Main Icon

نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 367

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الرَّجُلُ عَلَى دِيْنِ خَلِيْلِهِ فَلْيَنْظُرْ اَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ. ( )

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : الرجل على دين خليله فلينظر احدكم من يخالل. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک دیکھ لے وہ کس سے دوستی کررہا ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

اِنسان پر اُس کے رفیق کے اثرات :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی زندگی پر دوستی کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے ۔ انسان جن لوگوں کی معیت و رفاقت میں وقت بسر کرتا ہے انہی لوگوں کی عادات و اطوار اس میں پائی جاتی ہیں ۔ اس کے ہم نشیں جن صفات سے متصف ہوتے ہیں یہ بھی انہیں صفات کا حامل ہوجاتا ہے ۔ معاشرے میں بھی اس کا شمار اس کے ہم مجلس افراد میں کیا جاتا ہے ۔ اگر اس کے رفیق علم و عمل سے

مزین و آراستہ ہوں تو یہ بھی باشعور و باکردار ہوگا اور اگر وہ جہالت و لاعلمی کے اندھیروں میں بٹھک رہے ہیں تو پھر حماقت و نادانی میں اس کا بھی کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوگا ۔ الغرض آدمی کا رہن سہن ، چال چلن ، طور طریقہ اور اخلاق و کردار اس کے ساتھ رہنے والوں کی مثل ہوتا ہے ۔ مذکورہ حدیث پاک میں حضور
عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنے اسی بات کو بیان فرمایا ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے یعنی اخلاق و کردار میں اپنے رفیق ہی کی مانند ہوتا ہے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’دین سے مراد یا تو ملت و مذہب ہے یا سیرت و اخلاق ، دوسرے معنیٰ زیادہ ظاہر ہیں ۔ یعنی عمومًا انسان اپنے دوست کی سیرت و اخلاق اختیار کرلیتا ہے کبھی اس کا مذہب بھی اختیار کرلیتا ہے لہٰذا اچھوں سے دوستی رکھو تاکہ تم بھی اچھے بن جاؤ ۔ صوفیاء فرماتے ہیں : ”لَاتُصَاحِبْ اِلَّا مُطِیْعًا وَلَا تُخَالِلْ اِلَّا تَقِیًّایعنی نہ ساتھ رہو مگراللہرسول کی فرمانبرداری کرنے والے کے نہ دوستی کرو مگر متقی سے ۔ ‘‘ ( )
¥
دوستی اور رَفاقت ومعیت کا معیار :حدیث پاک میں جس دوستی کے بارے میں فرمایا گیا ہے اس سے مراد سچی دلی دوستی ہے جس کی وجہ سے دوست کی محبت دل میں قرار پکڑ لے ۔ اسی وجہ سے رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس بات کا حکم ارشاد فرمایا ہے کہ کسی سے دوستی کرنے سے پہلے اسے جانچ لو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّو رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مطیع ہے یا نہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹)(پ۱۱ ،التوبۃ: ۱۱۹ )ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والواللہسے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو ۔حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’طبیعتیں فطری طور پر ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی اور ایک دوسرے کی پیروی کرتی ہیں بلکہ ایک طبیعت دوسری طبیعت سے ضرور کچھ نہ کچھ حاصل کرتی ہے جس کا اسے علم نہیں ہوتا ۔ تو دنیا کی حرص میں مبتلا شخص کی ہم نشینی و

مخالطت حرص کا ذریعہ بنتی ہے اور زاہد کی ہم نشینی و مخالطت دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے ۔ اسی لیے دنیا کے طالب لوگوں کی صحبت کو ناپسند اور آخرت کی رغبت رکھنے والوں کی صحبت کو مستحب قرار دیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جس شخص سے دوستی کرنے کا ارادہ ہو اس کے ظاہری حالات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلے اگر اس کی حالت اور دینداری پر راضی ہو تو اس کی رفاقت اختیار کرلے اور اگراس کی دینداری سے مطمئن نہ ہو تو اس سے اجتناب کرے کیونکہ دیکھنے والا جو کچھ اس کے دوست کے بارے میں گمان کرے گا وہ ہی اس کے بارے میں بھی گمان کرے گا ۔ نیز اخوت و دوستی کا سب سے نچلا درجہ یہ ہے کہ اپنے دوست کو برابری کی نگاہ سے دیکھے اور کامل درجہ یہ ہے کہ اسے خود سے افضل گمان کرے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’حطیم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
کسی بھی شخص کو اپنا رفیق بنانے سے پہلے اس کے دینی اور دنیاوی حالات کا جائزہ لے لینا چاہیے ۔
(2) رفیق بناتے ہوئے دینداری کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ جسے دوست بنا رہے ہیں وہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مطیع و فرمانبردار ہے یا نہیں؟ کیونکہ انسان کے اخلاق و کردار پر اس کے ساتھ رہنے والے لوگوں کا بہت زیادہ اثر پڑتا ہے ۔
(3) معاشرے میں قدرو منزلت کے اعتبار سے آدمی کا شمار اس کے ہم مجلس و ہم صحبت افراد میں ہوتا ہے اس بنا پر نیک و عزت دار لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے ۔
(4) کسی بھی شخص کو دوست بنانے کے بعد اسے اپنی ذات سے افضل گمان کرنا رفاقت کا اعلیٰ درجہ ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک و صالح افراد کو اپنا رفیق بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں

ایسے لوگوں کی صحبت سے محفوظ فرمائے جو دنیا اور آخرت میں ہمارے لیے خسارے کا باعث ہوں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 367