باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 950
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنسٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرُّوْا بِجَنَازَةٍ فَاَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوْا بِاُخْرَى فَاَثنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَال النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: وَجَبَتْ، فَقَالَ عُمرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ:مَاوَجَبَتْ؟ قَالَ: هٰذَا اَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ،وَهٰذَا اَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، اَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِی الْاَرْضِ.
عن انس رضي الله عنه قال: مروا بجنازة فاثنوا عليها خيرا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وجبت، ثم مروا باخرى فاثنوا عليها شرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وجبت، فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه:ماوجبت؟ قال: هذا اثنيتم عليه خيرا فوجبت له الجنة،وهذا اثنيتم عليه شرا فوجبت له النار، انتم شهداء الله فی الارض.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ لوگ ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اُس مَیِّت کی تعریف بیان کی۔رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو لوگوں نے اُس مَیِّت کی بُرائی بیان کی۔حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”واجب ہوگئی۔“حضرت عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا چیز واجب ہوگئی؟ تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جس جنازے کی تم لوگوں نے خوبی بیان کی اُس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس جنازے کی تم لوگوں نے بُرائی بیان کی اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، تم لوگ زمین پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے گواہ ہو۔“
شرح حدیث
زمین پراللّٰہتعالیٰ کے گواہ کون ہیں؟اس حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہورہا ہے کہ اگر فاسق و فاجر لوگ بھی کسی میت کی تعریف بیان کریں تو اس کی بخشش ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں۔ چنانچہ اس کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”علمائے کرام کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی میت کی خوبیاں نیک اور متقی لوگ بیان کریں تو اُس کے لیے یہ فضیلت ہےکیونکہ بدکار اور فاسق لوگ تو اپنے جیسے فاسق کی تعریف کرتے ہیں تو اُن کے تعریف کرنے سے کوئی فاسق اس فضیلت میں داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی میت کے دشمن اُس کی برائی بیان کریں تو ان کے برائی کرنے سے وہ جہنم کا حقدار نہیں ہوجائے گا کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ نیک شخص کے دشمن ہوتے ہیں اور وہ اپنی عداوت کی وجہ سے اسے بُرا بھلا کہتے ہیں تو اُن کے بُرا کہنے سے وہ نیک شخص حدیث کی اس وعید میں داخل نہیں ہوگا۔ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض احادیث میں میت کو بُرا کہنے سے منع کیا گیا ہےلیکن حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت کردہ مذکورہ حدیث میں جب میت کی بُرائی بیان کی گئی تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منع کیوں نہیں فرمایا؟ اس کاایک جواب تو یہ ہےکہ جن احادیث میں میت کو بُرا کہنے سے منع کیا ہے اس سے کافر،منافق ،فاسِقِ مُعْلِن (علی الاعلان گناہ کرنے والا)اور بدعتی افراد خارج ہیں کہ مرنے کے بعد ان کی مذمت اس لئے کی جاتی ہے تاکہ مسلمان ان کے طریقے پر چلنے اور اُن کی اتباع و اقتدا کرنے سے بچیں اورمذکورہ حدیث میں جس میت کی بُرائی بیان کی گئی وہ ان میں سے ایک تھی۔امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:ظاہر یہ ہے کہ حدیث میں جس مُردے کی بُرائی بیان کی گئی وہ منافقین میں سے تھا۔اس بات کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے ہوتی جو سند صحیح کے ساتھ مروی ہےکہ” جس میت کی بُرائی بیان کی گئی نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کا جنازہ نہ پڑھا جبکہ دوسری میت کا جنازہ پڑھا۔“دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُوالی حدیث کا حکم وہی ہے جو زندوں کی غیبت کا ہے۔مثلاً اگرکوئی شخص بہت سے حوالوں سے اچھا ہے، نیک ہے لیکن اُس میں ایک آدھ بُرائی ہے تو ایسے شخص کی بُرائی بیان کرنا غیبت اورحرام ہوگا اور اگر کوئی شخص فاسِقِ مُعْلِن (علی الاعلان گناہ کرنے والا)ہے تو ایسے شخص کی بُرائی بیان کرنا غیبت نہیں، یہی معاملہ میت کا ہے اگر مرنے والا بہت سے حوالوں سے اچھا ہے اس کی زیادہ تر عادتیں اچھی اور نیک ہیں لیکن کچھ خامیاں بھی ہیں تو اب اُس کی خامیوں کا ذکر کرنا جائز نہ ہوگا اور اگر مرنے والا بہت سے حوالوں سے بُرا ہے اس کے اندر برائیاں زیادہ ہیں تو ایسےشخص کی بُرائی کرنا غیبت نہیں۔مسلمانوں کا کسی کام کو اچھا اور باعث ثواب سمجھنا:مرآۃ المناجیح میں ہے:اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ جسے عام مسلمان قدرتی طور پروَلِیُّ اﷲکہیں وہ واقعیوَلِیُّ اﷲہے۔ربّ تعالیٰاولیاءاللّٰہکی علامت بیان فرماتا ہے:﴿ لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِؕ-﴾(پ۱۱،یونس:۶۴)یعنی ان کے لئے دنیا میں بھی بشارتیں ہیں کہ عام مسلمان انہیں جنتی کہتے ہیں اور آخرت میں بھی کہ فرشتے انہیں جنتی کہیں گے،لہٰذا حضورغوثِ پاک،خواجہ اجمیری،داتا گنج بخش لاہوری،مُجَدِّدِ اَلفِ ثانی یقیناً اَولیا ہیں کہ انہیں مسلمان ولی سمجھتے ہیں۔ولایت کے ثبوت کے لیے قرآنی آیت ہی ضروری نہیں۔دوسرے یہ کہ جو کام مسلمان اچھا اور ثواب سمجھیں وہ واقعی اچھا ہے لہٰذا گیارھویں میلادشریف،عرسِ بزرگان،ختمِ خواجگان وغیرہ کارِ ثواب ہیں کہ انہیں عام مسلمین، اولیاء،صالحین کارِ ثواب جانتے ہیں۔خیال رہے کہ مسلمانوں کی گواہی سےمومنین صالحین کی گواہی مراد ہے جو قدرتی طور پر منہ سے نکلتی ہے جس میں نفسانی بغض اور کینہ کو دخل نہیں ہوتا ورنہ رَوافض صحابہ کو، خَوارِج اہلِ بیت کو ، بعض بے دِین عُلما و صالحین کو برا کہتے ہیں وہ گواہی اس میں داخل نہیں۔خیال رہے کہ یہاں(حدیث پاک میں موجود لفظ)اَنْتُمْ(تم لوگ) میں صرف صحابہ سے خطاب نہیں بلکہ تاقیامت سارے نیک مؤمنوں سے(خطاب ہے) جیسے:﴿وَاَقِیْمُواالصَّلٰوةَ﴾(پ۱، البقرہ:۱۱۰)ترجمہ ٔکنزالایمان: نماز قائم رکھو۔)میں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 950