Main Icon

باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 950

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنسٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرُّوْا بِجَنَازَةٍ فَاَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوْا بِاُخْرَى فَاَثنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَال النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: وَجَبَتْ، فَقَالَ عُمرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ:مَاوَجَبَتْ؟ قَالَ: هٰذَا اَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ،وَهٰذَا اَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، اَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِی الْاَرْضِ.

عن انس رضي الله عنه قال: مروا بجنازة فاثنوا عليها خيرا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وجبت، ثم مروا باخرى فاثنوا عليها شرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وجبت، فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه:ماوجبت؟ قال: هذا اثنيتم عليه خيرا فوجبت له الجنة،وهذا اثنيتم عليه شرا فوجبت له النار، انتم شهداء الله فی الارض.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ لوگ ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اُس مَیِّت کی تعریف بیان کی۔رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو لوگوں نے اُس مَیِّت کی بُرائی بیان کی۔حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”واجب ہوگئی۔“حضرت عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا چیز واجب ہوگئی؟ تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جس جنازے کی تم لوگوں نے خوبی بیان کی اُس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس جنازے کی تم لوگوں نے بُرائی بیان کی اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، تم لوگ زمین پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے گواہ ہو۔“

شرح حدیث

زمین پراللّٰہتعالیٰ کے گواہ کون ہیں؟اس حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہورہا ہے کہ اگر فاسق و فاجر لوگ بھی کسی میت کی تعریف بیان کریں تو اس کی بخشش ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں۔ چنانچہ اس کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”علمائے کرام کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی میت کی خوبیاں نیک اور متقی لوگ بیان کریں تو اُس کے لیے یہ فضیلت ہےکیونکہ بدکار اور فاسق لوگ تو اپنے جیسے فاسق کی تعریف کرتے ہیں تو اُن کے تعریف کرنے سے کوئی فاسق اس فضیلت میں داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی میت کے دشمن اُس کی برائی بیان کریں تو ان کے برائی کرنے سے وہ جہنم کا حقدار نہیں ہوجائے گا کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ نیک شخص کے دشمن ہوتے ہیں اور وہ اپنی عداوت کی وجہ سے اسے بُرا بھلا کہتے ہیں تو اُن کے بُرا کہنے سے وہ نیک شخص حدیث کی اس وعید میں داخل نہیں ہوگا۔ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض احادیث میں میت کو بُرا کہنے سے منع کیا گیا ہےلیکن حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت کردہ مذکورہ حدیث میں جب میت کی بُرائی بیان کی گئی تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منع کیوں نہیں فرمایا؟ اس کاایک جواب تو یہ ہےکہ جن احادیث میں میت کو بُرا کہنے سے منع کیا ہے اس سے کافر،منافق ،فاسِقِ مُعْلِن (علی الاعلان گناہ کرنے والا)اور بدعتی افراد خارج ہیں کہ مرنے کے بعد ان کی مذمت اس لئے کی جاتی ہے تاکہ مسلمان ان کے طریقے پر چلنے اور اُن کی اتباع و اقتدا کرنے سے بچیں اورمذکورہ حدیث میں جس میت کی بُرائی بیان کی گئی وہ ان میں سے ایک تھی۔امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:ظاہر یہ ہے کہ حدیث میں جس مُردے کی بُرائی بیان کی گئی وہ منافقین میں سے تھا۔اس بات کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے ہوتی جو سند صحیح کے ساتھ مروی ہےکہ” جس میت کی بُرائی بیان کی گئی نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کا جنازہ نہ پڑھا جبکہ دوسری میت کا جنازہ پڑھا۔“دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُوالی حدیث کا حکم وہی ہے جو زندوں کی غیبت کا ہے۔مثلاً اگرکوئی شخص بہت سے حوالوں سے اچھا ہے، نیک ہے لیکن اُس میں ایک آدھ بُرائی ہے تو ایسے شخص کی بُرائی بیان کرنا غیبت اورحرام ہوگا اور اگر کوئی شخص فاسِقِ مُعْلِن (علی الاعلان گناہ کرنے والا)ہے تو ایسے شخص کی بُرائی بیان کرنا غیبت نہیں، یہی معاملہ میت کا ہے اگر مرنے والا بہت سے حوالوں سے اچھا ہے اس کی زیادہ تر عادتیں اچھی اور نیک ہیں لیکن کچھ خامیاں بھی ہیں تو اب اُس کی خامیوں کا ذکر کرنا جائز نہ ہوگا اور اگر مرنے والا بہت سے حوالوں سے بُرا ہے اس کے اندر برائیاں زیادہ ہیں تو ایسےشخص کی بُرائی کرنا غیبت نہیں۔مسلمانوں کا کسی کام کو اچھا اور باعث ثواب سمجھنا:مرآۃ المناجیح میں ہے:اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ جسے عام مسلمان قدرتی طور پروَلِیُّ اﷲکہیں وہ واقعیوَلِیُّ اﷲہے۔ربّ تعالیٰاولیاءاللّٰہکی علامت بیان فرماتا ہے:﴿ لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِؕ-﴾(پ۱۱،یونس:۶۴)یعنی ان کے لئے دنیا میں بھی بشارتیں ہیں کہ عام مسلمان انہیں جنتی کہتے ہیں اور آخرت میں بھی کہ فرشتے انہیں جنتی کہیں گے،لہٰذا حضورغوثِ پاک،خواجہ اجمیری،داتا گنج بخش لاہوری،مُجَدِّدِ اَلفِ ثانی یقیناً اَولیا ہیں کہ انہیں مسلمان ولی سمجھتے ہیں۔ولایت کے ثبوت کے لیے قرآنی آیت ہی ضروری نہیں۔دوسرے یہ کہ جو کام مسلمان اچھا اور ثواب سمجھیں وہ واقعی اچھا ہے لہٰذا گیارھویں میلادشریف،عرسِ بزرگان،ختمِ خواجگان وغیرہ کارِ ثواب ہیں کہ انہیں عام مسلمین، اولیاء،صالحین کارِ ثواب جانتے ہیں۔خیال رہے کہ مسلمانوں کی گواہی سےمومنین صالحین کی گواہی مراد ہے جو قدرتی طور پر منہ سے نکلتی ہے جس میں نفسانی بغض اور کینہ کو دخل نہیں ہوتا ورنہ رَوافض صحابہ کو، خَوارِج اہلِ بیت کو ، بعض بے دِین عُلما و صالحین کو برا کہتے ہیں وہ گواہی اس میں داخل نہیں۔خیال رہے کہ یہاں(حدیث پاک میں موجود لفظ)اَنْتُمْ(تم لوگ) میں صرف صحابہ سے خطاب نہیں بلکہ تاقیامت سارے نیک مؤمنوں سے(خطاب ہے) جیسے:﴿وَاَقِیْمُواالصَّلٰوةَ﴾(پ۱، البقرہ:۱۱۰)ترجمہ ٔکنزالایمان: نماز قائم رکھو۔)میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 950