Main Icon

باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 740

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بنِ اَبِیْ سَلَمَة رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا قَالَ كُنْتُ غُلامًا فِيْ حِجْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيه وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِيْ تَطِيْشُ في الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِیْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَا غُلَامُ! سَمِّ اللهَ تَعَالٰی، وَكُلْ بِيَمينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ.

عن عمر بن ابی سلمة رضي الله عنهما قال كنت غلاما في حجر رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت يدي تطيش في الصحفة، فقال لی رسول الله صلى الله عليه وسلم يا غلام! سم الله تعالی، وكل بيمينك، وكل مما يليك.

حدیث ترجمہ

حضرت سیّدنا عُمر بن ابو سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا اوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پرورش میں تھا،کھانا کھاتے ہوئے میرا ہاتھ برتن میں ہر طرف گھومتا تھاتورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے اِرشاد فرمایا:”اے بچے!بِسْمِ ﷲپڑھ کر سیدھے ہاتھ سے کھاؤاور اپنی جانب سے کھاؤ۔“

شرح حدیث

کھانے کے تین آداب:حضرت عُمر بن ابو سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رَبیب (سوتیلے بیٹے) اور اُم المومنین اُم سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکے فرزند ہیں۔ نابالغ ہونے کی بنا پر کھانے کے آداب سے واقف نہ تھے۔ اِس حدیث شریف میں کھانے کے تین آداب بیان کئے گئے ہیں:*بِسْمِ اﷲپڑھ کر کھانا* داہنے ہاتھ سے کھانا اور *اپنے سامنے سے کھانا۔ یہ تینوں حکم جمہور علما کے نزدیک اِستحبابی ہیں۔ خیال رہے کہ ہرچیز پیتے وقت بھیبِسْمِ اللّٰہپڑھے اور داہنے ہاتھ سے پئے،یہی سنت ہے۔ نیزیہ تینوں اُمورسنّت عَلَی الْعَین ہیں یعنی اگر جماعت میں سےصرف ایک آدمی نے اِن پر عمل کیا تو کافی نہیں بلکہ ہرشخص کو اِن پر عمل کرنا ہوگا۔ اگر اکیلا کھائے تب بھی یہی آداب پیشِ نظر رکھے۔اگربرتن میں مختلف مٹھائیاں یا مختلف قسم کی کھجوریں ہوں تو جہاں سے چاہے کھا سکتا ہے۔صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ،حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد اَمجد علی اَعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جب کھانا ایک قسم کا ہو تو ایک جگہ سے کھائے ہر طرف ہاتھ نہ مارے۔ ہاں! اگر طباق میں مختلف قسم کی چیزیں لاکر رکھی گئیں، اِدھر اُدھر سے کھانے کی اجازت ہے کہ یہ ایک چیز نہیں۔“دوسرے کے سامنے سے کھانا اُسی وقت منع ہے جب کہ اُس کی رضا معلوم نہ ہواگر یہ معلوم ہو کہ اُسے برا نہ لگے گا تو کھا سکتے ہیں۔
نوٹ:اس حدیث کی مزید وضاحت کے لئے”فیضانِ ریاض الصالحین“جلد3، باب نمبر38حدیث نمبر299 کا مطالعہ فرمائیں،نیز کھانا کھانے کے آداب وسنن کے لئے”آدابِ طعام“ کا مطالعہ فرمائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 740