- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- حدیث نمبر 373
حدیث مبارکہ
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : اِسْتَاْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَاَذِنَ لِيْ وَقَالَ : لَا تَنْسَنَا يَا اُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ فَقَالَ : كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِيْ اَنَّ لِيْ بِهَا الدُّنْيَا.وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ : اَشْرِكْنَا يَا اُخَيَّ فِي دُعَائِكَ. ( )
عن عمر بن الخطاب قال : استاذنت النبي صلى الله عليه وسلم في العمرة فاذن لي وقال : لا تنسنا يا اخي من دعائك فقال : كلمة ما يسرني ان لي بها الدنيا.وفی روایۃ قال : اشركنا يا اخي في دعائك. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں نے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے مجھے اجازت عطا فرمائی اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا : ” اے بھائی ! مجھے اپنی دعا میں نہ بھولنا ۔ “سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’حضور تاجدار رسالت شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس مبارک فرمان سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس
کے بدلے مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں ارشادفرمایا : ’’اے بھائی ! ہمیں بھی اپنی دعا میں شریک کرنا ۔ ‘‘
شرح حدیث
استاد یاپیرصاحب سے سفرکی اجازت مانگنا :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور سیدعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عمرہ کرنے کی اجازت چاہی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسلام سے پہلے عمرہ کی نذر مانی تھی جو پوری نہ کرسکے تھے کہ مسلمان ہوگئے ۔ پھر حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مسئلہ پوچھا تو فرمایا : ’’نذر پوری کر و ۔ ‘‘ تب آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعمرہ کے لیے حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اجازت سے روانہ ہوئے ۔ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاگرد اور مرید کے لیے مناسب ہے کہ ہر کام میں اپنے استاد اور شیخ سے اجازت طلب کریں ۔ خاص طور پر ان نیک کاموں میں ضرور اجازت طلب کریں جو باہم اجتماعیت کے ساتھ کیے جاتے ہیں تاکہ شاگرد یا مرید کی غیر موجود گی اُستاد اور شیخ کے ذہن میں ہو ۔اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے :اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُؕ-(پ۱۸ ،النور: ۶۲ )ترجمۂ کنزالایمان: ایمان والے تو وہی ہیں جواللہاور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں ۔
امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے عمرے کی اجازت عطا فرمائی اور مغفرت کی دعا سے بھی نوازا ۔ ‘‘ ( )
¥حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی عاجزی :حضور نبی پاک صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ’’بھائی ‘‘ فرمایا ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو حضرت عمر کو بھائی فرمایا یہ انتہائی کرم کریمانہ ہے جیسے سلطان اپنی رعایا سے کہے : میں تمہارا خادم ہوں ۔ مگر کسی مسلمان کا حق نہیں کہ حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھائی کہے ۔ رب تعالیٰ فرماتاہے :لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ-(پ۱۸ ،النور: ۶۳ )ترجمۂ کنزالایمان: رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالوجیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔
اسی لیے کبھی صحابہ کرام نے حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھائی کہہ کر نہ پکارا ۔ روایت حدیث میں تمام صحابہ یہی کہتے تھےقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ‘‘ ( )
¥اُمَّتی حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے کیا دعا کرے ؟شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا : ’’اے بھائی ! ہمیں دعا میں یاد رکھنا ۔ ‘‘ اس کے تحتمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” یعنی مکہ معظمہ پہنچ کرہرمقبول دعا میں اپنے ساتھ میرے لیے بھی دعا کرنا ۔ معلوم ہوا کہ حاجی سے دعا کرانا اور وہاں پہنچ کر دعا کرنے کے لیے کہنا سنت ہے ۔ صوفیائے کرام اس جملے کے معنی یہ کرتے ہیں کہ : اے عمر ! ہر دعا میں ہم پر دُرود شریف پڑھنا ہمارے دُرود کو نہ بھولنا تاکہ اس کی برکت سے تمہاری دعائیں قبول ہوں ۔ حضور کے لیے اعلیٰ درجے کی دعا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درود شریف پڑھنا ہے ۔ کریم کے پیاروں کو دعائیں دینا درحقیقت اس سے مانگنے کی تدبیر ہے ، ہمارا بھکاری ہمارے دروازے پر آکر ہمارے جان و مال اولاد کو دعائیں دیتا ہے ہم سے بھیک پاتا ہے ۔ ہم بھی رب
تعالیٰ کے محبوب کو دعائیں دیں رب تعالیٰ سے بھیک لیں ۔ ‘‘ ( )
¥سب کے لیے دعا کرے :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے جو دعا کا فرمایا اس سے مقام عبودیت میں خضوع اور عاجزی کا اظہار کرنا مقصود ہے اور آپ نے اپنے اس عمل سے امت کو خدا کے نیک بندوں اور صالحین سے دعا کروانے کی ترغیب دلائی ہے اور اس بات پر تنبیہ فرمائی ہے کہ دعا کرنے والا صرف اپنے لیے دعانہ کرے بلکہ اپنی دعا میں اپنے اقرباء اور چاہنے والوں کو بھی شامل کرلے خاص طور پر ان دعاؤں میں کہ جو مقام قبولیت میں مانگی جائیں ، اور اس سے حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی شان و عظمت کا پتا چلتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥مسافر سے دعا کی درخواست :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ مقیم کے لیے مستحب ہے کہ وہ مسافر کو مقامات خیر پر دعا کرنے کی درخواست کرے ۔ اگرچہ مقیم مسافر سے افضل ہو اور اگرچہ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ مسافر اس کے لیے دعا کرے گا تب بھی اسے یاد دلانے میں کوئی حرج نہیں ۔ خاص طورپر کہ جب اس کا سفر عبادت کے لیے ہو جیسے حج ، عمرہ اور جہاد وغیرہ تو ایسے سفر پر جانے والے سے لازمی طورپر دعا کی التجا کرے ۔ ‘‘ ( )
¥ایک اہم بات کی وضاحت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات بعد اَز خدا تمام کائنات میں بزرگ و برتر ہے ، آپ ہی کے صدقے اہل محشر قیامت کی ہولناکیوں سے نجات پائیں گے ، آپ ہی کی شفاعت سے بے شمار عاصی و گنہگار لوگوں کی مغفرت ہوگی ، آپ ہی سردار انبیاء و رسل ہیں ، آپ ہی
خالق کائنات کے محبوب ہیں ، آپ کے فضائل و مناقب بے حد و بے شمار ہیں ۔ اس عظیم الشان مرتبے کے بعد بھی کیا آپ کو کسی کی دعا کی حاجت ہے ؟ کیا آپ اپنے غیر سے دعا کروانے سے مستغنی نہیں؟ تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اپنے لیے دعا کروانے کا حکم ارشاد فرمایا؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیاِس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ اول تو ہم یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ کوئی شخص دعا سے مستغنی ہے ۔ ( کیونکہ ضروری نہیں کہ دعا صرف جہنم سے نجات ہی کے لیے ہو بلکہ بعض اوقات بلندئ درجات و اعلیٰ مقام کے لیے بھی دعا مانگی جاتی ہے ۔ ) لیکن اگر ہم یہ تسلیم کربھی لیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے غیر کی دعا سے مستغنی ہیں تو پھر سیدنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دعا کا فرمانا تعلیم اُمَّت کے لیے ہے یا پھر سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی عظمت بیان کرنے اور آپ کا دل خوش کرنے کے لیے ہے ۔ ‘‘ ( )
¥حضرت عمرکے لیے ایک جملہ تمام دنیاسے افضل :دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا : ” اے بھائی ! ہمیں اپنی دعا میں یاد رکھنا ، بھول نہ جانا ۔ “ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے یہ مبارک کلمات سن کر سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبہت خوش ہوئے ، فرماتے ہیں کہ : ” اِس مبارک فرمان سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس کے بدلے مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ “عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکوسیِّد عالم،نور مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جن کلمات سے خوشی ہوئی وہ یاتو یہ ہیں : ” ہمیں اپنی دعا میں شریک کرنا یااے بھائی ! ہمیں نہ بھولنا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کچھ اور فرمایا ہو لیکن یہاں حدیث پاک میں وہ الفاظ فخر یا آفت نفس سے بچنے کے لیے بیان نہ فرمائے ہوں ۔ “ ( ) نیز حضرت عمر کا یہ فرمان فخریہ نہیں بلکہ شکریہ کے
طور پر ہے یعنی حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے بھائی کے خطاب سے نوازا ۔ معلوم ہوا کہ میں دنیا وآخرت میں صحیح مؤمن ہوں پھر مجھے حکم دعا کہ حضور کو دعائیں دوں ۔ معلوم ہوا کہ میرا منہ حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا کے لائق ہے ، پھر فرمایا مجھے بھولنا نہیں ۔ معلوم ہوا کہ میرا دل کاشانۂ یار بننے کے لائق ہے ، یہ ایسی بشارتیں ہیں کہ تمام دنیا کی نعمتیں ان پرقربان ہیں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
” سیدنا عمر“کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1)اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے مختلف اُمور میں حضور نبی اکرم نور ِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اِجازت طلب کیا کرتے تھے ۔
(2) امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا بارگاہِ رسالت میں نہایت ہی بلند مقام و مرتبہ تھاکہ حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود آپ کو اپنی دعاؤں میں شمولیت کا ارشاد فرماتے ہیں ۔
(3) شاگرد اور مرید کے لیے مستحب ہے کہ ہر کام سے پہلے اپنے استاد اور شیخ سے اجازت حاصل کرلے ۔
(4) سرکار دوعالم ، نور مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھائی فرمانا کریمانہ انداز ہے لیکن کسی مسلمان کا یہ حق نہیں کہ وہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنا بھائی کہے ۔
(5) اُمتی کی طرف سے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے اعلیٰ دعا آپ پر درود شریف پڑھنا ہے ۔
(6) حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو اپنی دعا میں شامل کرنے سے دعا قبولیت کے قریب ہوجاتی ہے ۔
(7) کسی بھی نیک سفر پر جانے والے سے دعا کی درخواست کرنا مستحب ہے ۔
(8) دعا مانگتے ہوئے فقط اپنے لیے دعا نہ مانگی جائے بلکہ عزیز و اقرباء کو بھی اپنی دعا میں شامل کیاجائے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بزرگوں کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 373