Main Icon

عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 281

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا دَعَا الرَّجُلُ اِمْرَاَتَہُ اِلَی فِرَاشِہِ فَلَمْ تَاْتِہِ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَیْھَا لَعَنَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ حَتَّی تُصْبِحَ.( )وَفِی رِوَایَۃٍ لَھُمَا اِذَا بَاتَتِ الْمَرْاَۃُ ھَاجِرَۃً فِرَاشَ زَوْجِھَا لَعَنَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ حَتَّی تُصْبِحَ.( )وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا مِنْ رَجُلٍ یَدْعُو امْرَاَتَہُ اِلَی فِرَاشِہِ فَتَاْبَی عَلَیْہِ اِلَّا کَانَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ سَاخِطاً عَلَیْھَا حَتَّی یَرْضَی عَنْھَا.( )

عن ابی ھریرۃ رضي الله عنه قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دعا الرجل امراتہ الی فراشہ فلم تاتہ فبات غضبان علیھا لعنتھا الملائکۃ حتی تصبح.( )وفی روایۃ لھما اذا باتت المراۃ ھاجرۃ فراش زوجھا لعنتھا الملائکۃ حتی تصبح.( )وفی روایۃ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ ما من رجل یدعو امراتہ الی فراشہ فتابی علیہ الا کان الذی فی السماء ساخطا علیھا حتی یرضی عنھا.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ عورت نہ آئے ، پھر اُس کا شوہر ناراضی کی حالت میں رات گزارے تو فرشتے صبح ہونے تک اُس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ‘‘ صحیحین کی روایت میں ہے : ’’جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر سے علیحدہ رات گزارے تو صبح تک فرشتے اُس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے : رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے

سے انکار کردے تو آسمان والوں کا مالک یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس عورت سے اُس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک کہ اُس کا شوہر اُس سے راضی نہ ہوجائے۔ ‘‘

شرح حدیث

شوہر کی اِتباع کرنا لازم ہے:مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ عورت پر اپنے شوہر کی اِتباع کرنا لازم ہے وہ اسے کسی وقت بھی بلائے ، دن میں یا رات میں جماع کے لیے یا خدمت کے لیے ، عورت اُس سے انکار نہیں کرسکتی یہاں تک کہ روایت میں آتا ہے کہ جس عورت سے اُس کا شوہر ناراض ہو اُس کی نہ نماز قبول ہوتی ہے اور نہ کوئی اور نیکی۔ چنانچہ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّین عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’آدمی اپنی بیوی کو بستر پر یعنی جماع کے لیے بلائے اور وہ آنے سے انکار کرے تو صبح تک فرشتے اُس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ “ صبح تک “ سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ رات میں جب یہ واقعہ ہو تو فرشتے صبح تک لعنت کرتے ہیں لیکن رات کی کوئی قید نہیں۔ اِس کا ذکر اِس لیے کیا کہ جماع غالباً رات کے وقت ہوتا ہے ، ورنہ یہ رات دن دونوں کو شامل ہے (یعنی چاہے مرد رات میں بیوی کو جماع کے لیے بلائے یا دن میں)۔ ابنِ خزیمہ اور ابنِ حبان میں حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ تین اَفراد ایسے ہیں کہ جن کی نماز قبول نہیں اور نہ اُن کی کوئی نیکی آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے : (1)بھاگا ہوا غلام جب تک کہ مالک کے پاس واپس نہ لوٹے۔ (2)نشہ کرنے والا حتی کہ اُس کا نشہ زائل ہوجائے۔ (3) وہ عورت جس سے اُس کا شوہر ناراض ہو حتّٰی کہ وہ اُس سے راضی ہوجائے۔ یہ روایت مطلق ہے جس سے معلوم ہوا کہ رات اور دن دونوں کو شامل ہے۔ ‘‘( )لعنت بھیجنے کی وجہ:مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ ’’فرشتے اُس عورت پر لعنت کرتے ہیں۔ ‘‘ لعنت کرنے کی وجہ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کچھ یوں بیان فرماتے ہیں : ’’ عورت ہر نیک و جائز کام میں اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبراری پر مامور ہے اِس لیے اگر وہ مامور بہ کاموں سے منع کرے تو فرشتے اُس پر لعنت کرتے

ہیں ، نیز حالتِ حیض میں بھی وہ انکار نہ کرے کیونکہ جمہور علماء کے نزدیک حالت حیض میں بھی شوہر ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے حصے کے علاوہ سے نفع اٹھا سکتا ہے ۔ ( )
حالت حیض میں جماع کرنا حرام ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ حیض ونفاس کی حالت میں شوہر اپنی زوجہ کے گھٹنوں سے لے کر ناف تک کے علاوہ دیگر حصے سے نفع اٹھا سکتا ہے ، اِس مخصوص حصے سے نفع اٹھانا یا جماع کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ-(پ۲ ، البقرۃ : ۲۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان : تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا۔
صدرُالشریعہ ، بدرُالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ہم بستری یعنی جماع اِس حالت (حیض ونفاس)میں حرام ہے۔ ایسی حالت میں جِماع جائز جاننا کفر ہے اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سَخْت گنہگار ہوا ، اِس پر توبہ فرض ہے اور آمد کے زمانہ میں کیا تو ایک دیناراور قریب ختم کے کیا تو نصف دینار خیرات کرنا مُسْتَحَب۔ اِس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عُضْوْ سے چھونا جائز نہیں جبکہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شَہوت سے ہویا بے شَہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حَرَج نہیں۔ ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں ، یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے۔ ‘‘( )
بیوی کو شوہر کا ساتھ دینا چاہیے:علامہ عینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیوی کو شوہر کا ساتھ دینا چاہیے

اور اُس کو راضی رکھنا چاہیے ، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کا ترکِ جماع پر صبر کرنا یعنی جماع سے رُکے رہنا مَرد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے جبکہ مَرد زیادہ عرصے نہیں رُک سکتا ، اِسی لیےحضور نبی کریم عَلَیْہِ السَّلَام نے عورت کو مَرد کا ساتھ دینےکی ترغیب دی۔ ‘‘( )
شوہر کی رضا میں رب کی رضا ہے:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اِس سے معلوم ہوا کہ شوہر کی رضا میں رب کی رضا ہے اور شوہر کی ناراضی میں ربّ کی ناراضی ہے اورسوچو کہ قضائے شہوت میں شوہر کی رضامندی اتنی اہم ہے تو پھر دِین کے معاملے میں اُس کی رضا و ناراضی کی کس قدر اہمیت ہوگی۔ ( )’’آسمان والوں کا مالک‘‘کے معنٰی:حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ جس عورت سے اس کا شوہر ناراض ہو اس سے آسمان والوں کا مالک عَزَّوَجَلَّ ناراض ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو آسمان اور زمین والوں سب کا مالک ہے تو پھر صرف آسمان والوں کا ذکر کیوں کیا؟اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ جس کی حکومت ، ملکیت ، آسمان میں بھی ہے ، خود ارشاد فرماتا ہے : )فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ-((پ۲۵ ، الزخرف : ۸۴) (ترجمۂ کنزالایمان : ’’آسمان والوں کا خدا اور زمین والوں کا خدا۔ ‘‘)اگرچہ زمین و آسمان والا مکان سب ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ملکیت ہیں ، مگر چونکہ آسمان فیض دینے والا ہے ، زمین فیض لینے والی ، اِس حیثیت سے آسمان زمین سے اَشرف ہے۔ اِسی لیے صِرف آسمان کا ذکر ہوا یا یہ مراد ہے کہ آسمان میں رہنے والے فرشتوں کا خدا ، تب یہ حدیث پچھلے مضمون کے موافق ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ آسمان میں رہنے والے فرشتے زمین والوں کے ہر کھلے چھپے حالات سے خبردار ہیں تو حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا علم اُن فرشتوں سے کہیں زیادہ ہے ، آپ بھی ہمارے

ظاہر و پوشیدہ حالات سے باخبر ہیں۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’حق زوج‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)ہر جائز اور نیک کاموں میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کرنا لازم ہے۔
(2)جس عورت سے اس کا شوہر ناراض ہو اس کی نماز قبول ہوتی ہے نہ کوئی نیکی۔
(3)جس عورت سے اس کا شوہر ناراض ہو اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی ناراض ہوجاتا ہے بشرطیکہ جائز کام پر ناراض ہوا ہو ، اِس لیے عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہروں کو راضی رکھیں۔
(4)عورت کواپنے شوہر کی موافقت کرنی چاہیے اور تمام جائز اُمور میں اُس کا ساتھ دینا چاہیے۔
(5)فرشتوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّکی عطا سے زمین والوں کے اَعمال کی خبر ہوتی ہےتو فرشتے جن کے در کے خادم ہیں یعنی ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُنہیں کیسے ہمارے اَعمال کی خبر نہ ہوگی ، یقیناً آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ہمارے اَعمال سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے باخبر ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہماری خواتین کو اپنے شوہروں کی ہر جائز امر میں اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، انہیں ناراض کرنے کے بجائے خوش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 281