نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 4

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرتِ سَیِّدُنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا : ’’آئیے حضرتِ اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ملاقات کے لیے چلتے ہیں جیساکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان سے ملاقات فرمایا کرتے تھے ۔ ‘‘ جب دونوں ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ۔ سیدنا صدیق اکبر و سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا : ’’آپ کیوں روتی ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے بہتر مقام ہے ۔ ‘‘ سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابولیں : ’’ میں اس لیے نہیں روتی کہ میں اس بات سے لاعلم ہوں کہاللہتعالیٰ کے یہاں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے بہتر مقام ہے بلکہ میں تو اس وجہ سے رورہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے ۔ ‘‘ سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی اس گفتگو نے سیدنا صدیق اکبر و سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو بھی رونے پر مجبور کردیااور وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۔

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنْطلِقْ بِنَااِلَى اُمِّ اَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَزُوْرُهَا كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُهَا فَلَمَّا انْتَهَيَا اِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالَا لَهَا : مَا يُبْكِيْكِ؟ اَمَا تَعْلَمِيْنَ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : اِنِّيْ لَا اَبْكِيْ اَنِّيْ لَا اَعْلَمُ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ تَعَالٰى خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنْ اَبْكِيْ اَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّماءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 360 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کرنے کے لیے چلا جو کسی دوسری بستی میں رہتا تھا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے راستے میں ایک فرشتہ مقرر فرما دیا ۔ جب وہ شخص اس فرشتے کے پاس پہنچا تو فرشتے نے پوچھا : ’’کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ اس بستی میں میرا ایک بھائی رہتا ہے اس سے ملنے کا ارادہ ہے ۔ ‘‘ فرشتے نے پوچھا : ’’ تم نے اس پر کوئی احسان کیا ہے جس کا بدلہ لینا چاہتے ہو؟ ‘‘ وہ بولا : ’’نہیں ! بلکہ میں تو محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ فرشتے نے کہا : ’’میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے تمہارے پاس یہ پیغام لایا ہوں کہاللہ عَزَّوَجَلَّبھی تم سے محبت کرتا ہے جس طرح تم اس شخص سے محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرتے ہو ۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَنَّ رَجُلاً زَارَ اَخًا لَهُ فِيْ قَرْيَةٍ اُخْرَى فَاَرْصَدَ اللهُ تَعَالَى عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا اَتَى عَلَيْهِ قَالَ : اَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَالَ : اُرِيْدُ اَخًا لِيْ فِيْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا عَلَيْهِ؟ قَالَ : لَا غَيْرَ اَنِّيْ اَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ تَعَالَى قَالَ : فَاِنِّيْ رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكَ بِاَنَّ اللهَ قَدْ اَحَبَّكَ كَمَا اَحْبَبْتَهُ فِيْهِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 361 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جو کسی مریض کی عیادت کرے یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اپنے ( مسلمان ) بھائی کی زیارت کرے تو ایک پکار نے والا آواز دیتا ہے کہ تیری زندگی خوشگوار ہو اور تیرا چلنا باعث برکت ہو اور تونے جنت میں گھر بنالیا ۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ عَادَ مَرِيضًا اَوْ زَارَ اَخًا لَهُ فِي اللَّهِ نَادَاهُ مُنَادٍ بِاَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّاْتَ مِنَ الجَنَّةِ مَنْزِلًا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 362 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا مُّنْتَنِةً. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 363 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرَحمتِ عالم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’عورت سے چارخصلتوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتاہے : ( 1 ) اس کے مال کی وجہ سے ( 2 ) اُس کے حسب یعنی خاندان کی وجہ سے ( 3 ) اُس کے حُسن کی وجہ سے ( 4 ) اور اس کے دیندار ہونے کی وجہ سے ۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ، تو دیندار عورت کے حصول کی کوشش کر ۔ ‘‘

علامہ نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کا معنیٰ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ ان چار خصلتوں کی وجہ سے عورت کا قصد کرتے ہیں لہٰذا تو دیندار عورت کے حصول کی کوشش کر اور اس کے ساتھ کامیابی حاصل کراور اس کی رفاقت پر حریص ہوجا ۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تُنْكَحُ الْمَرْاَةُ لِاَرْبَعٍ : لِمَالِهَا وَ لِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِيْنِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ. ( )
وَمَعْنَاهُ : اَنَّ النَّاسَ يَقْصِدُوْنَ فِي الْعَادَةِ مِنَ الْمَرْاَةِ هٰذِهِ الْخِصَالَ الْاَرْبَعَ فَاَحْرِصْ اَنْتَ عَلَى ذَاتِ الدِّينِ وَاظْفَرْ بِهَا وَاحْرِصْ عَلَى صُحْبَتِهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 364 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا : ’’آپ کو کیا چیز مانع ہے کہ آپ اس سے زیادہ ہم سے ملاقات کیا کریں جتنی آپ ہم سے ملاقات کرتے ہیں؟ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ-(پ۱۶ ،مریم: ۶۴ )ترجمۂ کنزالایمان: ( اورجبریل نے محبوب سے عرض کی : ) ہم فرشتے نہیں اُترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے ، اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجِبْرِيْلَ : مَا يَمْنَعُكَ اَنْ

تَزُوْرَنَا اَكْثَرَ مِمَّا تَزُوْرَنَا؟ فَنَزَلَتْ : )وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ-(. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 365 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدْرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’مؤمن کے سوا کسی کو دوست نہ بناؤ اور پرہیزگار کے علاوہ تیرا کھانا کوئی نہ کھائے ۔ ‘‘

عَنْ اَبيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تُصَاحِبْ اِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَاْكُلْ طَعَامَكَ اِلَّا تَقِيٌّ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 366 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک دیکھ لے وہ کس سے دوستی کررہا ہے ۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الرَّجُلُ عَلَى دِيْنِ خَلِيْلِهِ فَلْيَنْظُرْ اَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 367 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘
ایک روایت میں ہے کہ
سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ ایک آدمی ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن وہ ابھی تک ان سے ملا نہیں ۔ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ : قِيْلَ لِلنَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 368 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک اعرابی نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کیا : ’’قیامت کب ہوگی؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’تونے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ ‘‘ عرض کی : ’’اللہتعالیٰ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘
بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس شخص نے عرض کی : ’’میں نے قیامت کے لیے زیادہ روزے ، نمازیں اور صدقات تو تیار نہیں کیے لیکن میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ اَعْرَابِيًّا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ : حُبَّ اللهِ وَرَسُوْلِهِ قَالَ : اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ. ( )

وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُمَا : مَااَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيْرِ صَوْمٍ وَلَا صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلٰكِنِّيْ اُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 369 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے مگر ان سے ملانہیں ۔ ‘‘رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے ۔ ‘‘

عَنِِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَارَسُوْلَ اللهِ كَيْفَ تَقُوْلُ فِيْ رَجُلٍ اَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 370 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ جاہلیت میں بہتر تھے ، وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ رکھتے ہوں اور رُوحیں جمع شدہ لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ ( دنیا میں ) مُتَّحِد ہیں اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ ( دنیا میں ) الگ رہتی ہیں ۔ ‘‘ بخاری نے یہ حدیث پاک کہ ” روحیں جمع شدہ لشکر ہیں ۔ “ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کی ہے ۔

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ

وَالفِضَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِهُوْا وَالْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ. ( ) وَرَوَى الْبُخَارِيُّ قَوْلَهُ : ” اَلْاَرْوَاحُ“…الخ مِنْ رِوَايَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 371 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اُسَیْر بن عَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجنہیں ابن جابر بھی کہا جاتا ہے ، بیان کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس جب یمنی مددگار مجاہدین کے قافلے آتے تو آپ ان سے دریافت فرماتے : ’’ کیا تم میں اُویس بن عامر ہیں؟ ‘‘ یہاں تک کہ ( ایک قافلے میں ) جب سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاُن کے پاس پہنچے توسیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا : ’’کیا آپ اُویس بن عامر ہو؟ ‘‘ انہوں نے کہا : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’کیا آپ قبیلہ مُراد اور قَرَن سے ہیں؟ ‘‘ کہا : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’کیا آپ کو برص کی بیماری تھی جو ایک درہم کی جگہ کے علاوہ ساری ٹھیک ہوگئی؟ ‘‘ کہا : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’کیا آپ کی والدہ ہیں؟ ‘‘ کہا : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” تمہارے پاس یمنی مددگار مجاہدین کے قافلوں کے ہمراہ اُویس بن عامر آئیں گے ، وہ قبیلہ مراد اور ( اس کی شاخ ) قرن سے ہوں گے ، انہیں برص کی بیماری تھی پھر ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ ٹھیک ہوچکی ہوگی ، اُن کی والدہ بھی ہوں گی اور وہ اُن کے ساتھ نیکی کرنے والے ہوں گے ، اگر وہ کسی چیز پراللہتعالیٰکی قسم کھالیں تواللہتعالیٰ ان کی قسم ضرور پوری فرمادے گا ، اگر تم سے ہوسکے تو ان سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروانا ۔ “ لہٰذا آپ میرے لیے بخشش کی دعا کیجیے ۔ چنانچہ حضرت سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لیے دعا مانگی ۔ پھر سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا : ’’اب آپ کہاں جارہے ہیں؟ ‘‘ کہا : ’’کوفہ ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ کیا میں آپ ( کی خدمت ) کے لیے کوفہ کے حکمران کے نام خط نہ لکھ دوں؟ ‘‘ کہا : ’’مجھے غرباء میں رہنا پسند ہے ۔ ‘‘
پھر آئندہ سال کوفہ کے سرداروں میں سے ایک آدمی حج کے لیے آیا تو اُس کی ملاقات سیدنا فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہوئی ، آپ نے اس سے سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے متعلق پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ میں انہیں شکستہ گھر اور کم سامان کے ساتھ چھوڑ کر آیا ہوں ۔ ‘‘ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’میں نےرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا ہے کہ : ” تمہارے پاس یمنی مددگار مجاہدین کے قافلوں کے ہمراہ اُویس بن عامر آئیں گے ، وہ قبیلہ مراد اور ( اس کی شاخ ) قرن سے ہوں گے ، انہیں برص کی بیماری تھی پھر ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ ٹھیک ہوچکی ہوگی ، ان کی والدہ بھی ہوں گی اور وہ ان کے ساتھ نیکی کرنے والے ہوں گے ، اگر وہ کسی چیز پراللہتعالیٰکی قسم کھالیں تواللہتعالیٰاُن کی قسم ضرور پوری فرمادے گا ، اگر تم سے ہوسکے تو ان سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروانا ۔ “ چنانچہ یہ شخص بھی جب سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس پہنچا تو ان سے عرض کی : ’’ میرے لیے بخشش کی دعا کر دیجئے ۔ ‘‘ سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’تم ایک نیک سفر ( یعنی حج ) سے واپس آرہے ہو ، تم میرے لیے دعا کرو ۔ ‘‘ اس نے پھر آپ سے عرض کی کہ ’’آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کر دیجئے ۔ ‘‘ فرمایا : ’’تم ایک نیک سفر سے واپس آرہے ہو ، تم میرے لیے دعا کرو ۔ ‘‘ پھر سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا : ’’کیا تمہاری ملاقات امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہوئی تھی؟ ‘‘ عرض کی : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ پھر سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کے لیے بخشش کی دعا کی ۔ تب لوگوں کو سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مقام ومرتبے کا علم ہوا اور پھر آپ وہاں سے چلے گئے ۔
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا اُسَیر بن جابر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’اہل کوفہ کا ایک وفد امیر المؤمنین سَیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر ہوا ، وفد میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مذاق کرتا تھا ۔ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’کیا قبیلہ قرن کا کوئی آدمی یہاں ہے ؟ ‘‘ تو وہی آدمی حاضر ہوا ۔ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس سے فرمایا : ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا تھا کہ : ” تمہارے پاس یمنی مددگار مجاہدین کا ایک شخص آئے گا جسے اُویس کہا جاتا ہوگا ، یمن میں اس کی والدہ کے سوا کوئی نہیں ہوگا ، اسے برص کی بیماری ہوگی ، پھروہاللہتعالیٰ سے دعا کرے گا تواللہتعالیٰ ایک درہم یا ایک دینار کے سوا باقی داغ اس سے دور فرمادے گا ، پس تم میں سے جس شخص کی اس سے ملاقات ہووہ ان سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروائے ۔ ‘‘
مسلم ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ : ’’میں نےرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا کہ : ’’تابعین میں سے بہترین آدمی وہ ہوگا جسے اُویس کہا جائے گا ، اس کی والدہ بھی ہوگی ، وہ برص کی بیماری میں مبتلا رہا ہوگا ، ا س سے کہنا وہ تمہارے لیے بخشش کی دعا مانگے ۔ ‘‘

عَنْ اُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو وَيُقَالُ اِبْنُ جَابِرٍ وَهُوَ ” بِضَمِّ الْهَمْزَةِ وَفَتْحِ السِّيْنِ الْمُهْمَلَةِ“ قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اِذَا اَتَى عَلَيْهِ اَمْدَادُ اَهْلِ الْيَمَنِِ سَاَلَهُمْ : اَفِيْكُمْ اُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ ؟ حَتَّى اَتَى عَلَى اُُوَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ : اَنْتَ اُوَيْسُ بْنُ عَامِر ٍ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ فَبَرَاْتَ مِنْهُ اِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : لَكَ وَالِدةٌ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : ” يَاْتِيْ عَلَيْكُمْ اُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ اَمْدَادِ اَهْلِ الْيَمَنِِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَاَ مِنْهُ اِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ ، لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ اَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَاَبَرَّهُ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ“ فَاسْتَغْفِرْ لِيْ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَالَ : الْكُوْفَةَ قَالَ : اَلَا اَكْتُبُ لَكَ اِلَى عَامِلِهَا؟ قَالَ : اَكُوْنُ فِيْ غَبْرَاءِ النَّاسِ اَحَبُّ اِلَيَّ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ حَجَّ رَجُلٌ مِنْ اَشْرَافِهِمْ فَوافَقَ عُمَرَ فَسَاَلَهُ عَنْ اُوَيْسٍ فَقَالَ : تَرَكْتُهُ رَثَّ الْبَيْتِ قَلِيْلَ الْمَتَاعِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : ” يَاْتِيْ عَلَيْكُمْ اُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ اَمْدَادٍ مِنْ اَهْلِ الْيَمَنِِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَاَ مِنْهُ اِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ اَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَاَبَرَّهُ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ“ فَاَتٰى اُوَيْسًا فَقَالَ : اِسْتَغْفِرْ لِيْ قَالَ : اَنْتَ اَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِيْ قَالَ : اِسْتَغْفِرْ لِيْ قَالَ : اَنْتَ اَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِيْ قَالَ : لَقِيتَ عُمَرَ؟ قَالَ : نَعَمْ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ فَفَطِنَ لَهُ النَّاسُ فَانْطَلَقَ عَلَى وَجْہِهِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ اَيْضًا عَنْ اُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ اَهْلَ الكُوْفَةِ وَفَدُوْا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِيْهمْ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَسْخَرُ بِاُوَيْسٍ فَقَالَ عُمَرُ : هَلْ هَاهُنَا اَحَدٌ مِنَ الْقَرَنِیِّیْنَ؟ فَجَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ : اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ : اِنَّ رَجُلًا یَاْتِيْكُمْ مِّنَ الْيَمَنِِ يُقَالُ لَهُ : اُوَيْسٌ لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِِ غَيْرَ اُمٍّ لَهُ قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللهَ تَعَالَى فَاَذْهَبَهُ اِلَّا مَوْضِعَ الدِّيْنَارِاَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : اِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : اِنَّ خَيْرَ التَّابِعِيْنَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ اُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَمُرُوْهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 372 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں نے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے مجھے اجازت عطا فرمائی اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا : ” اے بھائی ! مجھے اپنی دعا میں نہ بھولنا ۔ “سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’حضور تاجدار رسالت شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس مبارک فرمان سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس

کے بدلے مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں ارشادفرمایا : ’’اے بھائی ! ہمیں بھی اپنی دعا میں شریک کرنا ۔ ‘‘

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : اِسْتَاْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَاَذِنَ لِيْ وَقَالَ : لَا تَنْسَنَا يَا اُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ فَقَالَ : كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِيْ اَنَّ لِيْ بِهَا الدُّنْيَا.وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ : اَشْرِكْنَا يَا اُخَيَّ فِي دُعَائِكَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 373 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ’’حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسوار ہوکر اور پیدل مسجد قباء کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے اور وہاں دو رکعت نفل ادا فرماتے ۔ ‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی رحمت شفیع امتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر ہفتے کے دن سوار ہوکر اور پیدل مسجد قباء تشریف لے جاتے تھے اور جلیل القدر صحابی رسول حضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُ قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا فَيُصَلِّي فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَاْتِيْ مَسْجِدَ قُبَاءَ كُلَّ سَبْتٍ رَاكِبًا وَمَاشِيًا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 374 ، نیک لوگوں کی زیارت کا بیان