Main Icon

باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 951

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ قَالَ:قَدِمْتُ الْمَدِيْنَةَ فَجَلَسْتُ اِلى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَاُثْنِىَ عَلٰی صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِاُخْرَى فَاُثْنِىَ عَلٰی صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَاُثْنِيَ عَلٰی صَاحِبِهَا شَرًّا فَقَال عُمَرُ: وَجَبَتْ قَالَ اَبُو الْاَسْوَدِ فَقُلْتُ : وَمَا وَجَبَتْ يَا اَمِيْرَ الْمُؤمِنِيْنَ ؟ قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اَ يُّمَا مُسْلِـمٍ شَھِدَ لَهُ اَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ اَدْخَلَهُ اللہُ الْجَنَّةَ فَقُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ ؟ قَالَ : وَثَلاثَةٌ فَقُلْنَا: وَاثْنَانِ ؟ قَالَ : وَاثْنَانِ ثُمَّ لَمْ نَسْاَ لْهُ عَنِِ الْوَاحِدِ.

عن ابی الاسود قال:قدمت المدينة فجلست الى عمر بن الخطاب رضي اللہ عنه فمرت بهم جنازة فاثنى علی صاحبها خيرا فقال عمر : وجبت ثم مر باخرى فاثنى علی صاحبها خيرا فقال عمر : وجبت ثم مر بالثالثة فاثني علی صاحبها شرا فقال عمر: وجبت قال ابو الاسود فقلت : وما وجبت يا امير المؤمنين ؟ قال: قلت كما قال النبي صلى الله عليه وسلم:ا يما مسلـم شھد له اربعة بخير ادخله اللہ الجنة فقلنا: وثلاثة ؟ قال : وثلاثة فقلنا: واثنان ؟ قال : واثنان ثم لم نسا له عن الواحد.

حدیث ترجمہ

حضرت ابُوالاَسودرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں مدینے آیا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ میں حضرت سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس بیٹھا ہوا تھا تو وہاں سے ایک جنازہ گزرا تو اُس کی تعریف کی گئی۔حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا :”واجب ہوگئی۔“پھر دوسرا جنازہ گزرا تو اُس کی بھی تعریف کی گئی۔ حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”واجب ہوگئی۔“ پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اُس کی بُرائی بیان کی گئی۔ حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”واجب ہوگئی۔“حضرت ابو الاسودرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کیا چیز واجب ہوگئی؟ حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”میں نےاسی طرح کہا ہے جس طرح نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاہے کہ ” جس مسلمان کے نیک ہونے کی گواہی چار مسلمان دے دیں تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمادیتا ہے۔“ ہم نے عرض کی:یارسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر تین مسلمان گواہی دیں تو؟ فرمایا :”اگر تین دیں تب بھی۔“ ہم نے عرض کی: اگر دو مسلمان گواہی دیں؟ فرمایا:”اگر دو دیں تب بھی۔“ پھر ہم نے ایک کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا۔

شرح حدیث

چار،تین اور دو کے عدد میں حکمت:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”بخاری کی روایت میں چار مسلمانوں کی گواہی کا ذِکر ہےجبکہ ترمذی کی روایت میں تین کا ذِکر ہے۔اگر یہ سوال کیا جائے کہ گواہی کے اس عددکے اختلاف یعنی چار،تین اور دو کے ذِکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ کبھی کسی کی تعریف لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہوتی ہے تو اس بارے میں گواہی کے اعتبار سے تَواتُر اور کثرت مستحب ہےاورچار گواہوں کی گواہی نصابِ شہادت میں سب سے اعلیٰ ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے زنا کی گواہی میں چار لوگوں کی گواہی کو رکھا ہے۔چارکے بعد پھر تین گواہوں کی گواہی ہے اور اس کے بعد دو کی اور یہ تمام حقوق کے سلسلے میں سب سے کم نصابِ شہادت ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے بندوں پر یہ مہربانی وکرم ہے کہ اس نے گواہی کے بارے میں اُمورِ آخرت کو دنیا کے اُمور کے مطابق رکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے ایک شخص کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا کیونکہ مُردے کے بارے میں گواہی دینے کا مقام بہت عظیم ہے جس میں نصابِ شہادت سے کم یعنی ایک شخص کی گواہی کافی نہیں۔“ربّ تعالیٰ کے مُحِبّ ومحبوب:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ممکن ہے کہ اگر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانایک آدمی کی گواہی کے بارے میں سوال کرتےتو حضور پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک آدمی کی گواہی پر بھی اسے جنتی قرار دیتے۔حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے یہ بشارتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے وُسعتِ رَحمت واُمید اور بندوں پر اُس کے فضل وکرم کا بیان ہے۔نیز اس امر کابھی بیان ہے کہ بندوں کو اس کی بارگاہِ رحمت سے توقع اور اُمید وابستہ رکھنی چاہیے۔ہوسکتا ہے جب صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےتین اور دو آدمیوں کی گواہی کا سوال کیا تو نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بارگاہِ خداوندی میں توجہ اور عرض کی ہو تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے وحی نازل ہوگئی ہو کہ ایسا ہی ہوگا جس طرح اے حبیب! تو کہہ رہا ہےکیونکہ حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرب تعالیٰ سے راضی اور خوش اور رب تعالیٰ آپ سے راضی اور خوش ہے،نیزآپ اس کی بارگاہ میں محب ومحبوب ہیں،آیہ کریمہ:﴿وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵)﴾(پ۳۰،الضحی:۵)( ترجمہ ٔکنزالایمان:اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔)اِس بات کی نشانی ہے۔“میت کے ملنے جلنے والے تعریف کریں:مرنے کے بعد میت کو جن نیک اور متقی لوگوں کی تعریف سے فائدہ ہوتا ہے وہ کون لوگ ہیں؟کیا صرف وہ لوگ ہی مراد ہیں جن کے ساتھ وہ ملتا جلتا رہا اور جو اس کا حال احوال جانتے ہیں یا یہ اپنے عموم پر ہےخواہ وہ اس کا حال احوال جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں؟ ظاہر یہی ہے کہ یہاں مراد وہ لوگ ہی ہیں جن کےساتھ مردہ ملتا جلتا رہا اور جو اس کا حال احوال جانتے ہیں۔اس بات کی تائید حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی اس روایت سے ہوتی ہے کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جوبھی مسلمان مرے اور اس کے قریب کےچار پڑوسی یہ گواہی دیں کہ ہم اس کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:میں نے تمہاری بات کو قبول کیا اور اس بارے میں بھی اس کی مغفرت کردی جسے تم نہیں جانتے۔“کرمِ خاص:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا اِس اُمَّت پر یہ کرمِ خاص ہے کہ اپنے بندوں کے منہ سے نکلی ہوئی بات قبول فرمالیتا ہےحتّٰی کہ ایک حدیث میں ہے:کبھی بندے کو عوام کی جانب سے تعریف،پردہ پوشی اور محبت ملتی ہےتو محافظ فرشتے یہ کہتے ہیں:اے رب! تو بھی جانتا ہے اور ہم بھی اس کے خلاف جانتے ہیں جو لوگ کہتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:گواہ ہوجاؤ کہ یہ لوگ جو نہیں جانتے اسے میں نے بخش دیا اور ان کی شہادت قبول کرلی۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”ہمارے شیخ زَین الدینرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ میت کی ایسی تعریف سے بھی میت کو فائدہ ہوتا ہے جو خلافِ واقع ہو کیونکہ اگر ایسی تعریف سے ہی فائدہ ہوتا جو واقع کے مطابق ہو تو پھر میت کی تعریف کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔“میت کی خوبیاں بیان کرو:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں اَحادیث سے ایک بات یہ پتا چلی کہ مرنے کے بعد میت کی برائیاں بیان نہ کی جائیں۔ اگر میت نیک ہے تو اس کی اچھائیوں کو بیان کرنا چاہیے اور اگر میت گنہگار ہے تو بلا وجہ شرعی اُس کی عیب جوئی سے بچنا چاہیے۔چنانچہ حضرت ابنِ عائذرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک شخص کے جنازے میں تشریف لے گئے۔ جب جنازہ رکھا گیا تو ایک شخص نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھیئے کیونکہ یہ فاجر آدمی ہے۔رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: کیا تم میں سے کسی نے اسے اسلامی کام پر دیکھا ہے؟ ایک شخص نے عرض کی: ہاںیارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس نے ایک رات راہِ خدا میں پہرہ دیا تھا۔یہ سن کررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر مٹی ڈالی پھر فرمایا:”تیرے ساتھی گمان کرتے ہیں کہ تو دوزخی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جنتیوں میں سے ہے۔“ اور پھر جنازہ نہ پڑھنے کیلئے عرض کرنے والے سے ارشاد فرمایا:”تم سے لوگوں کے اعمال کے متعلق پوچھ گچھ نہ ہوگی لیکن تم سے اسلام کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی۔“
حدیث کے ان الفاظ ”تم سے لوگوں کے اعمال کے متعلق پوچھ گچھ نہ ہوگی۔“کے تحت
مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی دنیا میں ہم اور سارے مسلمان تم سے کسی میت کے بُرے اعمال کے متعلق نہ پوچھیں گے لہٰذا تم ایسے موقع پر کسی مسلمان کے گناہ بیان نہ کرنا،عیب پوشی سے کام لینا، دیکھو ہم نے اس کی نیکی کی تو گواہی لی مگر گناہوں کی گواہی نہ لی،اپنے مسلمان مُردوں کو بھلائی سے یاد کیا کرنا۔
واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سنّی مَرے
یوں نہ فرمائیں ترے شاہد کہ وہ فاجر گیا
عرش پر دھومیں مچیں وہ مومنِ صالح ملا
فرش سے ماتم اُٹھے وہ طیب و طاہر گیا
مدنی گلدستہ’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اگر نیک اور متقی لوگ کسی میت کی تعریف کریں تو رَحمتِ الٰہی سے امید ہے کہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی مغفرت فرمادے۔
(2) نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممرنے والوں کا حال بھی جانتے ہیں کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی؟
(3) بلا وجہ کسی مسلمان میت کے عیب بیان نہ کیے جائیں۔
(4) عام مسلمان جسے قدرتی طور پر نیک سمجھیں وہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں بھی نیک ہوتا ہے۔
(5) مسلمان مُردوں کو اچھے الفاظ میں یاد کرنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے مرحوم اسلامی بھائیوں کی بُرائیاں بیان کرنے سے بچائے اور اُن کی تعریف کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 951