Main Icon

نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 369

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ اَعْرَابِيًّا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ : حُبَّ اللهِ وَرَسُوْلِهِ قَالَ : اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ. ( )

وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُمَا : مَااَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيْرِ صَوْمٍ وَلَا صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلٰكِنِّيْ اُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ. ( )

عن انس رضي الله عنه : ان اعرابيا قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم : متى الساعة؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما اعددت لها؟ قال : حب الله ورسوله قال : انت مع من احببت. ( )

وفي رواية لهما : مااعددت لها من كثير صوم ولا صلاة ولا صدقة ولكني احب الله ورسوله. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک اعرابی نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کیا : ’’قیامت کب ہوگی؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’تونے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ ‘‘ عرض کی : ’’اللہتعالیٰ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘
بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس شخص نے عرض کی : ’’میں نے قیامت کے لیے زیادہ روزے ، نمازیں اور صدقات تو تیار نہیں کیے لیکن میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘

شرح حدیث

رسولِ اکرم کا حکمت بھرا انداز :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک دیہاتی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : ’’ حضور قیامت کب آئے گی؟ ‘‘ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے جوابًا ارشاد فرمایا : ’’تم نے قیامت کی کیا تیاری کی ہے ؟ ‘‘ حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے یہاں بہت حکمت بھرا ا نداز اختیار فرمایا کیونکہ اس شخص نے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا تھا اور قیامت اَسرارِ اِلٰہی میں سے ہے ، حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو وُقُوعِ قیامت کا علم دیا گیا ہے مگر اظہار کی اجازت نہیں ۔ ‘‘ ( ) ’’تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے حکیمانہ انداز میں سائل کی توجہ اس بات سے ہٹا کر کہ قیامت کب آئے گی؟ اس جانب مبذول کروائی کہ تمہارے لیے اہم بات یہ نہیں کہ قیامت کب آئے گی؟ اہم تو یہ ہے کہ تم نے قیامت کے لیے کیا نیک اعمال تیار کیے ہیں ۔ ‘‘ ( ) اس شخص نے جواب دیا : میںاللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہوں ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہ صاحب بڑے متقی پرہیزگار عبادت گزار

تھے مگر انہوں نے اپنے اعمال کو قیامت کی تیاری قرار نہ دیاکہ یہ سب نیکیاں تو
اللہکی نعمتوں کا شکریہ ہے جو مجھے دنیا میں مل چکیں اور مل رہی ہیں ، آخرت کی تیاری صرف یہ ہے کہ مجھے حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامسے محبت ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس شخص نے اپنی نظر میں اپنے اَعمال کو معمولی سمجھ کر ایک جانب رکھا اور دل میں موجوداللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت کو حضور کی خدمت میں پیش کردیا ۔ ‘‘ ( )
¥
اللہورسول کی محبت تمام اعمال سے بڑھ کرہے :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اس شخص نے آخرت کی تیاری کے زمرے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت کے علاوہ کسی بھی قلبی ، بدنی اور مالی عبادت کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اَعمال تو محبت کی فرع ہیں اور یہ محبت ہی سائرین و طائرین کے مقامات میں سے اعلیٰ مقام ہے اور جو شخصاللہسے محبت کرتا ہےاللہبھی اُس سے محبت فرماتا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ-(پ۶ ،المائدۃ: ۵۴ )ترجمۂ کنزالایمان: وہاللہکے پیارے اوراللہان کا پیارا ۔
لیکن یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ
اللہو رسول سے محبت کے ساتھ اُن کی متابعت بھی ضروری ہے اطاعت کے بغیر محض محبت کا دعویٰ بے فائدہ ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ۳ ،آل عمران: ۳۱ )ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تماللہکو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤاللہتمہیں دوست رکھے گا ۔
جب حضور
عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے اس دیہاتی کا جواب ملاحظہ کیا تو فرمایا : تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو ۔ مطلب یہ کہ جب کسی کی اُلفت ومَوَدَّت اِنسان کے نفس ، مال اور اَہل و عیال کی محبت پر غالب آجائے تو وہ اُسی کے ساتھ ملحق و منسلک ہوجاتا ہے اور محبت صادقہ کی علامت یہ ہے کہ بندہ وہی کام کرے جو اُس کے محبوب کو پسند ہو اور جس کام کا محبوب حکم دے اور ہر اُس کام سے اجتناب کرے جس سے

محبوب منع کرے ۔ ‘‘ ( ) لہٰذا اگر کوئی
اللہ عَزَّوَجَلَّسے محبت کا دعویدار ہے تو اُس پر لازم ہے کہ اپنے عقیدے ، قول ، فعل اور عمل سے اُس بات کو ثابت بھی کرے بایں طور کہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہو اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا و خوشنودی والے کاموں میں دلچسپی لے اور اس کی نافرمانی سے گریزاں ہو ۔
¥
رب تعالٰی کی معیت کا معنی :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جو جس سے محبت رکھتا ہے وہ اسی کے ساتھ ہوگا ۔ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگاللہ عَزَّوَجَلَّسے محبت کرتے ہیں انہیںاللہ عَزَّوَجَلَّکی معیت کیسے حاصل ہوگی؟ کیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّتو جسم سے پاک ہے ۔ تو اس کے جواب میںعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’انسان کواللہ عَزَّوَجَلَّکی معیت اس کی مدد و نصرت اور توفیق کی صورت میں حاصل ہوگی ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
سیدنا’’عثمان ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّوَجَلَّنے حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامکو قیامت کا علم عطا فرمایا ہے اور اسے مخفی رکھنے کا حکم دیا ہے ۔
(2) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بے حد اُلفت و محبت رکھتے تھے اور اس محبت ہی کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے ۔
(3) جو شخص
اللہ عَزَّوَجَلَّسے محبت کرتا ہےاللہ عَزَّوَجَلَّبھی اس سے محبت فرماتا ہے ۔
(4)
اللہورسول سے محبت کادعوی کرنے والے پر لازم ہے کہ اُن کی اطاعت و فرمانبرداری کرے ۔
(5) جو
اللہ عَزَّوَجَلَّسے محبت کرتے ہیں انہیںاللہ عَزَّوَجَلَّکی معیت اُس کی نصرت و توفیق کی صورت میں حاصل ہوگی ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے قلوب کو اپنی اور اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت سے منور فرمائے اور آخرت میں ہمیں اپنی اور اپنے حبیب کی معیت عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 369