Main Icon

نیک لوگوں کی زیارت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 362

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ عَادَ مَرِيضًا اَوْ زَارَ اَخًا لَهُ فِي اللَّهِ نَادَاهُ مُنَادٍ بِاَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّاْتَ مِنَ الجَنَّةِ مَنْزِلًا. ( )

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من عاد مريضا او زار اخا له في الله ناداه مناد بان طبت وطاب ممشاك وتبوات من الجنة منزلا. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جو کسی مریض کی عیادت کرے یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اپنے ( مسلمان ) بھائی کی زیارت کرے تو ایک پکار نے والا آواز دیتا ہے کہ تیری زندگی خوشگوار ہو اور تیرا چلنا باعث برکت ہو اور تونے جنت میں گھر بنالیا ۔ ‘‘

شرح حدیث

عیادت اور زیارت میں فرق :مذکورہ حدیث پاک میں مسلمان کی عیادت اور زیارت کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’لغوی طورپر عیادت اور زیارت کے معنیٰ کی طرف نظر کریں تو یہ دونوں معنیٰ میں بہت قریب ہیں لیکن غالب طورپر عیادت کا لفظ بیماری میں ملاقات کے لیے جانے پر بولا جاتا ہے اور زیارت تندرستی میں ملاقات کے لیے جانے پربولاجاتا ہے ۔ ‘‘ ( )

¥
تین بشارتیں :حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جب کوئی شخص کسی مسلمان کی عیادت یا زیارت کرنے جاتا ہے تو ایک پکارنے والا اسے ندا کرکے تین بشارتیں دیتا ہے : ( 1 ) تیری زندگی خوشگوار ہو ۔ ( 2 ) تیرا چلنا باعث برکت ہو ۔ ( 3 ) تونے جنت میں گھر بنالیا ۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’پکارنے والا فرشتہ ہوتا ہے اور یہ بشارتیں دعا ہے یا خبر یعنی خدا کرے تو اورتیرا چلنا اچھا ہو اورتو جنت میں مکان پالے یا تو اچھا ہے اور تو نے گویا جنت میں مکان بنالیا ۔ مگر یہ بشارتیں اس کے لیے ہیں جومحض رضائے الٰہی کے لیے بیمار پرسی کرے ۔ ‘‘ ( )
¥
خوشگوار زندگی اور متعلقہ چیزیں :حدیث پاک میں عیادت اور زیارت کرنے والے کے لیے پہلی فضیلت بیان ہوئی کہ تیری زندگی خوشگوار ہو یعنی تو کامیاب ہو کہ تونے اس بڑے اجر کو حاصل کرلیا جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں تیرے لیے ہے یااللہ عَزَّ وَجَلَّکے مغفرت فرمانے کے سبب تو گناہوں سے پاک ہوگیا ۔ ( ) حدیث پاک میں دوسری فضیلت یہ بیان کی گئی کہ تیرا چلنا باعث برکت ہو ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی تیرا چلنا تیری دنیاوی زندگی کے خوشگوار ہونے کا سبب بنے اور خوشگوار زندگی کا تعلق جن چیزوں سے ہے وہ یہ ہیں کہ بندے کو قناعت کی دولت نصیب ہو جائے ، رضائے الٰہی کی سعادت ملے ، رزق میں برکت ہو ، وسعت قلبی عطا ہو ، اچھے اخلاق اور علم و عمل کی توفیق نصیب ہو ۔ ‘‘ ( )
¥
جنت میں گھر اور جنت کی زمین :حدیث پاک میں تیسری فضیلت یہ بیان ہوئی کہ تجھے جنت میں گھر حاصل ہو ۔مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’جنت کی بعض زمین سفیدہ

( یعنی خالی ) بھی ہے جس میں مؤمنوں کے اعمال کے بعد باغ یا مکانات تیار ہوتے ہیں اور بعض زمین میں تمام چیزیں پہلے ہی موجود ہیں جہاں کسی جنت میں گھر بنانے یا مکان بنانے کا ذکر ہوتا ہے وہاں اس خالی زمین میں مكان بنانا مراد ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’جنت ‘‘ کے 3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 3مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر مسلمان بھائی کی زیارت کرنے والے کو تین بشارتیں دی گئی ہیں ۔
(2) رضائے الٰہی کے لیے مسلمان کی عیادت کرنے یا زیارت کے لیے جانے والے کی زندگی خوشگوار ہوتی ہے اور اسے قناعت ، حسن اخلاق ، علم و عمل اور رزق میں برکت نصیب ہوتی ہے ۔
(3) جنت کی بعض زمین خالی ہے اور بعض پر تمام چیزیں پہلے ہی موجود ہیں جب جنت میں کوئی گھر یا محل بنانے کا ذکر آتا ہے تو وہاں خالی زمین میں مکان بنانا مراد ہوتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بیمار کی بیمار پرسی کرنے اور محض رضائے الٰہی کے لیے مسلمانوں کی زیارت کو جانے کی سعادت عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 362