ اس کو لے لیتے۔ ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی غیر موجودگی میں شاگرد نے آتش پرست سے کھوٹا سکہ نہ لیا، جب حضرت سیدنا شیخ ابو عبداللہ خیاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ واپس تشریف لائے اور اُن کو معلوم ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شاگرد سے فرمایا: ’’تونے کھوٹا سکہ کیوں نہ لیا؟ کئی سال سے وہ مجھے کھوٹا سکہ ہی دیتا رہا ہے اور میں بھی چپ چاپ لے لیتا ہوں تاکہ یہ کسی دوسرے مسلمان کو نہ دے آئے۔‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے، پہلے کے بزرگوں میں مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ کس

قدر کُو ٹ کُوٹ کر بھرا ہوا ہوتا تھا۔ کسی انجانے مسلمان بھائی کو اتفاقی نقصان سے بچانے کے لیے بھی اپنا خسارہ گوارا کرلیا جاتا تھا، جبکہ آج تو بھائی اپنے بھائی کو ہی لوٹنے میں مصروف ہے۔ دعوت اسلامی دور اسلاف کی یاد تازہ کرنا چاہتی ہے۔ دعوت اسلامی نفرتیں مٹاتی اور محبتوں کے جام پلاتی ہے۔ ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ وہ اپنا مدنی ذہن بنائے کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ‘‘اپنی اصلاح کے لیے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بطفیل مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی برکت سے مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ بیدار ہوگا۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہمارا معاشرہ ایک بار پھر مدینہ منورہ کے دلکش وخوشگوار، خوشبودار وسدا بہار رنگ برنگے پھولوں سے لدا ہوا حسین گلزار بن جائے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
طیبہ کے سوا سب باغ پامال وفنا ہوں گے
دیکھو کے چمن والو جب عہد خزاں آیا
مدنی گلدستہ
’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس طرح اِیمان وتقویٰ پر بیعت لیا کرتے تھے، اِسی طرح نیک اَعمال پر بھی بیعت لیا کرتے تھے اِسے بیعتِ اَعمال کہتے ہیں۔
(2)نصیحت یعنی خیر خواہی کا دوسرا نام دِین اور اسلام ہے۔
(3)نصیحت کرنا فرضِ کفایہ ہے۔ اگرمعلوم ہو کہ سامنے والا میری نصیحت کو قبول کرلے گا اور کسی نقصان کا بھی اندیشہ نہ ہوتو نصیحت کرنا لازم ہے، ورنہ اختیار ہے۔
(4)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مسلمانوں کے ساتھ بھرپور خیر خواہی کیا کرتے تھے، ہمیں بھی اُن کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ بیدا رکرنا چاہیے۔

(5)بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنمسلمانوں کی خیر خواہی اور اُن کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا نقصان بھی برداشت کرلیتے تھے۔ہمیں بھی چاہیے کہ بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے اندر مسلمانوں کی خیر خواہی کا عظیم جذبہ بیدار کریں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 182