Main Icon

نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 360

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنْطلِقْ بِنَااِلَى اُمِّ اَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَزُوْرُهَا كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُهَا فَلَمَّا انْتَهَيَا اِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالَا لَهَا : مَا يُبْكِيْكِ؟ اَمَا تَعْلَمِيْنَ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : اِنِّيْ لَا اَبْكِيْ اَنِّيْ لَا اَعْلَمُ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ تَعَالٰى خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنْ اَبْكِيْ اَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّماءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا. ( )

عن انس رضي الله عنه قال : قال ابو بكر لعمر رضي الله عنهما بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم : انطلق بناالى ام ايمن رضي الله عنها نزورها كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها فلما انتهيا اليها بكت فقالا لها : ما يبكيك؟ اما تعلمين ان ما عند الله خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : اني لا ابكي اني لا اعلم ان ما عند الله تعالى خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن ابكي ان الوحي قد انقطع من السماء فهيجتهما على البكاء فجعلا يبكيان معها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرتِ سَیِّدُنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا : ’’آئیے حضرتِ اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ملاقات کے لیے چلتے ہیں جیساکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان سے ملاقات فرمایا کرتے تھے ۔ ‘‘ جب دونوں ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ۔ سیدنا صدیق اکبر و سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا : ’’آپ کیوں روتی ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے بہتر مقام ہے ۔ ‘‘ سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابولیں : ’’ میں اس لیے نہیں روتی کہ میں اس بات سے لاعلم ہوں کہاللہتعالیٰ کے یہاں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے بہتر مقام ہے بلکہ میں تو اس وجہ سے رورہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے ۔ ‘‘ سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی اس گفتگو نے سیدنا صدیق اکبر و سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو بھی رونے پر مجبور کردیااور وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۔

شرح حدیث

حضرت سیدتنااُمِّ اَیمَنکا مختصرتعارف :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ صالحین کی زیارت کے لیے جانا بزرگوں کا طریقہ ہے جیساکہ حضوراکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر اور فاروقِ

اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسَیِّدَتُنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی زیارت کے لیے تشریف لے گئے ۔ جنابِ اُمِّ اَیْمَن کا نام ’’برکت ‘‘ ہے ، آپ حبشہ کی تھیں ، حضرت سیدناعبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُیعنی حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے والد ماجد کی باندی تھیں ، سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پرورش انہوں نے بھی کی ہے ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کا نکاح حضرت سیدنا زید بن حارثہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کردیا تھا ۔ انہیں کے بطن سے حضرت سیدنا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپیدا ہوئے ۔ آپ جہادمیں جاتیں ، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں اور غازیوں کی خدمت کرتی تھیں ۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی وفات کے بیس دن بعد آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی وفات ہوئی ، حضرت سیدنا زید بن حارثہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے غلام بن گئے تھے ، حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے لے کر انہیں آزاد کرکے اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا ۔ ‘‘ ( )
¥
سیدتنااُمِّ اَیْمَنکے یہاں کثرت سے جانے کی وجہ :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضورِ اکرم نُورِ مجسم شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سیدتنا اُمِّ اَیْمَن کا بہت اکرام فرماتے تھے اور فرمایا کرتے : ’’اُمِّ اَیْمَن میری والدہ ہیں ۔ ‘‘ اسی وجہ سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکثرت سے ان کی زیارت کے لیے جایا کرتے ، آپ ان کے یہاں بیٹے کی طرح تھے اور وہ بھی آپ سے بیٹوں جیسا برتاؤ کرتی تھیں ۔ ‘‘ ( )
¥
سنت پر عمل کی نیت سے زیارت :حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرتِ سَیِّدُنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایاکہ : ’’چلو ہم بھی سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی زیارت کریں جیساکہ حضور نبی

اکرم نورِمجسم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیا کرتے تھے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی حضورِ اَنورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمجناب اُمِّ اَیْمَن کی ملاقات کے لیے ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے ، چلو ہم بھی اس سنت پر عمل کریں ، اُمِّ اَیْمَن کی زیارت کریں ۔ معلوم ہوا کہ بزرگوں کی وفات کے بعد ان کے معمولات قائم رکھنا ، ان کے دوستوں سے محبت کرنا ، بلکہ جن کی وہ حضرات ملاقات کرتے ہوں ، ان سے ملاقات کے لیے جانا سنتِ صحابہ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
شیخین کو دیکھ کر حضور یاد آگئے :حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر وفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاجب سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ۔مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’دراصل ان بزرگوں کو دیکھ کر سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیاد آگئے کیونکہ یہ دونوں حضرات آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھی اور خاص محبوب دوست تھے ۔ بعد وفات مرحوم کی چیزیں ، اس کی اولاد ، اس کے دوست دیکھ کر مرحوم یاد آتا ہے اور لوگ رونے لگتے ہیں یہ رونا ایسا ہی تھا ۔ حضرت سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو روتا دیکھ کر ان حضرات نے ان سے فرمایا : ’’آپ کیوں روتی ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاں حضور کے لیے بہترین مقام ہے ۔ ‘‘ یعنی جہاں حضور اب ہیں وہ جگہ دنیا سے بہتر ہے کہ یہاں تکالیف تھیں ، وہاں آرام و راحت ہے ، وہاں ہر وقت اپنے رب سے قُربِ خاص حاصل ہے پھر آپ اتنی بے قرار ہوکر کیوں روتی ہیں ۔ ‘‘ ( )مقام رسول بیان کرنا ممکن نہیں :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے نبی کے لیے جو کچھ تیار کررکھا ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ(۴)(پ۳۰ ،الضحی: ۴ )ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے ۔
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’یعنی ( سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ) آخرت دنیا سے بہتر ( ہے ) کیونکہ وہاں آپ کے لئے مقامِ محمود و حوضِ مَورود و خیرِ مَوعود اور تمام انبیاء و رُسل پر تَقَدُّم اور آپ کی اُمَّت کا تمام امّتوں پر گواہ ہونا اور آپ کی شفاعت سے مومنین کے مرتبے اور درجے بلند ہونا اور بے انتہا عزتیں اور کرامتیں ہیں جو بیان میں نہیں آتیں اور مفسّرین نے اس کے یہ معنیٰ بھی بیان فرمائے ہیں کہ آنے والے اَحوال آپ کے لئے گذشتہ سے بہتر و برتر ہیں گویا کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا اور عزّت پر عزّت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اور ساعت بساعت آپ کے مَراتِب ترقیوں میں رہیں گے ۔ ‘‘ ( )
¥
اِنقطاعِ وحی کے بعداِختلاف ، فتنے وفساد :دلیل الفالحین میں ہے : حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر و سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی گفتگو سن کر حضرت سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا : ’’میرے رونے کی وجہ یہ نہیں کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاں حضور کو ملنے والے اِنعام و اِکرام سے لاعلم ہوں بلکہ میں تو اس سبب سے رورہی ہوں کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی وفات کے ساتھ آسمان سے زمین کی طرف وحی آنا منقطع ہوگئی ۔ ‘‘ یعنی وحی کے منقطع ہونے کے سبب لوگوں کے مذاہب میں اختلاف پیدا ہوگیا ، فتنے اور فساد پھیلنے لگے ، آزمائشوں اور مصیبتوں نے اُمَّت کو گھیر لیا یہی وجہ ہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی وفات کے بعد نفاق اور اِرتداد کا ظہور ہوا ۔ ایسے میں اگراللہ عَزَّ وَجَلَّامیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ذریعے اُن فتنوں کا تدارک نہ فرماتا تو اِس اُمَّت کا نام و نشان باقی نہ رہتا ۔ ( )

¥
وصال کے سبب نعمتوں سے محرومی :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’حضرت اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا مقصود یہ بیان فرمانا تھا کہ میرا رونا اپنی محرومی پر ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کی وجہ سے ہماللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت نعمتوں سے محروم ہوگئے ، آیاتِ قرآنیہ کا آنا بند ہوگیا ، احادیث نبویہ کا سلسلہ ختم ہوگیا ، مسلمانوں کا صحابی بننا ختم ہوگیا ، حضور سب کچھ ہم کو دے گئے مگر یہ چیزیں اپنے ساتھ لے گئے ۔ سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی یہ بات سن کر حضرت سیدنا صدیق اکبر و فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔ یہ رونا تو امت کو قیامت تک رہے گا کہ کسے دیکھ کر صحابی بنیں گے ؟کس کے منہ سے آیات و احادیث کے پھول جھڑتے ہوئے دیکھیں؟حضرت سیدنا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُیہی سوچ کر مدینہ منورہ چھوڑکر دمشق چلے گئے کہ اب میں کس کی طرف اشارہ کرکے اذان کہا کروں گا ۔ حالت یہ ہو گئی تھی کہ :
قافلہ سالار سفر کر گیا
قافلہ کو زیر و زبر کر گیا ( )
¥
حدیث پاک سے مستنبط اَحکام :عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں نیک لوگوں کی زیارت کرنے ، مَردوں کی ایک جماعت کا نیک خاتون کی زیارت کے لیے جانے ، ان کے کلام کو سننے اور عالِم و بوڑھے شخص کا کسی کی زیارت یا عیادت اور دیگر اس طرح کے نیک کاموں کے لیے جاتے وقت اپنے ساتھ کسی کو لے جانے کا ثبوت ہے ۔ نیز حدیث پاک میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ نیک لوگوں کے فراق میں غم کرتے ہوئے رونا جائز ہے اگرچہ وہ اعلیٰ مقام میں منتقل ہوچکے ہیں ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
سیدتنا ’’اُمِّ اَیْمَنْ ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابہت ہی مقام ومرتبے اور فضیلت والی خاتون تھیں ، انہیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضاعی والدہ ہونے کی سعادت حاصل ہے نیز حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبذات خود انہیں اپنی والدہ فرمایا کرتے اور ان سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے ۔
(2) بزرگوں کی وفات کے بعد ان کے معمولات قائم رکھنا ، ان کے دوستوں سے محبت کرنا بلکہ وہ حضرات جن سے ملاقات کرتے ہوں ان سے ملاقات کے لیے جانا صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے ۔
(3) مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جب چند لوگوں کا مل کر اپنے سے کم مرتبے والے شخص کی زیارت کرنے کے لیے جانا بالکل جائز ہے تو اپنے سے زیادہ مرتبے والے کی زیارت کے لیے جانا تو بدرجہ اولیٰ جائز ہے ۔
(4) نیک لوگوں کے وصال اور ان کی جدائی پر غم کرتے ہوئے رونا جائز ہے اگرچہ وہ اس سے بھی زیادہ افضل مقام پر منتقل ہوچکے ہوں ۔
(5) آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال سے اُمَّت کئی فوائد سے محروم ہوگئی ، اسی وجہ سے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کی جدائی کے غم میں آنسوں بہایا کرتے تھے ۔
(6) وحی کے منقطع ہونے کے بعد اُمَّت میں فتنہ وفساد برپا ہوئے ، نفاق واِرتداد کا ظہور ہوا اور اگر امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُان فتنوں کی سرکوبی نہ فرماتے تو قیامت تک اسلام کا نام لینے والا کوئی نہ ہوتا ، یقیناً یہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا اُمَّتِ مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں کی زیارت کے لیے جانے اور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 360