Main Icon

نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 365

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجِبْرِيْلَ : مَا يَمْنَعُكَ اَنْ

تَزُوْرَنَا اَكْثَرَ مِمَّا تَزُوْرَنَا؟ فَنَزَلَتْ : )وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ-(. ( )

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم قال لجبريل : ما يمنعك ان

تزورنا اكثر مما تزورنا؟ فنزلت : )و ما نتنزل الا بامر ربك-له ما بین ایدینا و ما خلفنا و ما بین ذلك-(. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا : ’’آپ کو کیا چیز مانع ہے کہ آپ اس سے زیادہ ہم سے ملاقات کیا کریں جتنی آپ ہم سے ملاقات کرتے ہیں؟ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ-(پ۱۶ ،مریم: ۶۴ )ترجمۂ کنزالایمان: ( اورجبریل نے محبوب سے عرض کی : ) ہم فرشتے نہیں اُترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے ، اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے ۔

شرح حدیث

آیت مبارکہ کا شان نزول :مذکورہ حدیث پاک میں سورۂ مریم کی آیت نمبر 64 کا شان نزول بیان کیا گیا ہے کہ جب حضوررحمت عالم ، نور مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قوم نے آپ سے اصحاب کہف ، ذو القرنین اور روح کے متعلق سوال کیا تو آپ کو امید تھی کہ ان سوالوں کے جوابات حضرت سیدنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَاملے کر آئیں گے ۔ لیکن سیدنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے آنے میں تاخیر کردی ۔ بعض روایات کے مطابق چالیس دن ، بعض کے مطابق بارہ راتیں اور بعض کے مطابق پندرہ دن تاخیر کی ۔ یہ تاخیررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر بہت شاق گزری پھر جب حضرت سیدنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامحاضرہوئے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’آپ نے آنے میں تاخیر کردی ، مجھے آپ سے ملنے کا اشتیاق تھا ۔ ‘‘ تو سیدنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی : ’’مجھے بھی آپ سے ملاقات کرنے کا اشتیاق تھا لیکن میں حکم کا پابند ہوں جب مجھے بھیجا جاتا ہے تو میں حاضر ہوجاتا ہوں اور جب روکا جاتا ہے تو رُک جاتا ہوں ۔ ‘‘ تو اس وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہی آیت مبارکہ نازل فرمائی ۔ ‘‘ ( )

¥
فرشتے بِاذنِ اِلٰہی نازِل ہوتے ہیں :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنے حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا تھا کہ ’’تم جتنی بار ہم سے ملاقات کرتے ہو اس سے زیادہ ملاقات کرنے سے تمہیں کیا چیز مانع ہے ؟ ‘‘ تو اس کا جواباللہ عَزَّ وَجَلَّنے اِس آیت مبارکہ میں ارشاد فرمادیا ۔ چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ ارشاد حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے بطور جواب تھا ۔ یعنی فرشتےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے اذن سے نازل ہوتے ہیں ۔ جب وہ انہیں حکم فرماتا ہے تو نازل ہوتے ہیں اور جب انہیں روکتا ہے تو وہ رُک جاتے ہیں ۔ نیز آیت مبارکہ میں ارشاد ہوا تھا کہ ” اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے ۔ “ تو آیت مبارکہ میں آگے سے مراد آخرت کا معاملہ ہے اور پیچھے سے مراد دنیا کا معاملہ ہے اور ان دونوں کے درمیان برزخ ہے جو دنیا اور آخرت کے درمیان ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
جبریل حضور کی بارگاہ میں کتنی بار آئے ؟مذکورہ حدیث پاک میں نیک لوگوں سے ملاقات کو پسند کرنے اور اس کی تمنا کرنے کو بیان کیا گیا ہے جیساکہ حدیث پاک کے ظاہر سے بالکل واضح ہے کہ سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسیدنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامسے ملاقات کی زیادتی کو پسند فرماتے تھے ۔ سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکی حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضری دوسرے انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ السَّلَامکی خدمت میں تشریف آوری سے کہیں زیادہ تھی ۔ چنانچہ ” نزہۃ القاری“میں ہے : ” حضرت جبرئیل حضرت آدم کی خدمت میں بارہ مرتبہ ، حضرت ادریس کی خدمت میں چار مرتبہ ، حضرت نوح کی خدمت میں پچاس مرتبہ ، حضرت ابراہیم کی خدمت میں بیالیس مرتبہ ، حضرت عیسیٰ کی خدمت میں دس مرتبہ ، حضرت یعقوب کی خدمت میں چار بار اور حضرت ایوب کی خدمت میں تین بار اور سید الانبیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں چوبیس ہزار

مرتبہ باریابی سے مشرف ہوئے ۔ “ ( ) اس کے باوجود آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامسے یہ استفسار فرمارہے ہیں کہ ’’تم ہم سے اس سے بھی زیادہ ملاقات کے لیے کیوں نہیں آتے ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس سوال سے واضح ہوتا ہے کہ آپ حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامکے آنے کو کس قدر محبوب جانتے ہیں اور پھر حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے بھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملاقات کے شوق کو بیان کیا کہیارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں بھی اس بات کا خواہش مند ہوں کہ بار بار آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں لیکن میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم اور اس کے اذن کا پابند ہوں ، وہ مجھے جب بھیجتا ہے تو میں نازل ہوجاتا ہوں اور جب روکتا ہے تو رُک جاتا ہوں ۔ ‘‘مدنی گلدستہ
’’حدیث ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
مذکورہ حدیث پاک میں حضور کی جبریل امین سے محبت اور جبریل امین کی حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامسے محبت بیان ہوئی ۔
(2) ہمیشہ نیک لوگوں کی رفاقت و مصاحبت کے حصول کی آرزو تمنا کرنی چاہیے ۔
(3) فرشتے جہاں بھی جاتے ہیں اور جو کچھ کرتے ہیں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے کرتے ہیں ۔
(4) سیدنا جبریل امین
عَلَیْہِ السَّلَامکوتمام انبیاء کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکے مقابلے میں حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ی کا زیادہ شرف حاصل ہوا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کا شوق اور اس کے حصول کی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 365