Main Icon

نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 370

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَارَسُوْلَ اللهِ كَيْفَ تَقُوْلُ فِيْ رَجُلٍ اَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ. ( )

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : جاء رجل الی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فقال : يارسول الله كيف تقول في رجل احب قوما ولم يلحق بهم؟ فقال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم : المرء مع من احب. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے مگر ان سے ملانہیں ۔ ‘‘رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

جنت میں نیکوں کی رَفاقت :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ایک انسان کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن اس نے نہ تو کبھی اُن سے ملاقات کی ہو ، نہ اُن کے جیسے نیک اَعمال کیے ہوں ، مگر اُن سے دلی محبت رکھتا ہو جیسے آج ہم گندے کمینے بدکار سیاہ کار حضور سید الابرارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور ان کے اصحاب اخیار سے محبت کرتے ہیں ۔ ( ) تو ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا ۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : یعنی جنت میں ہر شخص

اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے اگر چہ اس نے نیک لوگوں کی طرح زیادہ اعمال صالحہ نہ کیے ہوں لیکن
اللہتعالیٰ اسے حُسنِ نیت کی وجہ سے جنتیوں میں شامل فرمادے گا ۔ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ ہر نسبت جنسیت چاہتی ہے ، عشق و محبت نہ جنسیت دیکھے نہ برابری ، بندہ کواللہسے ، اُمَّتی کورسولُ اللہسے عشق ہوسکتا ہے ،اللہتعالیٰ نصیب کرے ، خوفِ خدا ، عشقِ جنابِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہکی بڑی نعمت ہے ۔ ‘‘ ( )
نوٹ : مذکورہ حدیث پاک کی تفصیلی شرح کے لیے حدیث نمبر 368 ملاحظہ فرمائیں ۔
مدنی گلدستہ
امام’’حسن ‘‘ کے 3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 3مدنی پھول
(1)
نیک لوگوں سے محبت کرنے والا جنت میں ان کے ساتھ ہوگا ۔
(2) ہر نسبت جنسیت چاہتی ہے لیکن محبت جنسیت کی محتاج نہیں ۔
(3) نیک لوگوں سے محبت کرنے کی وجہ سے بندے کو جنتیوں میں شامل کردیا جاتا ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا میں صالحین کی محبت و الفت اور جنت میں ان کی رفاقت و معیت عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 370