- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- حدیث نمبر 371
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ
وَالفِضَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِهُوْا وَالْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ. ( ) وَرَوَى الْبُخَارِيُّ قَوْلَهُ : ” اَلْاَرْوَاحُ“…الخ مِنْ رِوَايَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا. ( )
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : الناس معادن كمعادن الذهب
والفضة خيارهم في الجاهلية خيارهم في الاسلام اذا فقهوا والارواح جنود مجندة فما تعارف منها ائتلف وما تناكر منها اختلف. ( ) وروى البخاري قوله : ” الارواح“…الخ من رواية عائشة رضي الله عنها. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ جاہلیت میں بہتر تھے ، وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ رکھتے ہوں اور رُوحیں جمع شدہ لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ ( دنیا میں ) مُتَّحِد ہیں اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ ( دنیا میں ) الگ رہتی ہیں ۔ ‘‘ بخاری نے یہ حدیث پاک کہ ” روحیں جمع شدہ لشکر ہیں ۔ “ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کی ہے ۔
شرح حدیث
انسانوں کی مختلف صفات :مذکورہ حدیث پاک کے دو2 جزء ہیں ۔ پہلے جز ءمیں لوگوں کو سونے اور چاندی کی کانوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ زمانہ ٔکفر میں عزت و شرف کے حامل تھے وہ اِسلام لانے کے بعد بھی شرف و اِکرام کے لائق ہیں ۔ حدیث پاک کے دوسرے جُزء میں روحوں کی ایک دوسرے سے نسبت و تعلق کو بیان کیا گیا ہے ۔ حدیث پاک کی شرح میں ابتداءً پہلے جُزء کی تفصیل بیان ہوگی اور آخر میں دوسرے جُزء سے متعلق بیان ہوگا ۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ‘‘ مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’ یعنی صورت میں تمام انسان یکساں ہیں مگر سیرت ، اَخلاق اور صفات میں مختلف جیسے ظاہری زمین یکساں اس میں کانیں مختلف ، نیک سے نیکی ظاہر ہوگی اور بد سے بدی ۔ ‘‘ ( ) شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی لوگ عُمدہ اَخلاق اور مَحاسِن صفات میں اپنی قابلیت اور شرافت ذات کے لحاظ سے مُتَفَرِّقْ ہیں جیسے ایک کان وہ ہوتی ہے جو اپنے اندرلعل و یاقوت پیدا کرنے کی استعداد
رکھتی ہے اور ایک کان سونا ، چاندی پیدا کرنے کی قابلیت رکھتی ہے اور ایک کان وہ ہوتی ہے جو لوہا ، تانبہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ایک کان وہ ہوتی ہے جس میں سے سُرمہ اور چُونا وغیرہ پیدا ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( ) ایسے ہی انسانوں میں مختلف صفات پائی جاتی ہیں کوئی سخی ہے تو کوئی بخیل ، کوئی شجاع ہے تو کوئی بُزدِل ، کوئی حُسنِ اَخلاق سے آراستہ ہے تو کسی میں کجی کا غلبہ ہے ۔
¥عزت و شرف والے پانچ شخص :حضورنبی اکرم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو سونے اور چاندی کی کانوں سے تشبیہ دینے کے بعد فرمایا کہ جو لوگ زمانہ ٔکفر میں شریف یعنی عزت دار تھے وہ اِسلام لانے کے بعد بھی شرف و فضیلت کے مستحق ہیں ۔ شارِحِینِ حدیث نے حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامکے اِس فرمان کے پانچ 5 معنیٰ بیان کیے ہیں : ’’ ( 1 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت یعنی کفر کے زمانے میں خصالِ محمودہ یعنی نرمی اور بُردباری سے متصف تھا اور اسلام لانے کے بعد بھی ان صفات سے متصف رہا تو وہ باعزت ہے ۔ ( 2 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت میں تو شریف نہ تھا لیکن اِسلام لانے کے بعد باعزت بھی تھا اور علمِ دِین بھی حاصل کیا تو اس کا مقام و مرتبہ اس شخص سے بڑھ کر ہے جو زمانہ ٔجاہلیت اور زمانہ ٔاسلام میں عزت دار تو ہے لیکن اس نے علمِ دِین حاصل نہیں کیا کیونکہ علم دِین ہی اصل میں انسان کو شرف و اکرام کا مستحق بناتا ہے ۔ علماء فرماتے ہیں : بے قدر عالِم دِین باعزت جاہل سے بہتر ہے کیونکہ علم ایسی شے ہے جو پست کو بالا کردیتی ہے ۔ ( 3 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت اور زمانہ ٔاسلام دونوں میں شریف ہے اور اس نے علم دِین بھی حاصل کیا تو اس کا مرتبہ مذکورہ بالا دونوں افراد سے بلند ہے ۔ ‘‘ ( ) (4 ) شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جو شخص زمانہ ٔجاہلیت میں نیک ، قبائل میں برگزیدہ ، اپنے ہم عصروں پر فائق اور اچھی عادات و صفات سے آراستہ تھا ، دِین اسلام میں آنے کے بعد بھی اس سے حمیدہ اَوصاف اور برگزیدہ اَفعال وجود میں آتے ہیں لیکن زمانہ ٔجاہلیت میں وہ ظلمت و کفر میں چھپا ہوا تھا جس طرح سونا چاندی کان میں مٹی سے ملا ہوا ہوتا ہے اور جب انہیں بھٹی میں ڈال
کر تپایا جاتا ہے تو یہ صاف ہو کر پوری آب و تاب سے چمکنے لگتے ہیں ۔ اسی طرح جس شخص کی اچھی صفات کفر کے اندھیروں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں ، اسلام میں آنے اور ریاضت و مجاہدات کی بھٹی میں تپنے کے بعد اس سے ہر قسم کی مٹی اور گندگی دور ہوجاتی ہے اور وہ علم و معرفت کے نور سے روشن و منور ہوکر لوگوں پر فوقیت و برتری حاصل کرلیتا ہے ۔ ‘‘ ( ) ( 5 )مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’جو لوگ زمانہ ٔکفر میں اپنے قبیلوں کے سردار تھے جب وہ مسلمان ہو کر علم سیکھ لیں تو مسلمانوں میں سردار ہی رہیں گے ، اسلام سے عزت بڑھتی ہے گھٹی نہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نو مسلموں کو حقیر جاننا بہت بُرا ہے اور کفار کا سردارمسلمان ہوکر مسلمانوں کا سردار ہی رہے گا اسے گرایا نہ جائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥رُوح کیا ہے ؟مذکورہ حدیث پاک کے دوسرے جزء میں بیان کیا گیا کہ عالَمِ اَرواح میں جو روحیں آپس میں متعارف تھیں وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے اُلفت رکھتی ہیں اور جو وہاں اجنبی تھیں وہ یہاں اختلاف کرتی ہیں ۔ رُوح وہ جوہر ہے جو جسم کے ساتھ قائم ہے اور اسی کی وجہ سے جسم میں حیات ہے ، اَرواح کی تخلیق جسم سے دوہزار سال پہلے ہوئی تھی ۔ یعنی یہ اَجسام سے پہلے موجود ہیں اور اَجسام کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہتی ہیں ۔ اِس کی تائید اِس حدیث پاک سے ہوتی ہے کہ ” اُحُد کے شہداء کی رُوحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہیں ۔ “ ( )
¥اَرواح کے تعارف وتنافر سے کیا مراد ہے ؟حدیث پاک میں بیان ہوا کہ رُوحِیں عالَمِ اَرواح میں ایک دوسرے سے متعارَف و ناآشنا ہونے کی وجہ سے دنیا میں مُوافق و مخالف ہوتی ہیں ۔ شارِحِینِ حدیث نے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے اِس فرمان کی چند صورتیں بیان فرمائی ہیں : ( 1 ) علامہ خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’عالَمِ اَرواح میں جن رُوحوں کی فطرت میں خیر و صَلاح ہو وہ اپنی مثل کی طرف اور جن میں شر و فساد ہو وہ اپنی نظیر کی طرف مَیلان رکھتی ہیں ۔ اَرواح کا
آپس میں متعارف و اجنبی ہونے سے یہی مراد ہے ، اسی طرح جب یہ دنیا میں آتی ہیں تو نیک اہل خیر کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اہل شر سے مخالفت رکھتی ہیں اور جن رُوحوں کی فطرت میں شر ہوتا ہے وہ اَشرار کی طرف مائل ہوتی ہیں اور نیکوں سے دُور رہتی ہیں ۔ ‘‘ علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’جب کوئی شخص کسی نیک آدمی سے متنفر ہو تو اُسے اپنے اَوصاف کی تفتیش کرنی چاہیے ، ضرور اس میں کوئی برائی ہوگی جس کی وجہ سے وہ اُس نیک آدمی سے متنفر ہے ، پھر اسے چاہیے کہ اُس برائی کو دور کرنے کی کو شش کرے حتی کہ اس برائی سے خلاصی حاصل کرلے ، اسی طرح جب کوئی شخص اپنے دل میں کسی بُرے انسان کی طرف میلان محسوس کرے تو اسے غور کرنا چاہیے کہ اس میں بھی کوئی برائی ہے جس کی وجہ سے یہ اس کی طرف مائل ہے ۔ ‘‘ ( 2 ) عالَم اَرواح میں رُوحیں آپس میں ملاقات کرتی اور ایک دوسرے سے ملتی جلتی تھیں یا نفرت کرتی تھیں پھر جب وہ اَجساد میں منتقل ہوئیں یعنی دنیا میں آئیں تو اُن کو وہی تعارف و تنافر یاد آگیا اسی بنا پر یہ آپس میں الفت و نفرت کرتی ہیں ۔ ‘‘ ( )
شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جو رُوحیں عالَم اَرواح میں ایک دوسرے کو پہچانتی تھیں تو دنیا میں آنے کے بعد بھی اُن کی یہ جان پہچان باقی رہتی ہے ۔ اَرواح کی یہ اُلفت و اجنبیت اِلہامِ اِلٰہی سے ہوتی ہے انہیں آپس میں یاد نہیں ہوتا کہ وہاں جان پہچان تھی یا نہ تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ نیک ، نیکوں کی طرف اور بَد ، بَدوں کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ اگر کسی جگہ بعض اَسباب و عوارِض کی وجہ سے اُس کے خلاف ہوتو وہ شاذ و نادِر ہوگا ، آخرکار وہ اپنے اصل کی طرف ہی لوٹ کر چلا جائے گا ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’رِیَاضُ الْجَنَّۃ ‘‘ کے 9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول
(1)زمانہ ٔجاہلیت کے مناقب و مراتب اسلام لانے اور علم دِین حاصل کرنے کے بعد ہی شمار ہوں گے ۔
(2) بے قدر عالِم یعنی جس کی معاشرے میں کوئی وُقعت نہ ہو عزت دار جاہل سے بہتر ہے کیونکہ علم ہی حقیقت میں عزت و شرافت کا مدار ہے ۔
(3) اسلام لانے کے بعد انسان کی چھپی ہوئی خوبیاں نکھر کر سامنے آتی ہیں ۔
(4) کفار کے سردار اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کے سردار ہی رہیں گے کیونکہ اسلام سے عزت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں اسی لیے نومسلموں کو حقیر جاننا بہت بُرا ہے ۔
(5) رُوح کی وجہ سے ہی انسانی جسم میں حیات ہے اور یہ جسم سے دوہزار سال پہلے تخلیق کی گئی اور جسم کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہتی ہے ۔
(6) عالَمِ اَرواح میں جو رُوحیں ایک دوسرے سے آشنا تھیں وہ دنیا میں آپس میں موافق و آشنا ہوتی ہیں اور جو وہاں اجنبی تھیں وہ یہاں بھی اجنبی رہتی ہیں ۔
(7) نیک روحیں نیک لوگوں کی طرف اور شریر ، اشرار کی طرف مائل ہوتی ہیں ۔
(8) دنیا میں روحوں کو ایک دوسرے کی پہچاناللہ عَزَّوَجَلَّکے الہام کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
(9) جو شخص اپنے دل میں کسی نیک آدمی سے نفرت یا بُرے کی محبت محسوس کرے تو اسے خود پر غور کرنا چاہیے ضرور اس میں بھی کوئی برائی ہوگی جس کی وجہ سے اس کے قلب کی یہ حالت ہے ۔ لہذا جلد اس بُرائی کو تلاش کرے اور اس سے خلاصی پائے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں سے محبت کرنے کی تو فیق عطا فرمائے اور شریر و فسادی لوگوں سے محفوظ و مامون فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 371