- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- حدیث نمبر 361
نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 361
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَنَّ رَجُلاً زَارَ اَخًا لَهُ فِيْ قَرْيَةٍ اُخْرَى فَاَرْصَدَ اللهُ تَعَالَى عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا اَتَى عَلَيْهِ قَالَ : اَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَالَ : اُرِيْدُ اَخًا لِيْ فِيْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا عَلَيْهِ؟ قَالَ : لَا غَيْرَ اَنِّيْ اَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ تَعَالَى قَالَ : فَاِنِّيْ رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكَ بِاَنَّ اللهَ قَدْ اَحَبَّكَ كَمَا اَحْبَبْتَهُ فِيْهِ. ( )
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم : ان رجلا زار اخا له في قرية اخرى فارصد الله تعالى على مدرجته ملكا فلما اتى عليه قال : اين تريد؟ قال : اريد اخا لي في هذه القرية قال : هل لك عليه من نعمة تربها عليه؟ قال : لا غير اني احببته في الله تعالى قال : فاني رسول الله اليك بان الله قد احبك كما احببته فيه. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کرنے کے لیے چلا جو کسی دوسری بستی میں رہتا تھا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے راستے میں ایک فرشتہ مقرر فرما دیا ۔ جب وہ شخص اس فرشتے کے پاس پہنچا تو فرشتے نے پوچھا : ’’کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ اس بستی میں میرا ایک بھائی رہتا ہے اس سے ملنے کا ارادہ ہے ۔ ‘‘ فرشتے نے پوچھا : ’’ تم نے اس پر کوئی احسان کیا ہے جس کا بدلہ لینا چاہتے ہو؟ ‘‘ وہ بولا : ’’نہیں ! بلکہ میں تو محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ فرشتے نے کہا : ’’میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے تمہارے پاس یہ پیغام لایا ہوں کہاللہ عَزَّوَجَلَّبھی تم سے محبت کرتا ہے جس طرح تم اس شخص سے محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرتے ہو ۔ ‘‘
شرح حدیث
اللہ عَزَّ وَجَلَّکاپیغام بندے کے نام :مذکور ہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا و خوشنودی کے لیے اپنے مسلمان بھائی کی زیارت کے لیے جانے اور اس سے محبت کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص اپنی بستی سے کسی دوسری بستی کی طرف چلا تاکہ اپنے بھائی سے ملاقات کرے ۔ یہاں بھائی سے مراد ایمانی اسلامی بھائی ہے جس کواللہکے لیے بھائی بنایا ہو خواہ نسبی ہو یا غیرنسبی ۔ جب یہ شخص اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے نکلا تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایک فرشتے کو اس کی گزرگاہ پر بھیج دیا اور جب یہ اس جگہ پہنچا تو فرشتے نے اس سے
پوچھا : کہاں جارہے ہو؟مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : یہ سوال بے علمی کی بناء پر نہیں بلکہ اس سے وہ جواب حاصل کرنے کے لیے ہے جو یہاں مذکور ہے اور اسے بشارت دینے کے لیے ہے تاکہ لوگ یہ دونوں باتیں سنیں ، حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اسے بیان فرمانا اسی مقصد کے لیے ہے ۔ اُس شخص نے فرشتے کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بستی میں میرا ایک بھائی قیام پذیر ہے میں اس سے ملنے کے لیے جارہا ہوں ۔ فرشتے نے پوچھا : کیا اس پر تیرا کوئی احسان ہے جس کا عوض لینے تو اس کے پاس جارہاہے ؟ یعنی تو کبھی اس پر احسان کرچکا ہے جس کا عوض حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے یا اس کا تجھ پر کچھ احسان ہے جس کا عوض دینے تو جارہا ہے ۔ وہ بولا : نہیں بلکہ میں تو محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں یعنی اس سے میری محبت اس لیے ہے کہ وہاللہکا نیک بندہ ہے اور نیک بندوں کی محبت سےاللہتعالیٰ راضی ہوجاتا ہے ۔ بخشے ہوؤں کی ملاقات کرو کہ تم بھی بخشے جاؤ ۔ اس شخص کا جواب سن کر فرشتے نے کہا : سنو ! میںاللہتعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے یہ پیغام لایا ہوں کہاللہ عَزَّوَجَلَّبھی تم سے محبت کرتا ہے ۔ جس طرح تم اس شخص سے محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرتے ہو ۔ ( )
¥اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں بیان ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی خوشنودی کے لیے مسلمان بھائی سے محبت کرنے والے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے ۔ علماء فرماتے ہیں : ’’بندوں کی محبت اصل میں دل کا مائل ہونا ہے لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے منزہ ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت کی صورت یہ ہے کہ وہ اس پر رحم فرماتا ہے ، اس سے راضی ہوتا ہے ، اس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اور اس سے محبوبوں جیسا معاملہ فرماتا ہے ۔ ‘‘عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث پاکاللہ عَزَّوَجَلَّکے لیے محبت کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ عملاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت حاصل ہونے کا
سبب ہے اور اس حدیث پاک میں صالحین اور نیک دوستوں کی زیارت کرنے کی فضیلت کا ثبوت ہے ۔ ‘‘ ( )
¥حدیث پاک سے ماخوذ احکام :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث پاکاللہتعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور مسلمان بھائی کی زیارت کے لیے جانے کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ افضل اَعمال میں سے ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکا قُرب حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے جبکہ خواہشاتِ نفس سے خالی ہو ۔ ‘‘ ( ) مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک فرشتے کواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس شخص کے راستے پر مقرر فرمایا جو اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرنے دوسری بستی جارہا تھا ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’عام انسان فرشتے کو شکل انسانی میں دیکھ سکتے ہیں اوراللہتعالیٰ کبھی حضراتاولیاءاللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے پاس فرشتے کے ذریعے پیغام بھیجتا ہے یہ درجہ ٔاِلہام سے اوپر ہے مگریہ پیغام وحی نہیں کہ وحی حضرات انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَامکے سواکسی کو نہیں ہوتی ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
اسم رسالت’’محمد ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)مذکورہ حدیث پاک میں صالحین اور نیک دوستوں کی زیارت کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔
(2) اپنے مسلمان بھائی سے کسی دنیاوی غرض کے بغیر محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت رکھنے والے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے ۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندے سے محبت کرتا ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت کا مطلب یہ ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّاس پر رحم کرتاہے اس سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے اور اس سے راضی ہو جاتاہے ۔
(4) خالصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کسی سے محبت کرنا قُربِ الٰہی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خالص اپنی رضا کے لیے مسلمانوں سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نیک لوگوں کی زیارت کے لیے جانے کی سعادت مرحمت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 361