باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ لوگ ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اُس مَیِّت کی تعریف بیان کی۔رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو لوگوں نے اُس مَیِّت کی بُرائی بیان کی۔حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”واجب ہوگئی۔“حضرت عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا چیز واجب ہوگئی؟ تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جس جنازے کی تم لوگوں نے خوبی بیان کی اُس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس جنازے کی تم لوگوں نے بُرائی بیان کی اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، تم لوگ زمین پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے گواہ ہو۔“

عَنْ اَنسٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرُّوْا بِجَنَازَةٍ فَاَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوْا بِاُخْرَى فَاَثنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَال النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: وَجَبَتْ، فَقَالَ عُمرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ:مَاوَجَبَتْ؟ قَالَ: هٰذَا اَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ،وَهٰذَا اَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، اَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِی الْاَرْضِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 950 ، باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان

حضرت ابُوالاَسودرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں مدینے آیا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ میں حضرت سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس بیٹھا ہوا تھا تو وہاں سے ایک جنازہ گزرا تو اُس کی تعریف کی گئی۔حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا :”واجب ہوگئی۔“پھر دوسرا جنازہ گزرا تو اُس کی بھی تعریف کی گئی۔ حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”واجب ہوگئی۔“ پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اُس کی بُرائی بیان کی گئی۔ حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”واجب ہوگئی۔“حضرت ابو الاسودرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کیا چیز واجب ہوگئی؟ حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”میں نےاسی طرح کہا ہے جس طرح نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاہے کہ ” جس مسلمان کے نیک ہونے کی گواہی چار مسلمان دے دیں تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمادیتا ہے۔“ ہم نے عرض کی:یارسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر تین مسلمان گواہی دیں تو؟ فرمایا :”اگر تین دیں تب بھی۔“ ہم نے عرض کی: اگر دو مسلمان گواہی دیں؟ فرمایا:”اگر دو دیں تب بھی۔“ پھر ہم نے ایک کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا۔

عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ قَالَ:قَدِمْتُ الْمَدِيْنَةَ فَجَلَسْتُ اِلى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَاُثْنِىَ عَلٰی صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِاُخْرَى فَاُثْنِىَ عَلٰی صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَاُثْنِيَ عَلٰی صَاحِبِهَا شَرًّا فَقَال عُمَرُ: وَجَبَتْ قَالَ اَبُو الْاَسْوَدِ فَقُلْتُ : وَمَا وَجَبَتْ يَا اَمِيْرَ الْمُؤمِنِيْنَ ؟ قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اَ يُّمَا مُسْلِـمٍ شَھِدَ لَهُ اَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ اَدْخَلَهُ اللہُ الْجَنَّةَ فَقُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ ؟ قَالَ : وَثَلاثَةٌ فَقُلْنَا: وَاثْنَانِ ؟ قَالَ : وَاثْنَانِ ثُمَّ لَمْ نَسْاَ لْهُ عَنِِ الْوَاحِدِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 951 ، باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان