Main Icon

نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 361

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَنَّ رَجُلاً زَارَ اَخًا لَهُ فِيْ قَرْيَةٍ اُخْرَى فَاَرْصَدَ اللهُ تَعَالَى عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا اَتَى عَلَيْهِ قَالَ : اَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَالَ : اُرِيْدُ اَخًا لِيْ فِيْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا عَلَيْهِ؟ قَالَ : لَا غَيْرَ اَنِّيْ اَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ تَعَالَى قَالَ : فَاِنِّيْ رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكَ بِاَنَّ اللهَ قَدْ اَحَبَّكَ كَمَا اَحْبَبْتَهُ فِيْهِ. ( )

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم : ان رجلا زار اخا له في قرية اخرى فارصد الله تعالى على مدرجته ملكا فلما اتى عليه قال : اين تريد؟ قال : اريد اخا لي في هذه القرية قال : هل لك عليه من نعمة تربها عليه؟ قال : لا غير اني احببته في الله تعالى قال : فاني رسول الله اليك بان الله قد احبك كما احببته فيه. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کرنے کے لیے چلا جو کسی دوسری بستی میں رہتا تھا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے راستے میں ایک فرشتہ مقرر فرما دیا ۔ جب وہ شخص اس فرشتے کے پاس پہنچا تو فرشتے نے پوچھا : ’’کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ اس بستی میں میرا ایک بھائی رہتا ہے اس سے ملنے کا ارادہ ہے ۔ ‘‘ فرشتے نے پوچھا : ’’ تم نے اس پر کوئی احسان کیا ہے جس کا بدلہ لینا چاہتے ہو؟ ‘‘ وہ بولا : ’’نہیں ! بلکہ میں تو محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ فرشتے نے کہا : ’’میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے تمہارے پاس یہ پیغام لایا ہوں کہاللہ عَزَّوَجَلَّبھی تم سے محبت کرتا ہے جس طرح تم اس شخص سے محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرتے ہو ۔ ‘‘

شرح حدیث

اللہ عَزَّ وَجَلَّکاپیغام بندے کے نام :مذکور ہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا و خوشنودی کے لیے اپنے مسلمان بھائی کی زیارت کے لیے جانے اور اس سے محبت کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص اپنی بستی سے کسی دوسری بستی کی طرف چلا تاکہ اپنے بھائی سے ملاقات کرے ۔ یہاں بھائی سے مراد ایمانی اسلامی بھائی ہے جس کواللہکے لیے بھائی بنایا ہو خواہ نسبی ہو یا غیرنسبی ۔ جب یہ شخص اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے نکلا تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایک فرشتے کو اس کی گزرگاہ پر بھیج دیا اور جب یہ اس جگہ پہنچا تو فرشتے نے اس سے

پوچھا : کہاں جارہے ہو؟
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : یہ سوال بے علمی کی بناء پر نہیں بلکہ اس سے وہ جواب حاصل کرنے کے لیے ہے جو یہاں مذکور ہے اور اسے بشارت دینے کے لیے ہے تاکہ لوگ یہ دونوں باتیں سنیں ، حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اسے بیان فرمانا اسی مقصد کے لیے ہے ۔ اُس شخص نے فرشتے کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بستی میں میرا ایک بھائی قیام پذیر ہے میں اس سے ملنے کے لیے جارہا ہوں ۔ فرشتے نے پوچھا : کیا اس پر تیرا کوئی احسان ہے جس کا عوض لینے تو اس کے پاس جارہاہے ؟ یعنی تو کبھی اس پر احسان کرچکا ہے جس کا عوض حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے یا اس کا تجھ پر کچھ احسان ہے جس کا عوض دینے تو جارہا ہے ۔ وہ بولا : نہیں بلکہ میں تو محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں یعنی اس سے میری محبت اس لیے ہے کہ وہاللہکا نیک بندہ ہے اور نیک بندوں کی محبت سےاللہتعالیٰ راضی ہوجاتا ہے ۔ بخشے ہوؤں کی ملاقات کرو کہ تم بھی بخشے جاؤ ۔ اس شخص کا جواب سن کر فرشتے نے کہا : سنو ! میںاللہتعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے یہ پیغام لایا ہوں کہاللہ عَزَّوَجَلَّبھی تم سے محبت کرتا ہے ۔ جس طرح تم اس شخص سے محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرتے ہو ۔ ( )
¥
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں بیان ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی خوشنودی کے لیے مسلمان بھائی سے محبت کرنے والے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے ۔ علماء فرماتے ہیں : ’’بندوں کی محبت اصل میں دل کا مائل ہونا ہے لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے منزہ ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت کی صورت یہ ہے کہ وہ اس پر رحم فرماتا ہے ، اس سے راضی ہوتا ہے ، اس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اور اس سے محبوبوں جیسا معاملہ فرماتا ہے ۔ ‘‘عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث پاکاللہ عَزَّوَجَلَّکے لیے محبت کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ عملاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت حاصل ہونے کا

سبب ہے اور اس حدیث پاک میں صالحین اور نیک دوستوں کی زیارت کرنے کی فضیلت کا ثبوت ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
حدیث پاک سے ماخوذ احکام :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث پاکاللہتعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور مسلمان بھائی کی زیارت کے لیے جانے کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ افضل اَعمال میں سے ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکا قُرب حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے جبکہ خواہشاتِ نفس سے خالی ہو ۔ ‘‘ ( ) مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک فرشتے کواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس شخص کے راستے پر مقرر فرمایا جو اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرنے دوسری بستی جارہا تھا ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’عام انسان فرشتے کو شکل انسانی میں دیکھ سکتے ہیں اوراللہتعالیٰ کبھی حضراتاولیاءاللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے پاس فرشتے کے ذریعے پیغام بھیجتا ہے یہ درجہ ٔاِلہام سے اوپر ہے مگریہ پیغام وحی نہیں کہ وحی حضرات انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَامکے سواکسی کو نہیں ہوتی ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
اسم رسالت’’محمد ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
مذکورہ حدیث پاک میں صالحین اور نیک دوستوں کی زیارت کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔
(2) اپنے مسلمان بھائی سے کسی دنیاوی غرض کے بغیر محض
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت رکھنے والے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندے سے محبت کرتا ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت کا مطلب یہ ہے کہاللہعَزَّوَجَلَّاس پر رحم کرتاہے اس سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے اور اس سے راضی ہو جاتاہے ۔
(4) خالص
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کسی سے محبت کرنا قُربِ الٰہی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خالص اپنی رضا کے لیے مسلمانوں سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نیک لوگوں کی زیارت کے لیے جانے کی سعادت مرحمت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 361