Main Icon

عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 282

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَيْضًا اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: لاَ يَحِلُّ لِلْمَرْاَةِ اَنْ تَصُوْمَ

وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ اِلَّا بِاِذْنِهِ وَلاَ تَاْذَنَ فِى بَيْتِهِ اِلَّا بِاِذْنِهِ. ( )

عن أبى هريرة رضى الله عنه ايضا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل للمراة ان تصوم

وزوجها شاهد الا باذنه ولا تاذن فى بيته الا باذنه. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ میٹھے میٹھے آقا ، مکی مدنی مصطفے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : “ کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی روزہ) رکھےاور کسی کو اس کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دے ۔ “

شرح حدیث

رمضان کے علاوہ نفلی روزوں کی مُمانعت:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ابو داود کی روایت میں ہے کہ ’’عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اُس کی اجازت کے بغیر رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے کے (یعنی نفلی) روزے نہ رکھے۔ ‘‘حدیث پاک میں فرمایا گیا : “ شوہر کی موجودگی میں۔ “ یعنی خاوند اُسی شہر میں مقیم ہو ، کہیں سفر پر گیا ہوا نہ ہو۔ اگر وہ کہیں گیا ہوا ہے تو عورت اُس کی اجازت کے بغیر بھی روزے رکھ سکتی ہے کیونکہ اِس صورت میں اُس کا شوہر فی الحال اُس کے پاس نفع اُٹھانے نہیں آسکتا۔ علامہ کرمانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں : ’’یہ ممانعت مکروہِ تحریمی ہے۔ ‘‘ جبکہ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی اور ہمارے بعض اَصحاب نے کہا : “ شوہر کی اِجازت کے بغیر روزہ رکھنا مکروہ ہے اگر رکھ لیا تو روزہ ہوجائے گا لیکن گناہ گار ہوگی۔ ‘‘( )رمضان اور قضائے رمضان کے روزوں کا حکم:صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : عورت بغیر شوہر کی اِجازت کے نفل اور منّت و قسم کے روزے نہ رکھے اور رکھ لیے تو شوہر توڑوا سکتا ہے مگر توڑے گی تو قضا واجب ہوگی ، مگر اُس کی قضا میں بھی شوہر کی اجازت درکار ہے یا شوہر اور اُس کے درمیان جدائی ہو جائے یعنی طلاق بائن دیدے یا مَر جائے۔ ہاں اگر روزہ رکھنے میں شوہر کا کچھ حرج نہ ہو مثلاً وہ سفر میں ہے یا بیمار ہے یا اِحرام میں ہے تو اِن حالتوں میں بغیر اِجازت کے بھی قضا رکھ سکتی ہے بلکہ اگر وہ منع کرے جب بھی اور اِن

دنوں میں بھی بے اِس کی اجازت کے نفل نہیں رکھ سکتی۔ رمضان اور قضائے رمضان کے لیے شوہر کی اجازت کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ اُس کی ممانعت پر بھی رکھے۔ ( )
غیرمرد وغیرعورت کے داخلے کی ممانعت:حدیثِ پاک میں فرمایا گیا کہ ’’عورت اپنے شوہر کی اِجازت کے بغیر کسی کو اُس کے گھر میں نہ آنے دے۔ “ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اِس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کی اِجازت کے بغیر کسی مَرد کو یا اُس عورت کو آنے نہ دے جس کو اُس کا شوہر ناپسند کرتا ہے کیونکہ اِس سے بدگمانی ہوگی اور مَرد کی غیرت جاگے گی اور یہ بات اُن کے درمیان قطع تعلق کا سبب بن جائے گی۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’ طاعت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اُس کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھےالبتہ غیر موجودگی میں رکھ سکتی ہے۔
(2)قضائے رمضان کے روزے رکھنے کے لیے شوہر کی اجازت ضروری نہیں۔
(3)بیوی کو چاہیے کہ اپنے شوہر کی اِجازت کے بغیر کسی بھی مرد یا ایسی عورت کو گھر میں نہ آنے دے جس کا آنا اُس کے شوہر کو پسند نہ ہو۔
(4)عورت ہر اُس کام سے بچے جو شوہر کو ناپسند ہو کیونکہ ایسا کام قطع تعلقی کا سبب بن سکتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام فرائض وواجبات کی صحیح طریقے سے ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہماری خواتین کو اپنے شوہروں کی اِطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 282