- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- حدیث نمبر 363
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا مُّنْتَنِةً. ( )
عن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : انما مثل الجليس الصالح والجليس السوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك اما ان يحذيك و اما ان تبتاع منه و اما ان تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير اما ان يحرق ثيابك و اما ان تجد منه ريحا منتنة. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ‘‘
شرح حدیث
پنجابی اشعار میں حدیث پاک کا مفہوم :کسی پنجابی شاعر نے اسی حدیث پاک کا مفہوم اشعار میں بہت خوبصورت طریقے سے بیان کیا ہے :بُرے بندے دی صُحبت یارو جیویں دکان لوہاراںکپڑے بھاویں کُنج کُنج بئیے ، چنڑگاں پینڑں ہزاراںچنگے بندے دی صحبت یارو جیویں دکان عطاراںسودا بھاویں مل نہ لئیے ہلے آؤنڑں ہزاراںترجمہ : ’’یعنی بُرے دوست کی صحبت ایسے ہے جیسے لوہارکی بھٹی کہ آپ اپنے کپڑوں کو اس سے جتنا بھی بچالیں مگر کپڑوں پر اس کی چنگاریاں ضرور پڑیں گی جبکہ اچھے دوست کی مثال عطر بیچنے والے کی سی ہے جس سے آپ اگرچہ عطر نہ خریدیں مگر اس سے خوشبو بہت آئے گی ۔
¥نیک و بدمجلس کانفع نقصان :مذکورہ حدیث پاک میں اچھی اور بری صحبت کے درمیان فرق کو ایک مثال کے ذریعے بیان کیا گیا ہے کہ مشک بیچنے والے کی ہم نشینی سے نفع ہی حاصل ہوتا ہے کیونکہ مشک بیچنے والا ہوسکتا ہے کہ تحفے میں مشک دے دے یا پھر کبھی بندہ خود ہی اس سے خرید لے اور اگر یہ دونوں صورتیں نہ بھی ہوں جب بھی اس کے پاس بیٹھنے سے خوشبو پہنچتی رہے گی جبکہ بھٹی دھونکنے والے کی صحبت میں بیٹھنے سے ضرر ہی پہنچتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ بھٹی سے اڑنے والی چنگاری کپڑے جلادے اور اگر کپڑے محفوظ بھی رہیں تب بھی اس کے پاس بیٹھنے سے دھواں تو پہنچتا ہی رہے گا ۔ اسی طرح نیک و بد صحبت اختیار کرنے کا معاملہ ہے ، نیک لوگوں کی مجلس اختیار کرنے سے ہمیشہ نفع ہی ہوگا اور برے لوگوں کی رفاقت سے ہمیشہ ضرر پہنچے گا ۔مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :سُبْحٰنَ اللہ! کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی ، بھٹی والے سے مشک نہیں ملے گی گرمی اور دھواں ہی ملے گا ، مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں ، مشک یا خوشبو ہی ملے گی ۔ مشك والے سے مشک خرید لینا یا اس کا مفت ہی دے دینا اعلیٰ نفع ہے جس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا ادنیٰ نفع ہے ۔ خیال رہے کہ ابوجہل وغیرہ دشمنانِ رسول حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے پاس حاضر ہوئے ہی نہیں وہاں حاضری محبت سے حاصل ہوتی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥مجلسِ صالحین کی فضیلت :عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اس حدیث پاک میں صالحین ، نیک ، عمدہ اخلاق کے حامل ، علم و ادب سے مزین اور زہد و مروت سے آراستہ لوگوں کی مجلس اختیار کرنے کی فضیلت بیان ہوئی اور اس کے برعکس شریر ، اہل بدعت ، غیبت کرنے والے ، فاسق و فاجر اور کسی بھی قسم کے اعمال مذمومہ کا صدور کرنے والوں کی صحبت میں بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥حدیث مذکور کی حکمتیں :مذکورہ حدیث پاک میں نیک لوگوں کی مجلس اختیار کرنے اور بُرے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِینے حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان کی بڑی پیاری حکمتیں بیان فرمائی ہیں ، چنانچہ فرماتے ہیں : ’’حدیث مذکور میں علماء و صلحاء کی مجلس اختیار کرنے اور فساق و فجار کی صحبت سے اجتناب کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ کیونکہ نیک لوگوں کی رفاقت دنیا و آخرت میں سود مند ہے جبکہ شریروں کی ہم نشینی دو جہاں میں ضرر رساں ہے ۔ بھلے لوگوں کی مُصاحَبَت بھلائی اور بُرے لوگوں کی مُصاحَبَت سے برائی ہاتھ آتی ہے ۔ جس طرح ہوا جب پاکیزہ چیز پر گزرتی ہے تو خوشبو مہکاتی ہے اور جب گندگی پر گزرتی ہے تو بدبو سے ماحول کو ناگوار کردیتی ہے نیز برائی انسان کی
جانب بہت تیزی سے بڑھتی ہے اور بہت جلدانسانی طبیعت میں سرائیت کرجاتی ہے ۔ الغرض صحبت بہت مؤثر ہے ، اسی لیےاللہ عَزَّوَجَلَّقرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : )یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹)( (پ۱۱ ،التوبۃ: ۱۱۹ )ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والواللہسے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو ۔ ( )
¥انسانی زندگی پرصحبت کااثر :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! انسانی زندگی پر اچھی اور بُری صحبت کا یقینًا بہت گہرا اثر ہوتا ہے علم وعمل کے پیکر ، اخلاق حمیدہ سے متصف زُہد و ورع سے آراستہ لوگوں کی ہم نشینی سے انسان میں تقویٰ ، پرہیزگاری اور فکر آخرت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اس کے برعکس فاسق و فاجر ، بے عمل وبدکار لوگوں کی رفاقت انسان کو بدکردار ، سرکش و بے باک بنا دیتی ہے اور اگر بالفرض ظاہری طورپر کسی کی زندگی میں بری صحبت کا اثر دکھائی نہ بھی دے پھر بھی اسے دو نقصان ضرور پہنچتے ہیں : ( 1 ) برے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے سے وقت کا ضیاع ہوگا ۔ ( 2 ) بری صحبت میں اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اس کی شخصیت متاثر ہوگی اور معاشرے میں اسے بھی برا شمار کیا جائے گا کیونکہ انسان کا شمار انہیں لوگوں میں کیا جاتا ہے جن کے ساتھ وہ مُصَاحَبَت رکھتا ہے ۔ الغرض صحبت انسان کو حیوان اور حیوان کو انسان بنا سکتی ہے ۔ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جلوہ گری سے پہلے عرب کی جو حالت تھی اس سے کون واقف نہیں ہے ؟ ہرطرف ظلم وستم ، جہالت ، ناانصافی اور بے اعتدالی کا راج تھا لیکن تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبعوث ہوتے ہی ہر طرف امن و سکون ، رواداری ، اَخوت و بھائی چارہ ، عدل و انصاف اور محبت پھیل گئی ۔ یہ ساری تبدیلیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت اور ہم نشینی کے طفیل عرب کو نصیب ہوئی اور عرب کے بد اَطوار و بد کردار لوگ اچھے اوصاف و کردار کی وجہ سے تاقیامت آنے والے لوگوں کے لیے مشعل راہ بن گئے ۔ شارِحین حدیث نے بھی مذکورہ حدیث پاک کے تحت اس نکتے کو بیان فرمایا ہے ، چنانچہ ،
¥حضور نبیٔ رحمتکی صحبت :عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی مدح بیان کی گئی ہے کہ انہوں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم مجلس ہونے کی وجہ سے صحابی ہونے کی فضیلت پائی اور صحابہ کے نام سے موسوم کیے گئے ۔ اگرچہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانعلماء ، شجاع ، سخی اور دیگر فضائل کے جامع تھے لیکن صحابی ہونے کی فضیلت ان کی تمام فضیلتوں سے بڑھ کر ہے ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’صوفیاء کرام کے نزدیک ساری عبادات سے افضل صحبت نیک ہے ۔ آج مسلمان نمازی ، غازی ، حاجی ، قاضی بنتے رہتے ہیں مگر صحابی نہیں بنتے کہ صحابی صحبت نبی سے بنتے تھے وہ صحبت اب کہاں نصیب ۔ حضور سب کچھ دے گئے مگرصحبت ساتھ ہی لے گئےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم۔ ‘‘ ( )
¥مشک کی تعریف و حکم :مذکورہ حدیث میں مشک کا ذکر ہوا ہے یہ سیاہ سرخی مائل جما ہوا خون ہوتا ہے جو ہرن کی ناف میں ایک تھیلی میں ہوتا ہے اور ہرن کی ناف سے جھڑجاتا ہے ، یہ نہایت خوشبو دار ہوتا ہے ۔ ” تفہیم البخاری“میں ہے : ” علماء نے اس کی طہارت پر اتفاق کیا ہے اور احناف کے نزدیک یہ مرد و عورت دونوں کے لیے حلال ہے اور اس سے انتفاع جائز ہے ۔ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے پاس بھی مشک تھی جس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’صحابی ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)مذکورہ حدیث پاک میں صالحین کی صحبت اختیار کرنے اور بُرے لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنے
کا درس دیا گیا ہے ۔
(2) نیک لوگوں کی ہم نشینی دنیاو آخرت میں سود مند ہے اور بُرے لوگوں کی رفاقت دونوں جہاں میں نقصان کا باعث ہے ۔
(3) نیک صالح صحیح العقیدہ کی ہم نشینی باعث برکت ہے اور بد مذہب ، گمراہ فاسق و فاجر سے دوستی ایمان کے ضائع ہونے اور فسق وفجور میں مبتلا ہونے کا سبب ہے ۔
(4) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے لیے صحابی ہونے کی فضیلت ان کی دیگر تمام فضیلتوں سے بڑھ کر ہے ۔
(5) مشک پاک ہے اور اس سے نفع حاصل کرنا مرد و عورت دونوں کے لیے جائزہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صالحین کی رفاقت اختیار کرنے کی سعادت عطا فرمائے اور ہمیں شریر لوگوں کی صحبت سے محفوظ فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 363