- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- حدیث نمبر 364
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تُنْكَحُ الْمَرْاَةُ لِاَرْبَعٍ : لِمَالِهَا وَ لِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِيْنِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ. ( )
وَمَعْنَاهُ : اَنَّ النَّاسَ يَقْصِدُوْنَ فِي الْعَادَةِ مِنَ الْمَرْاَةِ هٰذِهِ الْخِصَالَ الْاَرْبَعَ فَاَحْرِصْ اَنْتَ عَلَى ذَاتِ الدِّينِ وَاظْفَرْ بِهَا وَاحْرِصْ عَلَى صُحْبَتِهَا.
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : تنكح المراة لاربع : لمالها و لحسبها ولجمالها ولدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك. ( )
ومعناه : ان الناس يقصدون في العادة من المراة هذه الخصال الاربع فاحرص انت على ذات الدين واظفر بها واحرص على صحبتها.
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرَحمتِ عالم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’عورت سے چارخصلتوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتاہے : ( 1 ) اس کے مال کی وجہ سے ( 2 ) اُس کے حسب یعنی خاندان کی وجہ سے ( 3 ) اُس کے حُسن کی وجہ سے ( 4 ) اور اس کے دیندار ہونے کی وجہ سے ۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ، تو دیندار عورت کے حصول کی کوشش کر ۔ ‘‘
علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کا معنیٰ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ ان چار خصلتوں کی وجہ سے عورت کا قصد کرتے ہیں لہٰذا تو دیندار عورت کے حصول کی کوشش کر اور اس کے ساتھ کامیابی حاصل کراور اس کی رفاقت پر حریص ہوجا ۔ ‘‘
شرح حدیث
عورت کی مال داری کی وجہ سے نکاح :مذکورہ حدیث پاک میں عورتوں سے نکاح کرنے کی چار وجوہات بیان کی گئی ہیں اور عام طور پر لوگ پہلی تین وجہوں یعنی عورت کے مال ، جمال اور خاندان پر نظر رکھتے ہوئے اُن سے نکاح کرتے ہیں لیکن حدیث پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنے چوتھی وجہ یعنی دینداری کو باقی تمام پر ترجیح دینے کا حکم صادر فرمایا ہے ۔ حدیث پاک میں عورت سے نکاح کرنے کا پہلا سبب مال بیان کیا گیا ہے یعنی بعض مرد عورت کے مال و اَسباب کی بناء پر اس سے نکاح کرتے ہیں ۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عورت مالدار ہوتی ہے تو شوہر پر عورت کو وہ چیزیں دینا لازم نہیں ہوتا جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا اور مرد پر عورت کے نان نفقے کا خرچ اٹھانا بھی بھاری نہیں ہوتا ۔ ‘‘ ( )
¥عورت کے حسب نسب کی وجہ سے نکاح :حدیث پاک میں حسب کو عورت سے نکاح کرنے کی دوسری وجہ بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی بعض لوگ ایسی عورت سے نکاح کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو باعزت گھرانے سے تعلق رکھتی ہو اور اس کا خاندان شرف و بلندی کا حامل ہو تاکہ اس کے ذریعے پیدا ہونے والی اولاد معاشرے میں نسب کی بنیاد پر امتیازی حیثیت حاصل کرے ۔عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’عورت کے حسب والی ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کے باپ ، دادا شرف و فضیلت کے حامل ہوں ۔ حسب ماخوذ ہے حساب سے جس کا معنی ہے شمار کرنا کیونکہ اہل عرب اپنے آباء و اجداد اور اپنی قوم کے فضائل شمار کرتے اور اس پر فخر کرتے اور جس شخص کے فضائل زیادہ ہوتے اسے دوسروں پر ترجیح دیتے تھے ۔ ‘‘عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے اس مقام پر ایک مسئلہ بیان فرمایا ہے کہ ’’اعلیٰ اور بلند نسب والے مرد کے لیے مستحب ہے کہ وہ شریف النسب عورت سے نکاح کرے ۔ ہاں اگر عالی نسب والی عورت دیندار نہ ہو اور غیر عالی حسب و نسب والی دیندار ہو تو دیندار کو ترجیح دے ۔ اسی طرح تمام صفات میں نیک عورت کو فضیلت دی جائے گی ۔ ‘‘ ( )
¥عورت کے حُسن وجمال کی وجہ سے نکاح :مذکورہ حدیث پاک میں عورت سے نکاح کی تیسری وجہ حُسن وجمال بیان کی گئی ہے ۔ دلیل الفالحین میں امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سے منقول ہے کہ نکاح سے حاصل ہونے والا فائدہ یعنی عورت سے قربت کا حلال ہونا تو کسی بھی عورت سے نکاح کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے لیکن حسن بھی نکاح کا ایک بہت قوی داعی ( یعنی سبب ) ہے ۔ شریعت میں عورت کی تمام صفات سے صرف نظر کرکے محض حسن کو مد نظر رکھ کر نکاح کرنے اور بہت زیادہ حسین و جمیل عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ حسن کی بنا پر عورت ناز و نخرے زیادہ دکھائے گی اور یہ زیادتی دونوں کے درمیان نزع اور عدم انسیت کا سبب بنے گی اور ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خوبصورتی کی بنا پر عورت کی جانب شدید میلان ہوگا اور ممکن ہے کہ شدت میلان کی وجہ سے عورت اسے کثیر نیک اعمال سے غفلت میں مبتلا کردے نیز حسین و جمیل عورت طمع فاسد کا سبب بھی بنے گی کیونکہ جس چشمے کا پانی میٹھا ہو وہاں بھیڑ بھی زیادہ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں عورت سے ایسی ناگوار حرکت سرزد ہونے کا اندیشہ رہے گا کہ جو مرد کے لیے ضرر رساں ہوگی لیکن اس تفصیل کا یہ مطلب نہیں کہ مطلقًا حسن کی رعایت ہی نہ کی جائے بلکہ اتنا حسن ہونا چاہیے کہ جو طبیعت کے موافق ہو یہی وجہ ہے کہ شریعت نے ایسی عورت کو دیکھنے کی اجازت دی ہے جسے نکاح کا پیغام بھیجا ہو ۔ ‘‘ ( )
¥نیک عورت سے نکاح :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جب بھی نکاح جیسی عظیم سنت ادا کرنے کی سعادت نصیب ہو تو ہمیشہ
دینداری کو فوقیت و برتری دینی چاہیے ۔ مال و دولت ، عزت و شہرت اور حسن و جمال تو عارضی اوصاف ہیں لیکن دینداری دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی کا پیش خیمہ ہے ۔مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’تم عورت کی شرافت ودینداری تمام چیزوں سے پہلے دیکھو کہ مال و جمال فانی چیزیں ہیں دین لازوال دولت ، نیز دیندار ماں دیندار بچے جنتی ہے ڈاکٹر اقبال نے کیا خوب فرمایا :
بے ادب ماں با ادب اولاد جَن سکتی نہیں
مَعْدَنِ زَر مَعْدَنِ فولاد بَن سکتی نہیں
ماں سیدتنا فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاجیسی ہو تو اولاد حسنین کریمینرَضِیَ اللہُ عَنْہُمَاجیسی ہوتی ہے ۔ نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جو عورت کا صِرف مال دیکھ کر نکاح کرے گا ، وہ فقیر رہے گا ، جو صِرف خاندان دیکھ کر نکاح کرے گا وہ ذلیل ہوگا اور جو دِین دیکھ کر نکاح کرے گا اسے برکت دی جائے گی ۔ مال ایک جھٹکے میں ، جمال ایک بیماری میں جاتا رہتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥دِیندار عورت سے نکاح کی برکت :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ نکاح کے معاملے میں دِیندار نیک و صالح خاتون کو دنیاوی اوصاف کی حامل عورتوں پر ترجیح دی جائے کہ یہ دونوں جہاں میں کامیابی کا سبب ہے نیز دیندار عورت کو زوجیت میں لانے سے ایک اچھے انسان کی رفاقت کا شرف بھی حاصل ہوگا اور یہ حدیث پاک بھی اسی مناسبت سے اس باب میں ذکر کی گئی ہے ۔عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات پر اُبھارا گیا ہے کہ ہر معاملے میں نیک لوگوں کی مصاحبت اختیار کرنی چاہیے کہ صالحین کی رَفاقت اختیار کرنے والااُن کے اَخلاق ، اچھی عادات اور برکات سے مُسْتَفِیْد ہوتا ہے اور ان کی جانب سے کسی بھی قسم کے ضرر پہنچنے سے امان میں رہتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥” تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں“ کا مطلب :حدیث پاک کے آخر میں ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ”تَرِبَتْ يَدَاكَیعنی تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔ ‘‘ علامہ کرمانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یہ کلمہ دراصل دعا ہے لیکن عرب اس کو انکار ، تعجب ، تعظیم اور کسی کام پر رغبت دلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ یہاں یہ رغبت دلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔ ‘‘ بعض علماء نے فرمایا : ’’ممکن ہے کہ یہاں یہ جملہ دعا دینے کے لیے ہو جبکہ وہ سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشاد پر عمل نہ کرے تو اس صورت میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کا یہ مطلب ہوگا کہ اگر تم میری بات پر عمل نہ کرو اور دیندار عورت کو نظر انداز کرکے فقط خوبصورت اور مالدار عورت کے متلاشی ہو تو تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ۔ ( )
¥نکاح کے لیے نیک مرد کو ترجیح دو :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! نکاح کے لیے جہاں شریعت نے نیک عورت کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے وہیں عورت کے لیے نیک مرد کو بھی ترجیح دینے کا حکم ہے کہ جس طرح دیندار عورت سے مرد کو فائدہ ہوتا ہے ایسے ہی نیک مرد سے عورت کو بھی فائدہ ہوگا ۔ اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص حضرتِ سَیِّدُناحسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا کہ میری ایک بیٹی ہے جس سے میں بہت محبت کرتا ہوں اور میرے پاس اس کے چند رشتے آئے ہوئے ہیں ، آپ مجھے مشورہ دیں کہ میں اس کا نکاح کس سے کروں؟ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’تو اس کا نکاح اس شخص سے کر جواللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا ہے ۔ کیونکہ اگر وہ تیری بیٹی سے محبت کرے گا تو اس کی عزت کرے گا اور اگر اس سے نفرت کرے گا تو اس پر ظلم نہیں کرے گا ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
سیدتنا ’’فاطمہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)مذکورہ حدیث پاک میں دیندار عورت سے نکاح کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے کیونکہ یہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا سبب ہے ۔
(2) نیک و صالح عورت کو زوجیت میں لانے کی برکت سے ایک اچھے انسان کی مصاحبت ملے گی اور مرد اس کے اچھے اخلاق ، عادات اور برکات سے مستفید ہوگا ۔
(3) نکاح کے لیے حسن و جمال ، حسب و نسب اور مال و دولت کو مطمح نظر نہ بنایا جائے بلکہ دینداری کو ترجیح دی جائے کیونکہ یہ تمام اوصاف تو عارضی ہیں جبکہ دینداری لازوال دولت ہے ۔
(4) نیک عورت سے نکاح کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ نیک اولاد جنے گی اور اس کی بہتر انداز میں دینی تربیت کرے گی ۔
(5) عورت کے تمام اوصاف سے صرف نظر کرتے ہوئے محض حسن کو مدنظر رکھتے ہوئے نکاح کرنے کو شریعت نے ناپسند کیا ہے کیونکہ بہت زیادہ حسین عورت ناز نخرے بھی زیادہ دکھائے گی اور اس وجہ سے دونوں کے درمیان جھگڑا اور فساد ہوگا ۔ لہذا دینداری کو بھی ضرور دیکھنا چاہیے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر معاملے میں دین کو ترجیح دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیشہ نیک لوگوں کی مصاحبت و رفاقت اختیار کرنے کی سعادت مرحمت فرمائے ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 364